حافظ جنید کی شہادت اور ناٹ ان مائی نیم تحریک سے مودی کی بولتی بند

حافظ جنید کی شہادت اور ناٹ ان مائی نیم تحریک سے مودی کی بولتی بند

وزیر اعظم نے گئو رکشک دہشت گردوں کو گئو بھکت قرار دے کر اپنے ہی بیان کی ہوا نکال دی
شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان کھل ہی گئی!
زبان کھلنے کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ مودی گونگے تھے، وہ خوب بولتے تھے اور آج بھی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، ایسی باتیں جن میں سچ کم اور جھوٹ زیادہ ہوتا ہے، وہ لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے اور آج بھی بڑھ چڑھ کر دعوے کررہے ہیں، ایسے دعوے جن کی قسمت میں ’تکمیل‘ کا لفظ لکھا ہوا نہیں ہے۔ زبان کھلنے کا مطلب یہ کہ ان کی خاموشی ’گئو بھکتوں‘ کی ’حرکتوں‘ پر کھلی ہے۔ انہوں نے ’گئو بھکتی‘کے نام پر انسانوں کے قتل کی وارداتوں کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا ہے؛ اب یہ جو کچھ بھی انہوں نے کہا اس کا مطلب واقعی کیا ہے اس پر آگے کی سطروں میں بات ہوگی مگر اتنا تو ہے کہ انہیں ملک بھر میں قاتل ہجوم (Lynch Mob)کے ہاتھوں بے قصور مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل کی وارداتوں پر بات کرنے پر ’مجبور‘ ہونا پڑا ہے۔ اور یہ سولہ سالہ جنید خان کی شہادت اور اس شہادت کو بنیاد بنا کر ملک بھر میں گئو رکشک دہشت گردوں اور سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں کے ا ٓتنک وادیوں کے ہاتھوں لوگوں کو بزدلانہ اور شرمناک انداز میں قتل کرنے کے خلاف ’ناٹ ان مائی نیم‘ کی پراثر شہری تحریک کا ’کرشمہ‘ ہے۔

مودی نے جو کہا اس پر ’بھروسہ‘ نہیں کیا جاسکتا۔
مودی پہلے بھی ’گئو رکشکوں‘ کے تشدد کے خلاف بول چکے ہیں او ربقول دہلی کے ڈاکٹر تسنیم رحمانی وزیر اعظم کے بیان کے بعد ’گئو رکشکوں‘ کا تشدد ٹھنڈا پڑنے کے بجائے مزید بڑھا تھا۔ کل، جمعرات ۲۹؍جون کی ہی مثال لے لیں، مودی گجرات کے گاندھی آشرم میںتھا ’گئو بھکوں‘ کو ’درس‘ دے رہےتھے، گاندھی جی کا ذکر کرہے تھے ۔۔۔سچ بتائیں مودی کی زبان سے گاندھی جی کا نام سن کر ہنسی آئی تھی کیو ںکہ مودی اینڈ کمپنی تو اس ناتھو رام گوڈسے کی بھکت ہے جس نے گاندھی جی کو قتل کیاتھا۔۔۔ کہہ رہے تھے کہ گاندھی جی یہ ’حرکتیں‘ یعنی ’گئو بھکتوں‘ کا تشدد، پسند نہ کرتے او رکل ہی جھارکھنڈ میں ’بیف‘ کے شبے میں ایک مسلمان علیم الدین کو موت کے گھاٹ اتار ا جارہا تھا! تو بجائے اس کے کہ وزیر اعظم کی بات گئو رکشک دہشت گرد سنتے اور اس پر عمل کرتےانہوں نے ان کی بات ایک کان سے سنی اور دوسرے کان سے اڑادی اور ہاتھوں میں ڈنڈے، لاٹھیاں اور ترشول وکلہاڑی لے کر علیم الدین پر پِل پڑے۔
علیم الدین کا قتل گئو رکشک دہشت گردوں کے ہاتھوں دادری کے محمد اخلاق کے قتل سے شروع ہوئے سلسلے کا تازہ ترین قتل ہے۔ جب دادری میں محمد اخلاق کو قتل کیاگیاتھا تب بھی عرصے تک مودی خاموش تھے۔ مودی کی خاموشی اس لیے ’خطرناک‘ تھی کہ ہ ملک کے ’پرمکھ‘ تھے اورخاموش رہ کر گویا انہوں نے گئو رکشک دہشت گردوں کی ’خاموش حمایت‘ کی تھی، کم از کم سمجھا یہی گیا۔ بعد میں انہوں نے زبان کھولی ضرور مگر محمد اخلاق کے قتل کی مذمت، بالکل اسی طرح نہیں کی جیسے آج تک انہوں نے گجرات 2002 کے قتل عام پر اظہار افسوس نہیں کیا ہے۔ محمد اخلاق کے قتل کے بعد ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوگیا اور ہریانہ، کرناٹک، اونا(گجرات)، مدھیہ پردیش، مظفر نگر، لکھنو، پھر کرناٹک، میوات، جھارکھنڈ، جے پور،ہاتھرس، اڈوپی، راجستھان، جمشید پور، جموں وکشمیر، دہلی، نوئیڈا، دہلی، بھوپال، بھونیشور، مالیگائوں(واشم)، گوہنا، باڑمیر، اور ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں لوگ ’بیف‘ اور گائے کے نام پر قتل کیے گئے۔ بری طرح سے مارے پیٹے گئے، یا بچے اغوا کرنے کے نام پر موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ کئی جگہ زخمیوں کو ’جے شری رام‘ کہنے پر جبراً مجبور کیاگیا، لوگوں کو گائے کا گوبر کھلایا اور گئو موتر پلایاگیا۔ اِن سارے واقعات میں ۹۰ فیصد کے قریب مہلوکین اور متاثرین مسلمان تھے، باقی دلت اور دیگر اقلیت کے تھے۔ یعنی یہ سارا تشدد جو ’بیف‘ اور گائے کے نام پر کیاگیا اور کیا جارہا ہے حقیقتاً مسلمانوں کے خلاف تھا اور ہے۔

مودی سارے عرصے خاموش رہے!
ان کی چپی نہیں ٹوٹی۔ مودی کے وزراء گئو رکشک دہشت گردوں کی کبھی خاموش رہ کر اور کبھی زبان کھول کر حمایت کرتے رہے۔ محمد اخلاق کےقتل کے بعد بی جے پی کے وزیر مہیش شرما اور بی جے پی لیڈر سنگیت سوم کا جو مکروہ کردار سامنے آیا اسے ملک کے آئین پر ایک ضرب قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ محمد اخلاق کے قاتلوں کو ’دیش بھکت‘ ، ’قوم پرست‘ قرار دیاگیا او رانہیں اعزازات سے نوازاگیا۔ یہ سب مودی کی حمایت سے ہی ممکن ہوسکا۔ ’بیف‘ اور گائے کے نام پر اس ملک میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف جو فرقہ وارانہ ماحول بنایاجارہا ہے یا بنادیاگیا ہے وہ اس ملک کو کہاں لے جائے گا اس کا بس تھوڑا سا ہی اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ تریپورہ کے بھاجپائی گورنر تتھا گتھا رائے حال ہی میں جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی ڈائری کا حوالہ دے کر کہہ ہی چکے ہیں کہ ’ہندو مسلم مسئلہ بناء سوِل وار کے حل نہیں ہوسکتا‘۔ تو ملک کس رخ پر جارہا ہے بہت واضح ہے۔ ترقی کے بلند وبانگ دعوئوں کے بیچ ’مودی سرکار‘ میں اقلیتوں کا جیناد وبھر ہے۔ مودی کی خاموشی اس سارے عرصے میں نہیں ٹوٹی ،ا سوقت بھی وہ خاموش تھے جب جھارکھنڈ میں بچہ چوری کے الزام میں چھ سات افراد کو ایک بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیاتھا ۔۔۔حملہ آوروں کے آگے خون سے لت پت زخمی نعیم مسلمان کی،جو بعد میں ماردیاگیا، تصویر سوشل میڈیا پر خواب وائرل ہوئی تھی۔۔۔ اور مودی کی خاموشی اس وقت بھی نہیں ٹوٹی جب مدھیہ پردیش کے پندرہ مسلمانوں کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہندوستان پر فتح کی خوشیاں منانے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاگیا، ان پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیاگیا اور نہ ہی مودی کی خاموشی اس وقت ٹوٹی جب ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا باضابطہ گوا میں عزم کیاگیا اور اس طرح ملک کے آئین کی ناقدری کی گئی۔ مودی نے تو یوپی اے کے کانگریسی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی بڑھ کر ’چپی‘ سادھ رکھی تھی، وہ بولتے خوب تھے، دعوے اور وعدے بھی خوب کرتے تھے مگر مسلمانوں اور دلتوں کے قتل پر، ان کی تباہی وبربادی پر ان کی زبان پر تالا لگ جاتا تھا۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں تشدد اور انتہاپسندی کی کسی بھی ایک و اردات میں اگر کوئی مرنا تو دور زخمی بھی ہوتا تھا تو مودی ’ٹوئٹ‘ کرکے انسانیت کی دہائی دیتے اور اظہار تاسف کرتے نظر آتے تھے۔ ملک کی دو صحافی خواتین رعنا ایوب اور صبا نقوی نے سوشل میڈیا پر مودی کے اس رویے پر کئی بار اظہار حیرت بھی کیا کہ ’’مودی کو ملک کی قتل وغارت گری اور ملک کے دہشت گرد بھلا کیو ںنظر نہیں آتے‘‘!

یہ جنید کی شہادت تھی جس نے ’کرشمہ‘ کردکھایا!
جنید، ہریانہ کے فرید آباد ضلع کے ایک گائوں کھندولی کا سولہ سالہ بچہ، حافظ قرآن جو میوات کے ایک مدرسہ میں علم دین حاصل کررہا تھا۔ عید سے بس چند ہی روز قبل وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دہلی کے صدر بازار سے عید کے کپڑے خرید کر ۔۔۔جو وہ اب کبھی نہیں پہن سکے گا۔۔۔پسنجر ٹرین کے ذریعے گھر لوٹ رہا تھا کہ اس کے اور اس کے بھائیوں کے ’مسلمانی حلیے‘ کو دیکھ کر وہ ’دہشت گرد‘ جو مودی کی خاموشی سے بے لگام ہوچکے ہیں، ان پر پِل پڑے۔ شہید حافظ جنید ، مفتی بنناچاہتا تھا، اس کی آنکھوں میں نہ جانے کتنے خواب رہے ہوں گے او رنہ جانے اس نے زندگی جینے کے کیسے کیسے منصوبے بنارکھے ہوں گے! سب کچھ پل بھر میں خاک ہوگیا۔ چاقوئوں کے نہ جانے کتنے گھائو جنید کے جسم پرلگے، اس کے بھائیوں نے حملے اور چاقوئوں کے زحم سہہ کر اسے بچانے کی بھر پور کوشش کی لیکن چار لڑکے ’درندوں‘ کی بھیڑ کے آگے بے بس ہوگئے اور جب بلبھ گڑھ کے اسیشن پر جنید ، ہاشم اور شاکر کو چلتی ٹرین سے باہر پھینکا گیا تب جنید کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ ایک سولہ سالہ کمسن لڑکے کے بہیمانہ قتل کی بزدلانہ واردات نے سارے ملک کو دہلا کر رکھ دیا۔ بلکہ ساری دنیا اس واردات سے دہل گئی۔۔۔مہذب سماج غصے سے ابل پڑا۔اس قتل کو، حالانکہ بھاجپایوں سے لے کر پولس تک، ٹرین کی سیٹ کو بنیاد بناکر ہوئے جھگڑے کے سبب قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے مگر حافظ جنید کا قتل ’بیف‘ اور اس کے مسلمان ہونے کی بنا پر ہی ہوا ہے۔ ’درندوں کی بھیڑ‘ اور ’قاتل ہجوم‘ نے ان لڑکوں کو ’کٹلّے‘ کہا، گائے کا گوشت کھانے کا طعنہ دے کر سارے ڈبے کو اُکسایا اور چاقوئوں سے حملہ کردیا۔ افسوس کہ سارا ڈبہ، حالانکہ اس میں شرفاء ضرور رہے ہوں گے، اس روز گئو رکشک دہشت گردو ں میں تبدیل ہوگیا تھا۔
حافظ جنید کی شہادت نے ملک کے کونے کونے میں غم وغصے کی ایک ایسی لہر دوڑادی کہ ہر مہذب اور درد مند شہری ایک غیر معروف خاتون فلمساز صبا دیوان کی ’ناٹ اِن مائی نیم‘ کی تحریک میں شامل ہونے کے لیے دوڑ پڑا۔ ہندو اس تحریک میں بڑے پیمانے پر شامل تھے۔ مسلمانوں سے بھی زیادہ تعداد میں۔۔۔یہ ایک ایسی تحریک تھی جس نے لندن سے لے کر امریکہ تک میں ایک ہلچل مچا دی۔ عالمی اخبارات نے اور عالمی الیکٹرانک میڈیا نے ’ناٹ ان مائی نیم‘ کو متاثر کن انداز میں ساری دنیا کے سا منے پیش کیا۔ مودی کی جو بیرون ممالک کےد ور ے پر تھے ’بولتی بند ہوگئی‘ ۔ مطلب یہ کہ وہ یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ان سے غیر ممالک میں کسی نے سوال کردیا تو وہ کیا جواب دیں گے۔ اور یہ جو زبان کھلی ہے اس تحریک کے دبائو میں کھلی ہے، ساری دنیا کو یہ بتانے کے لیے کھلی ہے کہ ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، وہاں کے وزیر اعظم کے لیے یہ سب ’ناقابل برداشت‘ ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ مودی نے اپنےبیان میں ’گئو بھکت‘ کہہ کر ہی اپنے بیان کی ہوا نکال دی ہے۔ یہ جو سارے ملک میں بلّم ، لاٹھی، ڈنڈے، ترشولیں اوربندوقیں لے کر بیف اور گائے کے نام پر کمزوروں اور نہتوں کو قتل کرتے پھر رہے ہیں بھلا ’گئو بھکت‘ کیسے کہے جاسکتے ہیں! یہ وہ گئو رکشک ہیں جنہیں ’دہشت گرد‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ مودی نے اپنے بیان میں حافظ جنید کی شہادت پر اظہار افسوس تک نہیں کیا۔ ایک وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں کہناچاہئے تھا کہ ایک نو عمر کی موت ملک کا بہت بڑا نقصان ہے مگر وہ یہ نہیں بول سکے۔ ان کا سارا بیان اس وقت تک محض ایک ’ناٹک‘ ہی سمجھا جائے گا جب تک وہ اپنے بیان پر کوئی ’عمل‘ نہ کریں۔ ’عمل‘ کے لیے انہیں کوئی ورزش نہیں کرنی ہے بس سارے ملک کی پولس اور انتظامیہ اور ریاستی حکومتوں کو یہ حکم دینا ہے کہ ’قاتل ہجوم‘ کو پکڑا جائے، قتل کے مقدمات درج کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔۔۔اور یہ کہ آئندہ اس طرح قتل کی وارداتیں نہ ہوں، قتل پر آمادہ ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے ہر طرح کی طاقت کا استعمال کیاجائے ، ضرورت پڑنے پر، سینوں پر نہ سہی، کمر کے نیچے گولیاں داغی جائیں۔ وہ یہ تنبیہ کریں کہ حکم عدولی کرنے پر پولس اہلکاران کے خلاف بھی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف بھی کڑی کارروائی کی جائے گی۔ اگر مودی کا سینہ واقعی ۵۶؍ انچ کا ہے، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں کھل کر ان دہشت گردوں کے خلاف میدان میں اترنا ہوگا۔ ورنہ بیان بازی بے معنی ہی کہی جائے گی، گئو رکشک دہشت گرد ا یک کان سے سن کر اسے دوسرے کان سے اڑادیں گے، بلکہ وہ اب تک دوسرے کان سے اڑا بھی چکے ہوں گے۔
’ناٹ ان مائی نیم‘ کو سلام ہے۔ یہ تحریک خوف او رڈر کے خلاف ہے، یہ تحریک ا س ملک کو فاشزم کی طرف ڈھکیلنے کے خلاف ہے او ریہ تحریک کمزوروں، غریبوں، اقلیتوں، جن میں مسلمان، دلت، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں، کے قتل اور تباہی وبربادی کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ اس تحریک کےساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔ افسوس کہ ۲۸ جون کو ملک بھر میں جو مظاہرے ہوئے ان میں مسلمان شامل تو تھے مگر جس طرح سےانہیں شامل ہوناچاہئے تھا اس طرح سے نہیں تھے۔ مسلم تنظیمیں اور جماعتیں ندارد تھیںأ امید تھی کہ جمعیۃ علماء ہند کے دونوں ہی دھڑوں کے اعلیٰ عہدیداران حضرت مولانا ارشد مدنی، مولانا سید محمود مدنی، مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری اور جماعت ا سلامی کے مولانا جلال الدین عمری ، ملی کونسل کے منظور عالم اور دیگرمسلم تنظیموں اور جماعتوں کے ذمے داران اس تحریک میں نظر آئیں گے مگر یہ امید بے کار گئی۔۔۔یہ سب نہ جانے کہاں تھے! نہ راج ناتھ سنگھ سے ملنا فائدہ مند ہے او رنہ ہی عید ملن کی تقریب میں ان بے حس سیاست دانوں کو بلانافائدہ مند ہے جن کی زبانیں ہجوم اور بھیڑ کے ہاتھوں قتل کی وارداتوں پر خاموش ہیں۔ سوائے کمیونسٹ لیڈر بنداکرات کے کوئی حافظ جنید شہید کے اہل خانہ سے ملنے نہیں پہنچا۔ ان سب سے اب بھی امید ہے کہ یہ آئندہ ایسی تحریکوں سے جڑیں گے۔ افسوس اس پر بھی ہے کہ کانگریس بے عمل ہے، اس پر اب تک ہار کی سوگواری طاری ہے، ا کھلیش اور ان کی سماج وادی پا رٹی بے زبان ہوچکی ہے، ملائم سنگھ اپنے بھائی شیوپال یادو کے ساتھ بی جے پی کے خیمے میں جابیٹھے ہیں۔۔۔اپوزیشن بے حس اور بے حرکت ہے۔ اور مودی سرکار بقول معروف صحافی ونود دوا’یوں لگتا ہے جیسے کہ اس ملک میں سرکار ہے ہی نہیں‘۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *