موصل کے ’قدیم شہر‘ میں 500 عمارتیں مکمل تباہ، 5000 متاثر

موصل کے ’قدیم شہر‘ میں 500 عمارتیں مکمل تباہ، 5000 متاثر

دوبئی:7؍جولائی(بی این ایس؍ایجنسی)
اقوام متحدہ نے سیٹلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی روشنی میں بتایا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران شہر کا بیشتر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اولڈ موصل سٹی میں کم سے کم 500 عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جب کہ 5000 عمارتین جزوی طور پر متاثر یا ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔
امریکی حمایت یافتہ عراقی فورسز کے ایک سینیر عہدیدار کا کہنا ہے کہ گھمسان کی لڑائی کے بعد داعشی دہشت گردوں کو اب دریائے دجلہ کنارے صرف 250 مربع میٹر کی جگہ پر محصور کردیا گیا ہے،جس کے بعد داعشی دہشت گردوں نے فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے خود کش حملوں کا سہارا لیا ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ ماہ سے موصل میں جاری لڑائی کے نتیجے میں 9 لاکھ شہری بے گھر ہوئے ہیں۔ جب کہ شہر کی نصف آبادی جنگ سے پہلے سے موصل سے نقل مکانی کرگئی تھی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موصل میں جنگ کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانےپر نقصان پہنچا اور بحالی کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی رقم درکار ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے 18 جون کے بعد اولڈ موصل میں شروع کی گئی لڑائی کےدوران تباہ ہونے والی عمارتوں کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے کم عمر عرصے میں پرانے موصل شہر میں 2589 عمارات کو نشانہ بنایا گیا جن میں 153 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق موصل میں عمارتوں کی تباہی کی اہم وجوہات میں عراقی فوج کے توپخانے سے گولہ باری، اتحادی فوج کی بمباری اور داعش کی طرف سے کیے گئے خود کش حملے شامل ہیں۔
تصاویر کی روشن میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ پانچ روزہ لڑائی کے دوران اولڈ سٹی میں 1451 عمارتیں حملوں کا نشانہ بنیں جن میں 43 مکمل طور تباہ ہوگئیں۔ دیگر عمارتوں کے ڈھانچے تو کھڑے ہیں مگران میں سے بیشتر ناقابل استعمال ہیں۔
اولڈ موصل میں داعش کے خلاف لڑائی کے پہلے 12 روز میں دہشت گردوں نے فورسز کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر خود کش حملے کیے جس کے نیتجے میں 1496 عمارتیں متاثر ہوئیں جن میں 294 مکمل طور پرتباہ ہوگئیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *