’مرو کسان ،مر وجوان ‘

’مرو کسان ،مر وجوان ‘

نازش ہما قاسمی
9322244439
جب دو ہزار 2014کے لوک سبھا الیکشن ہونے والے تھے تو بی جے پی نے بڑے ہی شدومد کے ساتھ یہ نعرہ دیا تھا کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ ہوگا۔ جس کے نتیجے میں کانگریس سے عاجز آچکی عوام نے بی جے پی کو واضح اکثریت سے کامیاب کیا اور نتیجتاً بی جے پی دہلی کے تخت پر براجمان ہوئی لیکن وہ نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ،محض ایک جملہ ثابت ہوا۔ ملک میں سب کا ساتھ سب کا وکاس تو نہیں ہوسکا ، البتہ کچھ لوگوں کا وکاس اور بقیہ لوگوں کا وناش ضرور ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کو صرف تین سال کا عرصہ ہوا ہے لیکن اس حکومت میں ہندوستان نے ایسے ایسے حادثات دیکھے ہیں اور ایسی ایسی وارداتوں سے کا مشاہدہ کیا ہے جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اچانک کچھ لوگوں کی بھیڑ ایک سمت سے آتی ہے اور کسی کو جان سے مار کر چلی جاتی ہے،پولس کیس درج کرتی ہے، دو چار دن میڈیا کے کسی گوشہ میں اس سلسلہ میں کچھ باتیں ہوتی ہیں ، اور پھر اسے ایسے بھلا دیا جاتا ہے جیسے کبھی کوئی حادثہ رونما ہی نہیں ہوا تھا۔ کچھ دنوں کی خاموشی کے بعد ، پھر ظلم و جبر کا یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور انجام بالکل پہلے جیسا ہوتا ہے۔
فی الحال ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اب ملک میں کسانوں نے ملک گیر ہڑتال شروع کردی ہے، جس میں سب سے زیادہ شدت مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کسانوں میں ہے، ان کسانوں کے مطالبات جائز ہیں یا ناجائز یہ تو ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے، ملک کو اناج فراہم کرنے والے یہ کسان ہمیشہ قرض سے تنگ آکر خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، پھر بھی کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی پہلی تحریک ہے ، بلکہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کسانوں نے سڑکوں پر آکر بھوکے پیٹ رہ اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے ،اور جنتر منتر پر بھی احتجاج کیا ہے لیکن انہیں بدلہ میں کیا ملا کیا ان کے قرض معاف کردئے گئے ان کے مطالبات تسلیم کرلئے گئے ان کو راحت مل گئ، ہر مرتبہ ایک ہی چیز ملتی ہے اور وہ ہے’’یقین دہانی‘‘ یہ وہ چیز ہے جس کا لالی پاپ ہمیشہ کسانوں کو دکھایا جاتا ہے لیکن دیا کبھی نہیں جاتا ہے، کیونکہ یہ غریب تو صرف اپنے نیتاؤں کو ووٹ دینے والے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے الیکشن میں چند بوریوں کے عوض پورے گاؤں کا ووٹ خرید لیا تھا ،ان سیاسی لیڈر ان کو معلوم ہے کہ کسانوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے ، یہ ہمارے پاس ہی آئیں گے پھر کیوں ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں، اگر کسانوں کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے تو پھر آئندہ الیکشن کیلئے ہمارے پاس کوئی مضبوط مدعا نہیں بچے گا، اسلئے اس موضوع کو ہمیشہ کچھ دنوں کے لیے مؤخر کرنا اور کسانوں کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ سیاسی روٹی سینکی جا سکے۔ اب حکومت نے ایک نیا الزام کسانوں کے سر تھوپ دیا ہے کہ ان کے ساتھ ملک مخالف عناصر سرگرم ہیں ، اسلئے کچھ حالات میں شدت آئی ہے ورنہ تو سب کچھ ٹھیک ہے، کہیں سے کوئی تشدد کی خبر نہیں ہے، اور یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ اب کسانوں کے ساتھ ملک مخالف عناصر بھی سرگرم ہوگئے ہیں، مندسور میں چند کسانوں نے اپنی زندگی کو احتجاج کی نذرکردیا اور دنیا سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگئے، حکومتی اداروں کا بیان آتا ہے کہ وہ کسان آر پی ایف کی گولی سے نہیں مرے ہیں، اگر انہیں مارنے والا کوئی اور ہے تو اب تک وہ قانون اور پولس کی دسترس سے باہر کیوں ہیں، کیوں قانون ان پر شکنجہ کسنے سے عاجز ہے، کیوں پورے مندسور میں کرفیو لگا ہوا ہے، صورت حال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ سرکار کو کرفیو لگانا پڑگیا ہے پھر بھی کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا ہے، تشدد کی خبر اور بھی کئی جگہوں سے آئی ہے، خود مہاراشٹر میں تشدد رونما ہوچکا ہے، لیکن ان سب کے باوجود حکومت پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے حکومت لندن حملہ میں مرنے والوں پر ٹوئٹ تو کررہی ہے لیکن کسانوں کے پولس کی گولیوں سے چھلنی ہونے پر انہیں کوئی افسوس نہیں۔ ملک کا کسان پیشاب پاخانہ کھانے پر مجبور ہے لیکن وزیر اعظم کے کان پرجوں نہیں رینگ رہی ہے ، کبھی ان سے ملاقات کا ٹائم نہیں ملتا ،جرمنی میں جاکر بالی ووڈ اداکارہ سے روبرو ہونے میں انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ مگر غریب کسانوں کا درد بانٹنا انکی دسترس میں نہیں ۔
اب تک مند سور میں چھ کسان موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں حکومت مکمل طور پر ناکام ہے۔کسانوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے مہاراشٹر میں بھی کل ایک کسان نے خودکشی کرلی اور خودکشی نوٹ میں لکھا کہ میری لاش کی اس وقت تک آخری رسومات ادا نہ کی جائیں جب تک وزیر اعلیٰ فڈنویس یہاں نہ پہنچ جائے۔ آخر کس جنون کے تحت یہ کسان اپنے مطالبات پورے کرنے کے لئے کوشاں ہیں انہیں اپنے مطالبوں سے دستبردار ہوجانا چاہئے ،کیوں کہ ملک اب ہٹلر شاہی کی طرف چل پڑا ہے یہاں غریبوں اور کسانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اگر ایسا ہی ہوتا تو میڈیا اس معاملے کو سر پر اُٹھا لیتی لیکن “گودی میڈیا” کو القاعدہ، مسلمان، طلاق، کشمیریوں کے تشدد اور پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک سے فرصت ہی نہیں وہ ان تمام ایشو کو اُٹھا کر ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے میں مصروف ہے کچھ ٹی وی چینلز کسانوں کے مطالبات اُٹھا بھی رہیں تو ان پر چھاپہ ماری کی جارہی ہے انہیں سی بی آئی کے ذریعہ ہراساں کیاجارہا ہےاور آواز حق کو دبانے اور میڈیا کی آزادی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس صورت حال کو دیکھ کر قلب پر یہ سوال دستک دے رہا ہے ، کیا ملک میں کسانوں کو رہنے کا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا ملک میں کسانوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کی بھی آزادی نہیں ہے؟ لگ تو ایسا ہی رہا ہے ۔ مند سور میں جمعہ تک احتجاج کے نو دن ہوچکے ہیں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے حکومت ان کسانوں کی مدد کرنے ان کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے کانگریس پر الزام تراشی کررہی ہے کہ وہ انہیں اُکسا رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کسانوں کی فکر کی جاتے ،انکے مسائل کا سدباب کیا جاتا ،انہیں پیش آمدہ مشکل ترین حالات میں انکی داد رسی کی جاتی ، تاکہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور نہ ہوتے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ،ایسا محسوس ہوتا ہے ،یہاں وجے مالیہ جیسے بھگوڑوں کو آرام تو مل سکتا ہے مگر پورے دیش کو غذا فراہم کرنےوالے ،ہماری ترقی کے لئے خام مال دستیاب کرنے والے حتی کہ غیر ممالک میں ایکسپورٹ کی جانے والی اشیائے خوردنی مہیا کرنے والے کسان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ،انہیں سکون نہیں، انہیں بینک کے تقاضوں سے پل بھر کو چین نہیں ان کے قرض معاف نہیں ہوتے ،ایسا لگتا ہے سرامایہ دارانہ نظام نافذ ہو گیا ، جس طرح پرانے زمانے میں کسان پوری محنت ومشقت کرنے کے باوجود جاگیرداروں کے غلام ہوا کرتے تھے ،اور پیٹ بھرنا بھی انکے لئے قلعہ فتح کرنا ہواکرتا تھا ،اسی طرح اب وہ بینک اور حکومت کے غلام ہوکر رہ گئے ہیں اگراسی طرح کسان خودکشی کرتے رہے،ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے اور ان کا احتجاج دراز ہوتا چلا گیا تو عین ممکن ہے ہندوستان کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے۔ جب ہم بچپن میں اسکول میں پڑھا کرتے تھے تو اس وقت ایک نعرہ تھا ’جے جوان جے کسان‘لیکن اب سرحدوں پر فوجیوں کے ساتھ ہورہا ناروا سلوک اشیائے خوردنی کی قلت اور اس پر حکومت کاتوجہ نہ کرنا ، کسانوں کی خودکشی اور پولس اہلکاروں کی گولیوں سے چھلنی ہوتے ان کے جسم دیکھ کر لگتا ہے اس نعرہ کو تبدیل کردینا چاہئے اور یوں کہناچاہئے ’مرو کسان، مرو جوان‘۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے رکن ہیں)
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *