نوجوان نسلوں کا ترجمان؛منصورخوشتر

 نوجوان نسلوں کا ترجمان؛منصورخوشتر

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
منصور خوشتر ادب کی آبادی کا ایک ایسانام ہے جس نے بہت قلیل عرصے میں اپنی ادبی رکھ رکھاؤ کو ادب کی بستی میں ایسا تسلیم کر وایا جس کا تصور بہت کم ممکن ہوپاتا ہے ،عمر نے ابھی کچھ زیادہ بہاروں کو نہیں دیکھاہے، پاؤں پاؤں چلتے ہوئے یادوں کی لکیریں بڑوں کے ذہن ودماغ سے ابھی ٹھیک سے محو بھی نہیں ہوپائے ہیں کہ ادیبوں کے درمیان دوڑتے نظر آنے لگے اور ایسا سکہ جمایا کہ کوئی ادبی مجلس ہو یا پھرشعری نشست خوشتر کے بغیر سونی نظر آتی ہے ،کھلتا مسکراتا چہرہ ،عزم کی لکیریں پیشانی پر ہویدا ،آنکھوں سے چھلکتی جوش و ولولہ ،قدموں کی چاپ ایسی کہ ایک خاموش انقلاپ گویا بپا ہونا چاہتا ہو ،گول مٹول چہرہ ، کھچا ہوا قد ،سڈول بدن ،کشادہ پیشانی ،بڑی آنکھیں ،ان آنکھوں پر قیمتی فریم کا سیاہ چشمہ ،موسم کے لحاظ سے کپڑا زیب تن ،کبھی شرٹ پینٹ اور کبھی مولویانہ کرتا پائجامہ ،پاؤں میں نوابوں سا قیمتی جوتا ،دوستوں کے درمیان ہنستا کھیلتا ،بڑوں کے درمیان سنجیدگی اور متانت کا پیکر،چھوٹے محترم جانیں ،بڑے عزیز گردانیں ،نوجوان اپنا آئیڈیل مانیں ،احباب گھاس نہ ڈالیں ،گویا منصور خوشتر بہت جلد مرنجا مرنج شخصیت کے حامل بن کر  ہر ایک کے بیچ نظر آنے لگے ۔ بڑے بڑوں نے ان پر لکھا اور خوب لکھا ،منصور خوشتر سے متعلق ڈاکٹر خالدہ خاتون کچھ اس طرح بات کرتی ہیں :’’ڈاکٹر منصور خوشتر اردو صحافت کا معتبر نام ہے ،وہ برسوں سے سماج کو آئینہ دکھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ایک طرف اردو صحافت کی نبض پر انگلی رکھتے ہیں وہیں دوسری طرف ادب کی دھڑکن کو بھی محسوس کرتے ہیں ، خبریں جاننا ،کتابیں پڑھنا خوشتر کا شوق ہے ، منصور خوشتر ہر موضوع کو اپنا موضوع سخن بناتے ہیں، زمانے کے نشیب سے یہ اچھی طرح واقف ہیں ،یہی وجہ ہے کہ یہ جس موضوع پر شعر کہتے ہیں تو پوری توجہ کے ساتھ منفرد اور اچھوتے انداز میں، دوسروں تک اپنی بات پہونچانے کا ہنر اچھی طرح جانتے ہیں ۔‘‘
جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے ریسرچ اسکالر امتیاز انجم اس طرح گویا ہیں :’’ڈاکٹر منصور خوشتر نئی نسل کے ابھرتے شاعراور صحافی ہیں ، بیک وقت ادبی اور صحافتی منظر نامے پر اپنی شناخت قائم کرنا معمولی بات نہیں ہے ، تاہم جہاں بھی ادب اور صحافت کا امتزاج ہوجائے وہاں سے ملک وقوم کی فلاح کے دلکش سوتے پھوٹنے لگتے ہیں، صحافت میں ادبی چاشنی گھلنے لگتی ہے اور ادب میں ایسا لچیلا پن اور سادگی آجاتی ہے کہ اس کی تفہیم آسان ہونے لگتی ہے ،اس طرح شاعری کبھی دوآشتہ محسوس ہوتی ہے تو کبھی صحافت ،ایسے سخنوروں کا داِئرہ وسیع تر ہوجاتا ہے ،بالکل یہی حال منصور خوشتر کا بھی ہے ، کہ ان کی شاعری میں زمانے کی دھمک اسی طرح موجود ہے ،جیسی صحافت میں ہوتی ہے ،ان کی صحافتی تحریروں میں وہی چاشنی پائی جاتی ہے ،جوادبی تحریروں کا حصہ ہے ۔‘‘
انوارالحسن وسطوی’’ باتیںکچھ محفل خوباں کی ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ منصور خوشتر بیک وقت وادی صحافت اور دنیائے شاعری دونوں میدان کے مشہور شہسوار ہیں ، جس طرح صحافت کے میدان میں  انہیں امتیازی حیثیت حاصل ہے اسی طرح جواں سال شعرا ءمیں بھی وہ اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں ،انگریزی کا مقولہ ہے:’’ Morning shows the day‘‘صبح کا نکلتا سورج دیکھ کر یہ اندازہ لگ جاتا ہے کہ دن کیسا ہوگا ۔‘‘
نوجوان صحافی ادیب اور شاعر کامران غنی صبا لکھتے ہیں کہ :’’حالیہ چند برسوں میں بہار سے ایک ایسا نام ابھرا ہے ،جس نے اپنی ادبی وصحافتی کارناموں سے نہ صرف ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے بلکہ اپنی غیر معمولی کاوشوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ؎
جواں ہو عزم تو تارے بھی توڑ سکتا ہے  *  کٹھن نہیں ہے کوئی کام آدمی کے لئے 
ادب وصحافت سے جنون کی حد تک محبت کرنے والی اس شخص کا نام ہے منصور خوشتر ہے،ڈاکٹر منصور خوشتر کے اتنے سارے پہلو ہیں ان پر قلم اٹھاتے ہوئے شکیل بدایونی کا یہ شعر یاد آرہا ہے  ؎
اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تاب ضبط باقی  * تمام میکش پکار اٹھے یہاں سے پہلے یہاں سے پہلے 
بات چاہے شاعری کی ہو ،صحافت کی یا دیگر سرگرمیوں کی ،منصور خوشتر نے ہر میدان میں لوہا منوایا ہے ، میں ان کو کب سے جانتا ہوں یہ یاد تو نہیں ہے ،لیکن ان کے اخلاق کریمانہ اور مجھ سے برادرانہ سلوک نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ،بہار سے شائع ہونے والا کثیرالاشاعت اخبار قومی تنظیم میں بحیثیت نمائندہ 2002سے متعلق رہا ،ایک دن مدیر محترم ہمارے نہایت ہی کرم فرما اور مشفق ومحسن جناب اجمل فرید صاحب مرحوم اللہ انہیں کروٹ کروٹ سکون عطا فرمائے نے کہا مولانا مظفر رحمانی صاحب اب آپ کو اپنی موصولہ خبر پٹنہ کے بجائے منصور خوشتر کو دربھنگہ بھیجناہے ، میں تھوڑی دیر تک خیال کے دامن میں  منہ چھپائے منصور خوشتر کو جھانکنے لگا ،دربھنگہ آفس کا پردہ اٹھایا تو دیکھا ہنستا ہوا نئی نسل کا ترجمان نوعمر، نوجوان چہرے پر وقار ،آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور تامّل وفکر کی جھلک لئے گویا ہم سے اس طرح گویا ہوتے ہیں کہ اچھا ہے اب ہم لوگ اور محنت کرکے مسلمانوں کا ترجمان اخبار قومی تنظیم کو اور آگے بڑھائیں گے اچھا ہوتا کہ آپ اپنی خبر بھی یہیں بھیجتے ،جب میں خیال کی وادی سے واپس آیا تو موبائل میرے کان سے اب تک چپکا ہوا تھا اورسر نے اپنی بات مکمل کرلی تھی ،وہ دن تھے جب میں صحافت کو عبادت سمجھ کر کرتا تھا اور اب شوقیہ کرتا ہوں ،خبر بھیجدیا تو ہمارے بیورو چیف محبت سے جگہ دیتے ہیں اور تساہلی پر بہت ٹوک ٹاک نہیں کرتے ہیں ،یادش بخیر جب میں 2011میں حج سے واپس آیا تو خیال آیاکہ اب اخبارمیں خبردینے کے تعلق سے رخصت حاصل کرنا اچھا ہے ،لیکن مرحوم اجمل فرید صاحب نے کہا کہ حاجی صاحب میری جانب سے تو آپ کو اجازت نہیں ہے ،لیکن اگر آپ کے بیورو چیف اجازت دے دیں تو اعتراض نہیں ہے ،خیال آیا کہ منصور خوشترسے فرید برادران کس درجہ محبت کرتے ہیں ،شاعری خون جگر کے جلانے کا نام ہے ،اس روگ کے لگنے کے بعد انسان اپنی الگ بستی بسالیتا ہے ،لیکن خوشتر نے اس روگ کے باوجود اپنی الگ کوئی بستی نہیں بسائی وہی دوپہر کے تپتے دھوپ میں آبلہ پائی ،دوستوں کے ساتھ بسیار گوئی کا شغل اب بھی باقی ہے ،منصور خوشتر کے اشعار میں میرے مطالعہ کے مطابق سوزو گداز ،حقیقت شنا سائی ،استغنا وبےنیازی ،خودداری وخود حکمت ودانائی ،حوصلہ مندی ووفاداری ،جوش جنوں وآبلہ پائی، امیدویقین ،رجائیت افزا حسرت ،بےوفائی کا شکوہ لیکن وفا کی بے انتہاامید ،خردمندی کی عیاری اورجنون بے خطر کی سادہ لوحی کا ایک دریا پوری طرح موجزن نظر آتا ہے ،جواپنی سبق آموز لہروں کےذریعہ قاری کے لئے زندگی کے بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی ثابت ہوتا ہے،خداکرے ان کا یہ سفر بلا تعب وتھکن کامیابی کے ساتھ منزل تک پہونچے ۔
    9431402672




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *