شرعی وکلاء کی زوردار بحث : سرکار اور مدعیان اصلاح وتجدید بیک فٹ پر

شرعی وکلاء کی زوردار بحث : سرکار اور مدعیان اصلاح وتجدید بیک فٹ پر

محمدشارب ضیاء رحمانی
کپل سبل کے دلائل کو سمجھنے کے لیے پہلے توعناد اور مخالفت برائے مخالفت کے خول سے باہرنکل کر وسیع ذہن کے ساتھ سوچناہوگا ورنہ کج فہمی اور تنگ نظری کے ساتھ ان کے دلائل کو سمجھنا مخالفین حدیث اور مخالفین فیصلہ رسولﷺکے بس میں نہیں ہے۔کپل سبل کے الفاظ کیاتھے ؟ کیاوہی الفاظ تھے جسے سنگھی میڈیا (جس پر بعض لوگ قرآن وحدیث سے زیادہ ایمان رکھنے لگے ہیں )کچھ اور بناکر پیش کررہاہے ۔اس پرتنقیدسے قبل بحث کے سیاق وسباق ،بحث کی نوعیت اوران کے جواب کی آئینی حیثیت کودیکھناچاہیے۔ان سب کاجائزہ لیے بغیر محض مخالفت برائے مخالفت زیبانہیں ۔الفاظ اور الزامات کی بارش سے ذاتی عناد واضح ہوتاہے۔چونکہ کھسیانی بلی کے پاس نوچنے کے لیے اب کھمبا بھی نہیں بچاہے اس لیے کہیں نہ کہیں توبھڑاس نکالنی ہی ہے نا۔سپریم کورٹ نے پہلے ہی دن کہاتھا کہ اگریہ شریعت اورمذہب کامعاملہ ہوگاتوہم مداخلت نہیں کریں گے۔ بورڈ اورجمیعۃ نے اسی کو عہدنبوی سے ثابت کرکے یہ کورٹ کے سامنے واضح کردیاہے کہ یہ خالص مذہبی معاملہ ہے۔بحث کے پہلے دن حکومت نے اسے مذہب سے الگ بتاتے ہوئے دلیل دی تھی کہ اگریہ مذہب کامعاملہ ہے تو اسلامی ملکوں میں طلاق ثلاثہ پر پابندی کیوں ہے؟۔فریق دفاع نے حکومت اورروشن خیالوں کے دونوں طلسم کوتوڑا ہے ۔پہلے تو1400سال سے اس پر متواترعمل کوثابت کیا اورچودہ سوسال کامطلب عہدرسالت اورعہدصحابہ ہے جہاں تین طلاق تین ہی ہوتی تھی۔کسی بھی ایک ایک صحابی یاکسی بھی ایک تابعی یااس عہدکے کسی بھی محدث( بشمول بخاری،مسلم ،ترمذی اورابوداؤد)سے ہرگزیہ ثابت نہیں کیاجاسکتاکہ کسی نے بھی تین طلاق کوایک ماناہے۔یہاں تک کہ رسول اللہﷺکے فیصلے (جوقرآن کے ساتھ ساتھ دین وشریعت کی بنیادہیں)ایک بھی فیصلہ رسول ﷺکانہیں دکھایاجاسکتاکہ رسول نے تین طلاق کوایک ماناہے۔ہاں آپ ﷺنے تین طلاق کونافذکیاہے ،اس سے متعلق واضح متعدداحادیث ہیں۔جولوگ تین طلاق کوقرآن کے خلاف بتارہے ہیں وہ گویایہ کہناچاہتے ہیں کہ نعوذباللہ رسول اللہ ﷺنے مرادقرآن کونہیں سمجھاتھا،یاقرآن کی صحیح تشریح نہیں کی تھی یااپنے مقصدبعثت کوپورانہیں کیاتھا۔اوراب یہ دانشوران قرآن کے مقصداورمرادکوچودہ سوسال بعدسمجھنے بیٹھ گئے ۔استغفراللہ۔کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔رسولﷺکی بعثت ہی قرآن کی تشریح کے لیے ہوئی تھی۔اورجس طرح قرآن مجیدہمارے لیے شریعت کی بنیادہے،رسول کاعمل،رسول کافیصلہ اوررسول کی زندگی بھی بنیادہے،رسول کافیصلہ کبھی خلاف قرآن نہیں ہوسکتاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جولوگ بات بات میں امام بخاری کادھونس جماتے تھے،وہ طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں امام بخاری سے بھاگ رہے ہیں۔ بورڈنے کورٹ میں یہ بھی بتایاکہ قرآن میں کسی چیز کامذکورنہ ہوناخلاف قرآن نہیں ہے۔مسلمانوں کے لیے قرآن وحدیث اللہ کاکلام اوررسول کے فیصلے دونوں دین کی بنیادیں ہیں اور ان بنیادوں میں طلاق ثلاثہ ثابت ہے لہذا یہ مکمل مذہب کامعاملہ ہے اور آپ کہہ چکے ہیں کہ مذہبی امور میں مداخلت نہیں کریں گے جس طرح آپ کسی کے عقیدے پر جبر نہیں کرسکتے اورنہ کسی ایک عقیدہ کو ماننے پر مجبورکیاجاسکتاہے اس سلسلے میں انہوں نے ضمنا مثال دی جس کی دلیل کے طور پرکوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ رہی بات بابری مسجد اوررام مندر کی تواس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ زمین کی ملکیت کاہے اورملکیت آستھا سے نہیں ثابت ہوتی،کپل سبل نے الزامی جواب کے طورپریہ جواب دیاہے لیکن کج فہم معاملے کوادھرسے ادھر گول مول کررہے ہیں ۔کپل سبل پر یہ بھی الزام لگایاگیاکہ دودن سے وہ عدالت میں جاہلانہ گفتگو کررہے ہیں ،جاہلانہ اس لیے کہاجارہاہے کہ کیونکہ انہوں نے تین طلاق کوایک ماننے کی بات نہیں کہی (جس کاکوئی مضبوط ثبوت نہیں ہے اورائمہ اربعہ وکبارمحدثین تمام کے تمام تین طلاق کوتین ہی مانتے ہیں،گویایہ کہاجائے کہ تین طلاق پرابتدائے اسلام سے اب تک پوری امت متفق ہے،ہاں بعدکے چندبزرگوں کااپنااجتہادہے ورنہ توطلاق ثلاثہ متفق علیہ ہے جس کی بنیادیں واضح احادیث میں ہیں)کپل سبل نے بہت جرات مندانہ بحث کی ہے جس کی مخالفت کج فہمی اور دوسرے عناد پر ہی مبنی ہے۔آخرکار کورٹ کو کپل سبل سے کہناپڑاکہ آپ کیاچاہتے ہیں کہ ہم طلاق ثلاثہ پر سماعت ہی نہ کریں؟کپل سبل نے پھر پوری جرات کے ساتھ کہاکہ آپ کواس کابالکل حق نہیں ہے، آپ کو ہرگزسماعت نہیں کرنی چاہیے ۔ریفارم کے نام پر مذہب میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔پھرعدالت یہ کہنے پر مجبور ہوئی کہ جب معاملہ کورٹ میں آیاہے توسماعت کرلیتے ہیں۔ کپل سبل کی اس جرات کی داددینی چاہیے۔دفاعی وکلاء نے یہ بھی کہاکہ سرکار اسے غیرمذہبی معاملہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے ۔وہ اب غیرمذہبی بتانے سے پیچھے ہٹ کر صرف خواتین کے حقوق کی دہائی دینے لگی ہے۔رہی بات اسلامی ملکوں میں تین طلاق پر پابندی کی تویہ بھی غلط ہے ۔جمیعۃ نے پاکستانی عدالتوں کے فیصلے کی کاپی بھی پیش کی جن میں طلاق ثلاثہ کونافذکیاگیاہے ۔چونکہ اب ان کے دونوں مفروضوں کی ہوا نکل گئی ہے،سرکاربیک فٹ پرہے،اس لیے اب چینلوں نے،روشن خیالوں نے اورمعاملہ فہمی کی خوبی سے نابلداورکج فہمی کے عادی دانشوروں نے معاملہ کودوسرارخ دینے کی کوشش کی ہے۔نام نہاد محققین بھی ابتدا میں صرف ’حنفی مسلک‘ اور ’شروع سے اختلافی‘مسئلہ بتارہے تھے لیکن وہ اب تک یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ ’’شروع‘‘ سے کیامرادہے اور کب سے ’’اختلافی مسئلہ‘‘ہوا۔حالانکہ بعد کے چندلوگوں کوچھوڑ کرابتداء سے تمام فقہاء ومحدثین کاتین طلاق کے وقوع پر اتفاق ہے۔دراصل’’مدعیان اصلاح وتجدید‘‘ نے سوچاتھا کہ سرکاران کے موقف کی تائیدعدالت میں کرے گی لیکن حکومت نے انہیں ایسازوردارطمانچہ ماراہے کہ بوکھلاہٹ میں اب ’’غیرقرآنی ‘‘’’خلاف قرآن ‘‘’’مسلم ممالک‘‘کی بات چھوڑ کرالزامات کاراستہ اپنارہے ہیں۔سرکارتواب تین طلاق کیا،ایک طلاق اورقرآنی طلاق جسے کہاجارہاتھا،اس کے خلاف بھی ہے اورمکمل نظام طلاق کوبدلناچاہتی ہے ۔مسلم پرسنل لاء بورڈشروع سے یہ کہتارہاہے کہ سرکارکی نیت صحیح نہیں ہے ،وہ مکمل قانون طلاق اسلامی کے خلاف ہے اورمذہبی معاملہ میں مداخلت کی کوشش کررہی ہے ۔شرعی وکلاء کاموقف اوران کے دلائل اتنے مضبوط ہیں اورتیاری اتنی زبردست رہی ہے کہ اب مدعیان اصلاح وتجدید سخت بوکھلاہٹ کے شکارہیں جنہیں نہ توقرآنی طلاق اورنہ طلاق ثلاثہ پرکوئی علم ہے،بالکل اسی طرح وہ سپریم کورٹ میں بحث کی نوعیت ،سیاق وسباق سے بھی نابلدہیں اورہوائی فائرنگ کررہے ہیں،بخاری صاحب بھی اس فہرست سے باہرنہیں ہیں۔بی جے پی کے ساتھ ان کی ملی بھگت اوراعلانیہ حمایت کوکون نہیں جانتا،ملت ایسے مفادپرستوں اورحکومت کے کارندوں کونہیں بھولتی اوریہ بھی سمجھتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا، علم کی طرح فہم کاجغرافیہ بھی سمٹاہواہے۔
مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *