بچوں کی تعلیم وتربیت؛لمحۂ فکریہ

بچوں کی تعلیم وتربیت؛لمحۂ فکریہ

مظفررحمانی
ایڈیٹربصیرت آن لائن
اس وقت بچوں کی تربیت کس نہج پر ہو ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے، بچے قوم، ملک، ملت اور سماج کا انمول اثاثہ ہیں، جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اگر ہم نے آج چشم پوشی سے کام لیا تو کل ہمارا کوئی آنسو پوچھنے والا نہیں ہوگا، خون کے ان آنسوؤں کے ہم خود ذمہ دار ہونگے، بچوں کو یہ کہ کر نظر انداز کر دینا کہ یہ ابھی بچہ ہے خود ٹھیک ہوجائے گا بڑا مجرمانہ جملہ ہے، محبت سے آج ہی ہمیں روکنا اور ٹوکنا ہوگا، ہمیں ہمارے نبی جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعض رہنما اصول بتائے ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے بچوں کو اس نشان راہ پر لے جاسکتے ہیں جو لکیر حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے کھینچے ہیں، اسلام میں سب سے مہتم بالشان عبادت نماز ہے ،اس سلسلہ میں بچوں کو متنبہ کرنے کا حکم فردیاگیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’مروا اولادکم بالصلوۃ وہم ابناء سبع سنین، واضربوا ہم علیہا وہم ابناء عشر، و فرقوا بینہم فی المضاجع‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب متی یوٴمر الغلام بالصلاۃ،ج:۱،ص:۷۱ ونحوہ فی الجامع للترمذی، ابواب الصلوۃ، باب ما جاء متی یوٴمر الصبی بالصلاۃ۔ ج:۱،ص:۹۳)’’اپنی اولاد کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں، نماز کا حکم دو۔ اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں، تو نماز (چھوڑنے) پر ان کی سرزنش و تادیب کرو اور خواب گاہوں میں ان کو جدا کرو۔‘‘  حضرت عمربن ابی سلمہ اپنی والدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھے، ایک بار آپ کے ساتھ کھانا کھارہے تھے اور بچوں کی عادت کے مطابق کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے لقمہ اٹھا تے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی کے ساتھ ان کو کھانا کھانے کا طریقہ بتایا :اے بچے! بسم اللہ کہو، داہنےہاتھ سے کھاؤ اوراپنے قریب سے کھایا کرو۔ (بخاری، کتاب الاطعمہ باب التسمیۃ السلام، حدیث نمبر 5061)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی کم عمر صحابہ میں تھے۔ ایک مرتبہ سیدھے گھر میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’باہرجاؤ، سلام کرو پھر اجازت لے کر داخل ہو ۔‘‘ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت کم سن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بڑی نصیحت آمیز باتیں فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے لڑکے! میں تم کو چند نصیحتیں کرتا ہوں، تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کریں گے، اللہ کو یاد رکھو، تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤگے، اور جب بھی مانگنا ہواللہ ہی سے مانگو، اور جان لو کہ اگر تمام لوگ مل کر بھی نفع پہونچا نا چاہیں تو جو نفع اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقدر کردیا ہے وہی تم کو ملے گا، اور اگر سب مل کر تم کو نقصان پہنچا نا چاہیں تو اتنا ہی نقصان پہونچے گاجو اللہ نے تمہارے لئے طے کر دیا ہے۔‘‘ (سنن الترمذی، کتاب صفت القیامۃ، حدیث نمبر :2516) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گذاری، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ان کی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز میں ان کو اپنے ساتھ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے وہ آپ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کان پکڑ کر دائیں جانب کردیا۔(مسلم، باب الدعا، فی صلوۃ اللیل وقیامہ، حدیث نمبر :763)
حجۃ الوداع میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پرآپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، قبیلہ بنو خثعم کی ایک لڑکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کی طرف دیکھنے  لگے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سے ان کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔ (بخاری، عن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، باب وجوب الحج وفضلہ، حدیث نمبر :1443) 
بچوں کی نشست وبرخواست پر مکمل نگرانی رکھنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے، کہاں جارہا ہے؟ کس سے تعلق ہے؟ اسکول یا مدرسہ وقت پر پہونچ رہا ہے یاپھر اپنے وقت کو برے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ضائع کر رہا ہے، یہ وہ حساس باتیں ہیں جس پر توجہ دیئے بغیر ہم ایک اچھے والد کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے ہیں، موجودہ زمانے میں جب کہ برائیاں نہایت آسانی کے ساتھ موبائل کے ذریعے ہمارے گھروں میں داخل ہو رہی ہیں ،اس پس منظر میں ہماری ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے، ہم اپنے بچوں کی ہر جائز و ناجائز چیزیں ان کی ضد کو پوری کرنے کے لیے پیش سے پیش تر فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ کی نسلوں کو تباہ کردینے کے لئے کافی ہے، جس خاندان کو معاشرے اور سماج کی آنکھ عزت اور احترام سے دیکھتی تھی آج اولاد کی غیر اخلاقی حرکتوں نے سر اٹھا کر چلنے کے لائق نہیں چھوڑا، اس گناہ کے ارتکاب میں بچے کے ساتھ والدین برابر کے شریک ہیں، ایک جوان بیٹی یا بیٹا موبائل پر گھنٹوں کس سے بات کررہی ہے اس بات کو جاننے کی کبھی کوشس نہیں کی جاتی ہے اور پھر یہ روگ آہستہ آہستہ پورے گھر کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔ میرے پاس روز ہی ایسے مسائل آتے رہتے ہیں، بوڑھے ماں باپ کو روتا دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ کاش پہلے ہی دن بچوں کو موبائل نہ دیا گیا ہوتا یا پھر اس کی کوتاہیوں پر روکا ٹوکا جاتا، تعلیمی درسگاہوں کے انتخاب میں سوجھ بوجھ سے کام لیا جاتا، بڑوں کے احترام کو ملحوظ رکھنے کی تاکید کی جاتی تو یہ آنسو غم کے بجائے خوشی کے ہوتے، کوتاہیوں کی شکایت کے بجائے اس کی کامیابی کی خوشخبری سنائی جاتی، اللہ نے اولاد کی شکل میں جو نعمت ہمیں عطا کیا ہے اس عظیم نعمت کے بابت ہم سے سوال ہوگا اور جواب دیئے بغیر ہم ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔تربیت کے باب میں اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت نہ کریں جو بچوں کے ذہن کو آلودہ کرنے والی ہو، اس بات کا پورا خیال رکھا جانا چاہئے کہ ہر وہ پروگرام جو دین کی نسبت سے آبادی اور قریب کے علاقوں میں منعقد ہو، نہیں چاہتے ہوئے بھی بچے کی خاطر ضرور جانا چاہئے، اسی طرح مسجد جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں، جمعہ کو اردو خطبہ سے قبل جائیں خود بھی تو جہ سے سنیں اور بچے کو بھی متوجہ رکھیں، ہم اس وقت تک کامیاب والدین کے زمرے میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ ہم ملک،ملت اور قوم کو اچھا شہری فراہم نہ کردیں، خدا کرے یہ باتیں مشعل راہ ثابت ہو۔
 9431402672




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *