ہمارے بارے میں

بصیرت آن لائن کا مختصر تعارف

گزشتہ چند صدیوں کے دوران سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں جو ترقیات ہوئی ہیں انہوں نے کئی اعتبار سے عالمِ انسانیت پر گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔مثلا ً طویل وعریض دنیا سائنسی وتکنیکی ترقی کے نتیجہ میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں تبدیل ہوچکی ہے۔دنیا کے کسی بھی حصہ میں پہنچنے کے لئے اب سالوں یا مہینوں کی ضرورت نہیں بلکہ چند دنوں یا گھنٹوں میں ہزاروں کلومیٹر کی مسافت طے کی جاسکتی ہے۔رابطے اور ترسیلِ پیغام کا کام اور زیادہ آسان ہوگیاہے، یعنی دنیاکے کسی بھی حصہ میں کسی سے رابطہ کرنے کے لئے یا پیغام وتحریری مواد ارسال کرنے کے لئے چندسکنڈیامنٹ کافی ہیں۔ ٹیلی مواصلات کے ذریعہ براہ راست دوردراز کے ممالک کے لوگ باہم بات چیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گفتگوکرتے ہوئے دیکھتے بھی ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا کی وسعتوں کو سمیٹنے میں انٹرنیٹ نے نسبتاً زیادہ کلیدی رول ادا کیاہے۔انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال نے اب بہت کچھ آن لائن کردیاہے۔ تعلیم، تجارت،اخبارات ورسائل، کتابیں اور بے شمار تفریحی سامان آن لائن دستیاب ہیں۔
عالمی سطح پر رونما ہونے والی اس تبدیلی نے جن چیزوں کونئی جہت دینے کی کوشش کی ہے ان میں ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کوسرفہرست رکھا جاسکتاہے۔فی زمانہ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کو اس حد تک وسعت دے دی گئی ہے کہ چند صدیوں قبل اس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔آج کا انسان صبح آنکھ کھولنے کے ساتھ ہی ٹی وی یا ریڈیوکی وساطت سے دنیابھر کی اہم خبروں سے روشناس ہوجاتاہے۔انٹر نیٹ کے ذریعہ اپنے من چاہے اخبارات کا مطالعہ کرلیتاہے۔آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں بھی انٹر نیٹ پر ڈھیر سارا مواد موجودہے ۔21؍ویں صدی میں ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کی اس مقبولیت کو اگرتعمیری واصلاحی طورپر استعمال کیاجاتا تو بلاشک وشبہ بنی نوع انساں کی بڑے پیمانہ پر خدمت کی جاسکتی تھی؛ لیکن المیہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا جتنا استعمال تخریب کاری کے لئے کیا جارہا ہے ، اس کا عشرعشیر بھی استعمال تعمیری واصلاحی کاموں کے لئے نہیں کیاجارہا ہے۔میڈیا کے ذریعہ منفی خبروں اور نظریوں کی اس اندازسے تشہیر کی جارہی ہے کہ نئی نسل صحیح ودرست اور حق وباطل کے مابین فرق نہ کرسکے۔ فحش مواد کاجال اخبارات ورسائل، ٹی وی ،ریڈیواور انٹر نیٹ کے میدانوں میں اس طرح پھیلایاجارہا ہے کہ قارئین اور ناظرین اس میں پھنسے بغیر نہ رہ سکیں۔ایسا لگتاہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاپر یا تو تجارتی ذہن رکھنے والی کمپنیاں قابض ہیں یا منفی افکار و نظریات رکھنے والے گروہوں کا ان پر تسلط ہے۔ نتیجہ یہ کہ دنیا بھرمیں افراتفری کا ساماحول ہے، انسانی زندگی کے ہر شعبے میں فساد برپا ہوچکا ہے، مادیت پسندی وہوس پرستی نے انسانی زندگی کا گویا دھاراہی موڑدیا ہے۔اگر میڈیا کے بے جا استعمال پرقدغن نہ لگائی گئی تو آگے چل کریہ مزید خطرناک شکل اختیارکرسکتاہے اور آنے وال نسلوں کو اس سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔
میڈیا کو انسانیت کے حق میں بہتربنانے کے لئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کی تطہیر کا عمل شروع کردیاجائے اور اس کے لئے سب سے موثر بات یہ ہے کہ میڈیاکو تجارت پیشہ اور منفی سوچ کے حامل عناصر وگروہوں سے نجات دلائی جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ میڈیا میں خداترس ، انسانیت کی خدمت کا سچا جذبہ رکھنے والے ، سنجیدہ ، بردبار اور انصاف پسند لوگوں کی شمولیت ہو۔میڈیاکے میدان میں ایسے لوگوں کو جمع کرنے کے دوطریقے ہیں۔اول یہ کہ ایسے افرادکو صحافی و مصنف بنایاجائے جو نیک وایماندار ہوں۔دوم یہ کہ جولوگ اس وقت صحافت کی زمام سنبھالے ہوئے ہیں ، ان کی اس طورپر ذہن سازی کی جائے کہ وہ جھوٹی خبروں کی تشہیر سے بچیں، منفی پیغام دینے والے پروگرام بنانے کے قریب بھی نہ جائیں اور جو کچھ لکھیں، سچ لکھیں اور انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر لکھیں ۔
وقت کے اسی تقاضے کی جانب توجہ دیتے ہوئے آج سے چندسالوں قبل سن 2012 میں انٹرنیٹ پر ’’بصیرت آن لائن ‘‘ www.baseeratonline.comکے نام سے ایک ’’نیوزپورٹل‘‘ کی شروعات کی گئی جس کے تحت نہ صرف نئے سیکھنے والوں کوفنِ صحافت سکھانے کا بلکہ ماہر صحافیوں کو بھی اس سے جوڑنے کافیصلہ لیاگیا تاکہ سب مل کر میڈیا کی شکل کو سنوارنے میں اہم رول اداکرسکیں۔
’’ بصیرت آن لائن ‘‘ ایک ایسانیوزپورٹل ہے جوہندوستان میں پہلا ’’اردو آن لائن اخبار‘‘ ہے جو24 گھنٹہ اپڈیٹ رہتاہے۔’’ بصیرت میڈیا گروپ‘‘ نے بعدمیں چل کر اسے ہندی اورانگریزی میں بھی شروع کیاتھالیکن پے درپے سائبرحملوں کی وجہ سے مجبوراً ہندی اورانگریزی کی سروس کو بندکرنا پڑا۔’’بصیرت آن لائن‘‘ نے ابتدامیں ہی اپنانصب العین بنایاتھاکہ وہ خبروں کی ترسیل،مضامین کے انتخاب اورمختلف کالمس کوپیش کرنے میں خالص اسلامی صحافت کے اصولوں پرعمل پیرارہے گا اورالحمدللہ !ہمیں یہ کہنے میں ذرابھی تامل نہیں ہے کہ ابتدائے قیام سے اب تک ’’بصیرت آن لائن‘‘اپنے اس مقصدمیں مکمل طورپرکامیاب ہے۔جس وقت ’’بصیرت آن لائن‘‘ کاآغازہواتھا،اس وقت آن لائن صحافت کی دنیامیں چندمخصوص ویب سائٹ تھیں، جن کا دائرہ کاربہت ہی محدوداورنصب العین بہت واضح نہیں تھا،تخلیقات اورنگارشات کی اشاعت میں نوآموزقلم کاروں کونظراندازکرنے کاچلن عام تھا۔لیکن ’’بصیرت آن لائن‘‘نے ابتداء ہی سے اپنے اغراض ومقاصدمیں نوآموزقلم کاروں کی تخلیقات ونگارشات کوشائع کرکے ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنے کو اولین ترجیحات میں شامل رکھاجس کی وجہ سے بہت قلیل عرصہ میں نئی نسل پرمشتمل قلمکاروں اورصحافیوں کی ایک بڑی تعدادمیدان صحافت میں قسمت آزمائی کوتیارہوگئی اور’’آن لائن میڈیا‘‘کے علاوہ’’پرنٹ میڈیا‘‘اوراردوکے معیاری ومستنداخبارات نوجوان قلم کاروں کی تخلیقات کواپنے یہاں ترجیحی بنیادوں پرشائع کرنے لگے،ان سے متاثرہوکرنوجوانوں کی بڑی تعدادنے پیشہ کے طورپرفن صحافت کواپنایااورآج ملک بھرمیں نوجوان صحافیوں کی بڑی تعداداپنی فکری وتعمیری صحافت سے ملک وملت کی خدمات انجام دے رہی ہے۔یقینااس کا سہرا’’بصیرت آن لائن‘‘ کوجاتاہے۔ملک کے اکابرعلماء ودانشوران نے ’’بصیرت آن لائن ‘‘ کی اس خدمت کابرملااعتراف بھی کیاہے۔
الحمدللہ! ہمیں یہ کہتے ہوئے فخرمحسوس ہوتاہے کہ’’ بصیرت آن لائن‘‘ نے کبھی بھی ’’ٹی آر پی‘‘ بڑھانے کے لئے صحافت کونہیں اپنایا، بلکہ ہمیشہ اس کے پیش نظرملت کی خدمت اوردین کی نشرواشاعت رہی۔ہمارے لئے یہ بھی انتہائی خوشی کی بات ہے کہ بصیرت آن لائن اس وقت 85 سے زائد ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کویوں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں بھی اردوقارئین کی تعدادہے وہاں بصیرت کے چاہنے والے موجودہیں۔ بصیرت نے خبروں کی ترسیل میں مرچ مسالہ یا’’سنسنی خیزی‘‘ پیداکرنے کی کبھی کوشش نہیں کی؛ بلکہ ہمیشہ اسلامی صحافت کے اصولوں کوپیش نظررکھتے ہوئے خبروں کومکمل ایمانداری کے ساتھ اس کی عصمت وعفت کو محفوظ رکھتے ہوئے من وعن قارئین تک پہونچانے کی کوشش کی۔اسی طرح’’ بصیرت آن لائن‘‘ نے اس بات کابھی ہمیشہ خیال رکھاکہ ایسی خبروں،مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظرکیاجائے جس کی وجہ سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشرہونے کاخطرہ لاحق ہویااس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو۔’’بصیرت آن لائن‘‘ نے اسلامی صحافت کے فروغ کاجونعرہ دیاتھااورجونظریہ پیش کیاتھاالحمدللہ ابھی تک اس پرقائم ودائم ہے اورانشاء اللہ آگے بھی رہے گا۔

مقاصدومنصوبے

٭ ماہر ایماندار صحافی ومضمون نگار تیارکرنا۔
٭ قلم کاروں،صحافیوں اورمصنفوں کو جوڑنا۔
٭ میڈیاکے درست استعمال پر زوردینا۔
٭’’زردصحافت،، اورخبروں میں ’’سنسنی خیزی‘‘ کی بری روایت کی حوصلہ شکنی کرنا۔
٭ صحافیوں کو اس بات کے لئے تیارکرنا کہ وہ صحافت کے ذریعہ انسانیت کی خدمت کریں۔
٭ اہم موضوعات پر کانفرنسیں، سیمیناراور پروگرام منعقد کرانا تاکہ نِت نئے اور پیچیدہ مسائل کے حل کی راہیں سامنے آسکیں۔
٭ اہم مسائل وموضوعات پر مبنی کتابیں ،پمفلٹ وغیرہ شائع کرنا۔
٭ مختلف مقامات پر وقتاً فوقتاً صحافت کے تربیتی کیمپ لگانا اور باضابطہ صحافت کی کلاسوں کانظم کرنا۔
٭یوٹیوب چینل،فیس بک لائیو کے ذریعہ مختلف تعمیری واصلاحی پروگرام پیش کرنا۔
٭ملکی سطح پر’’مسلم میڈیاہاؤس‘‘ کے قیام کی کوشش کرکے ہندوستان میں مسلم میڈیاکے خواب کوشرمندۂ تعبیرکرنا۔
٭ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کاپردہ فاش کرکے دین کی خدمت اوراس کی اشاعت کافریضہ اداکرنا۔

رابطہ کے لئے:

www.baseeratonline.com Email: baseeratonline@gmail.com