دہلی میں کس کی سرکارہے؟

دہلی میں کس کی سرکارہے؟

محمدشارب ضیاء رحمانی
دہلی میں کس کی سرکارہے؟۔سوال شایدآپ کواٹ پٹااوربے تُکاسالگے۔لیکن اگرآنکھ کھول کراورضمیرکوبیدارکرکے خودسے یہ سوال پوچھ لیاجائے توجواب ملے گا۔کہیں سے لگ نہیں رہاہے کہ دہلی میں کوئی سرکاربھی ہے۔آپ پوری دہلی گھوم لیں،خوداندازہ لگالیں گے کہ دارالحکومت کوکجریوال نے کس طرح کچڑابنارکھاہے۔اہالیانِ دہلی بری طرح ٹھگے جاچکے ہیں،خودکماروشواس نے کھری کھوٹی سنائی ہے ۔ڈرامہ بازاوردھرناپارٹی سے ایک کام نہیں ہورہاہے۔سڑکیں خستہ حال ہیں، ٹریفک سسٹم چوپٹ ہے۔نئی سرکارنے ایک بس تک نہیں دی ،پرانی بسیں خراب ہورہ ہیں،بسوں کی کمی کی وجہ سے گھنٹوں بس اسٹاپ پرانتظار میں کھڑے رہیے ،بس ملنے والی نہیں۔ آج بھی میں خود ایمس اسٹاپ پر سواگھنٹہ انتظار کرتارہا،کل نظام الدین گیاتھا تووہاں سے بٹلہ ہائوس آنے میں پونے دوگھنٹے لگے۔آدھے گھنٹے کاسفردودوگھنٹے میں ہورہاہے ۔پوری دہلی کی صورتحال یہی ہے۔ ہربس میں ایک سیکوریٹی گارڈدے دینے کادعویٰ کیاگیا،حال یہ ہے کہ آپ دن بھردس بیس دن تک دہلی گھوم لیں، دوتین بسوں سے زیادہ میں گارڈنظرنہیں آئیں گے ۔جی ہاں بجلی ہاف کرنے کاوعدہ کیاتھا،سوپوراہوگیایعنی آدھی غائب۔دن کے علاوہ روزانہ رات میںدودوتین گھنٹے بجلی ندار۔امتحان کے زمانہ میں آپ کتاب لے کربیٹھے نہیں کہ جھک مارتے رہیے،دوتین گھنٹے تک نہیں آنے والی ہے،رات میں سونا دشوارہوگیاہے۔بجلی کابل کم کرنے کادعویٰ کیاجارہاہے جب کہ آج بھی میں سات روپیے فی یونٹ اداکر رہاہوں،حالانکہ ستر یونٹ تک ہی خرچ ہورہی ہے ۔سکھ فسادات پرایس آئی ٹی کی تشکیل کرنے والے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی جانچ سے کیوںبھاگ گئے؟۔لیکن سکھ فسادات کے معاملہ میں انہیں عدالت یادنہیں آئی؟۔کون سااردوکامسئلہ حل کرلیاگیا،بلکہ دہلی اردواکیڈمی تک بدحال ہے۔کماروشواس کی دوستی کی وجہ سے دہلی اردواکیڈمی کے سربراہ بنے ڈاکٹرماجددیوبندی کی سربراہی میں خستہ حالی سے دوچارہے۔پیسوں کی کمی کارونارویاجارہاہے ۔لیکن افطارپارٹی میں ایک اطلاع کے مطابق ایک کروڑروپیے خرچ کردیے گئے۔
یہ بہانہ بالکل غیرمنطقی ہے کہ’’اجی دہلی گورنمنٹ کوسنٹرسے پیسے نہیں مل رہے ہیںتوکیاکام کریں‘‘۔آپ کوئی بھی سوال پوچھیں،جواب یہی ملے گا۔شیلادکشت سرکار میں بھی مرکز میں بی جے پی آئی تھی ، تال میل تھا یا نہیں،دہلی میں سڑکوں ،بسوں اورفلائی اوورکے بہت کام ہوئے۔ لیکن کجریوال اینڈکمپنی کو ڈرامہ بازی سے فرصت نہیں۔اپنے ایم ایل اے کی تنخواہ چارسوفیصد تک بڑھانے کے لیے پیسے ہیں ، کام کے لیے نہیںہیں (یہ الگ بات ہے کہ تنخواہ والابل مرکز نے لوٹادیا )،اپنی پارٹی میں تیرہ ہزار فی پلیٹ کھانے کے پیسے تھے، اشتہار بازی کے لیے پیسے ہیں، کام کے لیے نہیں ہیں۔عرفان اللہ خان نے پارٹی کیوں چھوڑی؟۔ بی جے پی کی طرح مسلم ناموں سے منسوب چیزوں سے انہیں بھی ویسی ہی نفرت ہے۔ میٹرو اسٹیشن کا’ابوالفضل‘ نام ہضم نہیں ہوا(جب کہ اوکھلا وہار جانے والانیا آدمی کنفیوژڈہوگاجوابوالفضل سے بالکل الٹے راستہ پرہے لیکن ابوالفضل میں میٹرواسٹیشن ہونے کے باوجوداس کانام مسلم نام پرہضم نہیں ہوا)اورنگ زیب روڈکی تبدیلی کامطالبہ بی جے پی ایم پی مہیش گیری نے کیا۔ اور فوراََعملی جامہ پہنانے کے ساتھ ہی شاباشی دے دی گویا دلی مراد پوری ہوئی ہو۔آج دیکھ لیجئے ’’انااسکول‘‘میں کجریوال کے تمام ساتھی کہاں ہیں۔کرن بیدی، وی کے سنگھ، شاذیہ علمی اوربابارام دیو کس کے چرنوں میں ہیں توکجریوال کو اس سے الگ کرکے کیسے دیکھاجاسکتاہے۔
رہی بات اوکھلا کی توامانت اللہ نے بھی دیانت سے کام نہیں لیا۔آنکھ کھول کر اور دل پر ہاتھ رکھ کردیکھ لیاجائے کہ اوکھلا کی صورتحال کتنی خراب ہے۔ڈرامہ بازی میں یہ بھی کچھ کم نہیں ہیں، بٹلہ ہائوس سے اوکھلا ہیڈ کی ہی سڑک دیکھ لیجئے،شاہین باغ کی گلیوں کامعائنہ کرلیجئے ،اندازہ ہوجائے گا۔ذرابارش ہوجائے توبٹلہ ہائوس بس اسٹینڈ چلنے کے بھی لائق نہیں ہوتا۔گلیوں میں گڑھے بھرے ہیں،بارش ہوتومشکلات کاسامنا۔انہوںنے الیکشن میں جام سے نجات دلانے کانعرہ لگایاتھاجواوکھلاکے عوام کااہم مسئلہ ہے۔ اکثر بٹلہ ہائوس سے شاہین باغ جودس منٹ کابھی راستہ نہیں ہے ،پون گھنٹہ گھنٹہ بھروقت لگ جاتاہے۔انہوں نے بٹلہ ہائوس انکائونٹرپربھی خوب اچھل پھاند کی تھی ، اب تک ایک بار بھی اسمبلی میں ’’اپنے آقا‘‘سے اس پرانہوں نے سوال کیوں نہیںپوچھا،جولوگ ان کے طرفداراورخیرخواہ ہیں، ان کو ایم ایل اے سے پوچھناچاہیے کہ کب آوازاٹھارہے ہو اور نہ ماننے پر استعفیٰ کب دے رہے ہو۔ابوالفضل میں جماعت اسلامی ہندنے ویلفیئرپارٹی کے امیدوارکی حمایت کااعلان کیاہے۔اگروہ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں توٹھیک ہے ورنہ یہ اپیل انتہائی نامناسب ہے۔اگراس پارٹی کے امیدوارکامیاب ہونے کی پوزیشن میں نہ ہوں توپھراس پرووٹ کٹواکاالزام کیوں نہیں لگناچاہیے؟۔جس طرح بات بات میں اویسی ہرجگہ ووٹ کٹوانظرآتے ہیں،آخرویلفیئرپارٹی اورپیس پارٹی کے تئیں معیارکیوں بدل جاتاہے؟۔اگرمجلس اتحادالمسلمین ووٹ کاٹ کربی جے پی کوفائدہ پہونچارہی ہے اوروہ بی جے پی کی ایجنٹ ہے (یہ ایک عام جملہ ہے،جوآسانی سے کہاجاتارہاہے)توویلفیئرپارٹی کے ووٹ کاٹنے سے کس کوفائدہ ہوگا،کیاپارٹی دیکھ کرمعیاربدل جاتاہے؟اگرایک ایجنٹ ہے تودوسری کوکیانام دیاجائے اورپھراس کی معاونت کرنے والے کوکیاکہاجائے۔اگرکسی کمزورپارٹی کے حق میں اعلان کرنے والے فلاں فلاں کے ایجنٹ ہوسکتے ہیں اورکہے جاتے ہیں،تواسی طرح جماعت اسلامی ہندکے اعلان پربھی وہی سوال اٹھیں گے،جماعت کوچاہیے تھاکہ اس حلقہ میں جو امیدواربی جے پی اورعام آدمی پارٹی کے علاوہ جیت سکتاہو،اس کی حمایت کرتی۔کہناصرف یہ ہے کہ ڈرامہ باز پارٹی کوووٹ دینا سراسرنادانی ہے،خصوصاََاوکھلامیں سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔کارپوریشن الیکشن اتنا اہم نہیں ہے،ابھی ہی اگراس کے خلاف ووٹنگ کی گئی توودھان سبھا الیکشن کے لیے کچھ تو انہیں ہوش آئے گا۔آپ بھی سنجیدگی سے سوچیے ،ہوسکے توپکڑ کرپوچھیے۔اگرابھی نہیں پوچھیں گے تواگلے تین برس تک نہیں پوچھ پائیں گے اورتین سال ایسے ہی ٹھگے جائیں گے۔جس طرح اسمبلی الیکشن میں تمام مسلمانوں نے یکطرفہ ووٹنگ عام آدمی پارٹی کے حق میں کی تھی،اس باریکطرفہ ووٹنگ اس کے خلاف کرکے دیکھیں،کم ازکم مسلم علاقوں میں ایساکیاجاسکتاہے، تاکہ اگلے تین سال کے لیے انہیں کچھ توہوش آئے۔جب پورے اتحادکے ساتھ یکطرفہ اس کے حق میں ووٹنگ کی جاسکتی ہے توپھرمخالفت میں کیوں نہیں؟۔کارپوریشن ہاریں گے توہوسکتاہے کہ جھٹکالگے اوراحساس ہوکہ بہت دنوں تک باتیں بناکربے وقوف نہیں بنایاجاسکتاہے،اگرکام نہیں کریں گے توتین سال کے بعداسی طرح صفایاہوگاجس طرح بی جے پی اورکانگریس کادہلی میں ہوا۔ضمنی الیکشن میں ضمانت ضبط ہوجانے کے بعدکچھ تونیندکھلنی چاہیے اگرکوئی کام بی جے پی سرکارنہیں کرنے دے رہی ہے،مگرجوکچھ بس میں ہے وہ توکیجئے،صرف بہانے بہانے سے عوام برداشت کرنے والی نہیں ہے۔پورے ملک کوفتح کرنے کاخواب اگرکجریوال دیکھ رہے ہیں،توکم ازکم ایک جگہ کام کرکے نمونہ پیش کرناچاہیے تھا۔جس اندازسے انہیں67سیٹیں ملیں،اسی طرح 67نشستیں جابھی سکتی ہیں۔ٹھنڈے دل سے سوچیے ،کیاعام آدمی پارٹی کوووٹ دینے کی کوئی ایک معقول وجہ بتائی جاسکتی ہے؟۔
مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *