رابطہ صحافت اسلامی ہند

تعارف
رابطہ صحافت اسلامی

گزشتہ چند صدیوںکے دوران سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں جو ترقیات ہوئی ہیںانہوںنے کئی اعتبار سے عالم انسانیت پر گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔مثلا ً طویل وعریض دنیا سائنسی وتکنیکی ترقی کے نتیجہ میں ایک چھوٹے سے گائوںکی شکل میں تبدیل ہوچکی ہے۔دنیا کے کسی بھی حصہ میں پہنچنے کے لئے اب سالوںیا مہینوںکی ضرورت نہیں بلکہ چند دنوںیا گھنٹوںمیںہزاروںکلومیٹر کی مسافت طے کی جاسکتی ہے۔رابطے اور ترسیلِ پیغام کا کام اورزیادہ آسان ہوگیاہے یعنی دنیاکے کسی بھی حصہ میں کسی سے رابطہ کرنے کے لئے یا پیغام وتحریری مواد ارسال کرنے کے لئے چندسکنڈیامنٹ کافی ہیں۔ٹیلی مواصلات کے ذریعہ براہ راست دوردراز کے ممالک کے لوگ باہم بات چیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گفتگوکرتے ہوئے دیکھتے بھی ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا کی وسعتوںکو سمیٹنے میںانٹرنیٹ نے نسبتاً زیادہ کلیدی رول ادا کیاہے۔انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال نے اب بہت کچھ آن لائن کردیاہے۔ تعلیم،تجارت،اخبارات ورسائل،کتابیںاور بے شمار تفریحی سامان آن لائن دستیاب ہیں۔
عالمی سطح پر رونما ہونے والی اس تبدیلی نے جن چیزوںکونئی جہت دینے کی کوشش کی ہے ان میں ذرائع ابلاغ کوسرفہرست رکھاجاسکتاہے۔فی زمانہ ذرائع ابلاغ کو اس حد تک وسعت دے دی گئی ہے کہ چند صدیوں قبل اس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔آج کا انسان صبح آنکھ کھولتے کے ساتھ ہی ٹی وی یا ریڈیوکی وساطت سے دنیابھر کی اہم خبروں سے روشناس ہوجاتاہے۔انٹر نیٹ کے ذریعہ اپنے من چاہے اخبارات کا مطالعہ کرلیتاہے۔آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں بھی انٹر نیٹ پر ڈھیر سارا مواد موجودہے ۔21؍صدی میںذرائع ابلاغ کی اس مقبولیت کو اگرتعمیری واصلاحی طورپر استعمال کیاجاتا تو بلاشک وشبہ بنی نوع انساں کی بڑے پیمانہ پر خدمت کی جاسکتی تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا جتنا استعمال تخریب کاری کے لئے کیا جارہا ہے ، اس کا عشرعشیر بھی استعمال تعمیری واصلاحی کاموں کے لئے نہیں کیاجارہا ہے۔میڈیا کے ذریعہ منفی خبروں اور نظریوںکی اس اندازسے تشہیر کی جارہی ہے کہ نئی نسل صحیح ودرست اور حق وباطل کے مابین فرق نہ کرسکے۔ فحش مواد کاجال اخبارات ورسائل، ٹی وی ،ریڈیواور انٹر نیٹ کے میدانوں میں اس طرح پھیلایاجارہا ہے کہ قارئین اور ناظرین اس میں پھنسے بغیر نہ رہ سکیں۔ایسا لگتاہے کہ الیکٹرانک ااور پرنٹ میڈیاپر یا تو تجارتی ذہن رکھنے والی کمپنیاں قابض ہیں یا منفی افکارونظریات رکھنے والے گروہوں کا ان پر تسلط ہے۔ نتیجہ یہ کہ دنیا بھرمیں افراتفری کا ساماحول ہے، انسانی زندگی کے ہر شعبے میں فساد برپاہوچکا ہے، مادیت پسندی وہوس پرستی نے انسانی زندگی کا گویا دھاراہی موڑدیا ہے۔اگر میڈیا کے بے جا استعمال پرقدغن نہ لگائی گئی تو آگے چل کریہ مزید خطرناک شکل اختیارکرسکتاہے اور آنے وال نسلوںکو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔
میڈیا کو انسانیت کے حق میں بہتربنانے کے لئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کی تطہیر کا عمل شروع کردیاجائے اور اس کے لئے سب سے موثر بات یہ ہے کہ میڈیاکو تجارت پیشہ اور منفی سوچ کے حامل عناصر وگروہوں سے نجات دلائی جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ میڈیا میںخداترس ، انسانیت کی خدمت کا سچا جذبہ رکھنے والے ، سنجیدہ ، بردبار اور انصاف پسند لوگوںکی شمولیت ہو۔میڈیاکے میدان میں ایسے لوگوںکو جمع کرنے کے دوطریقے ہیں۔اول یہ کہ ایسے افرادکو صحافی و مصنف بنایاجائے جو نیک وایماندار ہوں۔دوم یہ کہ جولوگ اس وقت صحافت کی زمام سنبھالے ہوئے ہیں ، ان کی اس طورپر ذہن سازی کی جائے کہ وہ جھوٹی خبروںکی تشہیر سے بچیں، منفی پیغام دینے والے پروگرام بنانے کے قریب بھی نہ جائیںاور جو کچھ لکھیں سچ لکھیں اور انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر لکھیں ۔
وقت کے اسی تقاضے کی جانب توجہ دیتے ہوئے گزشتہ دنوں’’رابطہ صحافت اسلامی‘‘ کے نام سے ایک تربیتی پروگرام تشکیل دیاگیاجس کے تحت نہ صرف نئے سیکھنے والوںکوفن صحافت سکھانے کا بلکہ ماہر صحافیوںکو بھی اس سے جوڑنے کافیصلہ لیاگیاہے تاکہ سب مل کر میڈیا کی شکل کو سنوارنے میں اہم رول اداکرسکیں۔اس پروگرام کے تحت ایک ویب سائٹ www.baseeratonline.comبھی بنائی جاچکی ہے جس پر اردوزبان میں ’’ بصیرت ‘‘ کے نام سے روزانہ اخبار شائع کیا جا رہا ہے،جوکہ اردودنیاکاپہلا آن لائن اخبار ہے جو24 گھنٹہ اپڈیٹ رہتاہے۔ اس کے علاوہ جلد ہی اس ویب سائٹ کی عربی، انگریزی اورہندی میگزین کی اشاعت شروع ہونے والی ہے۔اس ویب سائٹ پر مختلف قسم کا ایسا مواد اَپ لوڈ کیاجائے گا جو قارئین وناظرین کے لئے جہاں دلچسپی کا ذریعہ ہو،وہیں ان کے لئے مفید واہم بھی ثابت ہو۔اس ویب سائٹ پر صرف ماہر صحافی ومصنفین کی نگارشات ہی شائع نہیں کی جائیں گی بلکہ نوآموز اور نئے لکھنے والوں کی تحریروں کو بھی جگہ دی جائے گی تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو، نئی صلاحیتیں منظرعام پر آئیں اور وہ پختہ قلم کار بن جائیں۔ساتھ ہی مثبت اور تعمیری صحافت کے لئے عوام الناس میں بیداری پیداکرنے کی غرض سے مختلف موضوعات پر پروگراموں، کانفرنسوںاور سیمیناروںکا انعقاد بھی کیاجائے گا۔

مقاصدومنصوبے
٭ ماہر ایماندار صحافی ومضمون نگار تیارکرنا۔
٭ قلم کاروں،صحافیوں اورمصنفو ںکو جوڑنا۔
٭ میڈیاکے درست استعمال پر زوردینا۔
٭ صحافیوںکو اس بات کے لئے تیارکرنا کہ وہ صحافت کے ذریعہ انسانیت کی خدمت کریں۔
٭ اہم موضوعات پر کانفرنسیں، سیمناراور پروگرام منعقد کرانا تاکہ نت نئے اور پے چیدہ مسائل کے حل کی راہیں سامنے آسکیں۔
٭ اہم مسائل وموضوعات پر مبنی کتابیں ،پمفلٹ وغیرہ شائع کرنا۔
٭ مختلف مقامات پر وقتاً فوقتاً صحافت کے تربیتی کیمپ لگانا اور باضابطہ صحافت کی کلاسوںکانظم کرنا۔
www.baseeratonline.com