مودی کا دورۂ اسرائیل

مودی کا دورۂ اسرائیل

ہندو توا اور صہیونیت کا خطرناک گٹھ جوڑ
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)

’آئی فار آئی‘!
اسرائیل کے تین روزہ دورے پر ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی زبان سے نکلے اس جملے کی اگر وضاحت نہ کردی ہوتی تو لوگ اسے اسی معنیٰ میں لیتے جس معنیٰ میں یہ جملہ استعمال ہوتا چلا آیا ہے، یعنی ’ آئی (Eye)فار آئی(Eye)‘، ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘۔۔۔ یہ تو وزیر اعظم کی ’دانش‘ تھی جس نے ان کی زبان سے کہلوا دیا کہ ’آئی فار آئی یعنی انڈیا اسرائیل کے لیے اور اسرائیل انڈیا کے لیے‘ ۔ لیکن وہ جو مودی کی ’چرب زبانی‘ سے واقف ہیں ان کا ماننا یہی ہے کہ ’آئی فار آئی‘ کی وزیر اعظم نے چاہے جو تشریح کی ہو، اسرائیل میں اس جملے کے استعمال کا مقصد دہشت گردوں کو اصلاً یہ اشارہ دینا ہی ہے کہ ’اب انڈیا اور اسرائیل نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو مشترکہ عزم اور ارادہ کیا ہے اس میں ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے اصولوں پر ہی عمل کیاجائے گا‘۔ اور دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے سدّباب کے لیے اگر کوئی حکومت تنہا یا دنیا کی حکومتیں مشترکہ طور پر ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے اصول پر عمل کرتی ہیں تو انسانی حقوق کی تنظیمیں بھلے اس کی مخالفت کریں ملکوں کے حفاظتی اور اسٹراٹیجک نقطۂ نظر سے اسے غلط نہیں کہا جاسکتا۔
پر سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ’دہشت گرد‘ ہیں جن سے نمٹنے کا بیڑا انڈیا اور اسرائیل نے مل کر اُٹھایا ہے اور ضرورت پڑنے پر جن کے خلاف ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے غیر انسانی اصول پر عمل کیاجاسکتا ہے؟ او رکیا وہ واقعی ’دہشت گرد‘ہیں بھی؟ اس سوال کے جواب سے پہلے وزیر اعظم مودی کے دورۂ اسرائیل کے چند اہم پہلوئوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مودی کے دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیاجارہا ہے۔
اور یہ دورہ ’تاریخی‘ ہے بھی۔ اس معنیٰ میں کہ مودی نے اپنے اس دورے سے اُن ساری قدروں کو روند دیا ہے جن کے سبب ساری دنیا میں ہندوستان کو سب سے بڑی جمہوریت کا درجہ حاصل تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ مودی کو اسرائیل کا دورہ نہیں کرناچاہئے تھا، بالکل کرناچاہئے تھا، کیوں کہ آج جب ساری دنیا ایک ’عالمی گائوں‘ کی شکل میں ڈھل چکی ہے کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک سے رشتے اور ناطے توڑ کر ’عالمی سماج‘ میں یکا وتنہا نہیں کھڑا رہ سکتا۔ اسرائیل سے سفارتی اورتجارتی رشتوں کی استواری میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن جب اخلاقی اور جمہوری اور انصاف پر مبنی قدروں کو پیروں تلے روند کر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے کسی اور ملک پر روا ’ظلم وجبر اور استبداد‘ کو اندیکھا کرکے اس کی توثیق کرنے لگے تب انگلیاں اُٹھنے لگتی ہیں۔۔۔۔اور مودی نے یہی کیا ہے۔
ہندوستان وہ پہلا ملک تھا جس نے فلسطین کی آزادی کو تسلیم کیا تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھلے ہی اسرائیل کو ہندوستان میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دی تھی مگر انہوں نے عربوں کو ناراض کرکے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے سے ہمیشہ ہندوستان کو بچائے رکھا۔ یہ سچ ہے کہ اسرائیل سے عرصہ دراز سے ہندوستان کے تجارتی تعلقات رہے ہیں لیکن ہندوستان نے ۱۹۹۲ ءکے بعد بھی، جب اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا رائو نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، فلسطین کے کاژ کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ نریندر مودی سفارتی تعلقات بحال ہونے کے ۲۵ برس بعد اسرائیل گئے تو ملک کے کسی معمولی قائد کی حیثیت سے نہیں ایک وزیراعظم کی حیثیت سے گئے۔ ان کا وہاں کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ’دوست‘ کہہ کر اور سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا، وہاں کے صدر ریوون ریولن نے تمام تکلفات کو برطرف رکھ کے ان سے ملاقات کی؛ یہ کسی ملک کے پرمکھ کا اسرائیل میں واقعی تاریخی استقبال تھا مگر اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ مودی ’مسئلہ فلسطین‘ پر کچھ نہ کہیں او رانہوں نے واقعی کچھ نہیں کہا! وہ ہندوستان کے سابقہ لیڈروں کی طرح فلسطین کے ہیڈ کوارٹر رملہ بھی نہیں گئے۔ یعنی انہوں نے اپنے دورے کے اندراجات میں ’فلسطین‘ کو کسی طرح سے بھی شامل کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی۔ ۔۔میڈیا اسے ’مثبت‘ طور پر پیش کررہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان، اسرائیل سے علاحدہ اور فلسطین سے علاحدہ روابط رکھ رہا ہے، اس نے نہ فلسطین کو فراموش کیا ہے اور نہ ہی فلسطینی کاژ کو۔ پر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی لکیر کھینچ کر کوئی ان کے درمیان پائے جانے والے ’تنازعے‘ کو نظر انداز کرسکتا ہے؟
مودی نے یہی کیا ہے۔۔۔
اپنے دورے میں مودی او رنیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ہی ملک دہشت گردی کے شکار ہیں اور دونوں کو ہی اپنے اپنے دفاع کا حق ہے اور دونوں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔ یہ دہشت گرد کون ہیں؟ اسرائیل کی نظر میں جو ’دہشت گرد ‘ ہیں وہ ساری دنیا کے سا منے ہیں: فلسطینی۔ اسرائیل کا ناجائز قیام عربوں کی سرزمین پر ہوا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ آج ایک اندازے کے مطابق وہاں عربوں کی آبادی سولہ سترہ لاکھ ہے۔ یہ دوسرے درجے کے شہری بنادئیے گئے ہیں۔ فلسطینی عربوں کی بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد کرکے یہودی بستیوں میں تبدیل کردی گئی ہیں۔ صابرہ اور شتیلہ اور دوسری بستیوں کے قتل عام آج بھی زندہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ۱۹۶۷ ءمیں جو جنگ ہوئی تھی، جسے شش روزہ جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے ، اسرائیل نے اس جنگ میں اردن سے مغربی کنارا او رمشرقی یروشلم چھین لیاتھا، مصرسے سینائی اور غزہ اور شام سے گولان کی پہاڑیاں ۔۔بعد میں اس نے سینائی واپس کردیا اور غزہ کو خالی مگر اس طرح کہ ۲۰۰۵ ءسے غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہے۔ یہودی فوجی اسے گھیرے رہتے ہیں، اور مغربی کنارا، مشرقی یروشلم اورگولان کی پہاڑیوں پر ہنوز وہ قابض ہے۔۔۔ایک مبصراسٹینلی جانی نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ بھلا کیسے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی لکیر کھینچ کر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو کوئی نظر انداز کرسکتا ہے؟ یہ سوال مودی سے بھی ہے ، جنہوں نے اپنے دورے سے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے ناجائزقبضے کو نظر انداز کردیا ہے۔ اور آزادی کی جنگ لڑنے والے فلسطینیوں کودہشت گردوں کے زمرے میں شامل ۔
یہ ’نظر انداز‘ کیاجانا نادانستہ نہیں دانستہ ہے۔
مودی او رنیتن یاہو کی ملاقات صرف معاشی اور تجاری اور سفارتی معاملات پر کی گئی ملاقات نہیں تھی بلکہ یہ نظریاتی ملاقات بھی تھی۔ وہ جو تاریخ سےواقف ہیں خوب جانتے ہیں کہ سنگھ پریوار یعنی آر ایس ایس اور اسرائیل کے رشتےبڑے ہی قدیم ہیں۔ جن دنوں قیام اسرائیل کی ہندوستان نے مخالفت کی تھی سنگھیوں نے اس مخالفت کی سخت مخالفت کی تھی۔ اور یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسرائیل سے ہندوستان کے ’رشتوں‘ کی استواری میںاہم ترین کردار آر ایس ایس کے تین پرچارکوں کا رہا ہے۔
یہ پہلے سنگھی وزیر اعظم ا ٹل بہاری واجپئی تھے جنہوں نے ۲۰۰۳ ءمیں ۔۔۔۔گجرات فسادا ت کے کوئی ایک سال کے بعد ۔۔۔۔اسرائیل کے وزیراعظم ایرل شیرون کا ، جنہیں صابرہ شتیلہ کا قصاب کہاجاتا ہے، ہندوستان میں تاریخی خیر مقدم کیاتھا۔ او ریہ پرچارک نریندر مودی ہی تھے جنہوں نے گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر اسرائیل کا دورہ کیاتھا اور اب وزیراعظم کے طو رپر اسرائیل گئے۔۔۔اور تیسرے پرچارک ، آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک بالا صاحب دیورس کے بھائی بھائورائو دیورس تھے، جنہوں نے اس وقت کے وزیراعظم نرسمہا رائو پر اپنی قربت سے ایسا اثر ڈالا کہ ا نہو ںنے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرلیے۔ تو ہندو راشٹر کے قیام کے لیے سرگرم ’دیش بھکتوں‘ او راسرائیل کو ’یہودی راشٹر‘ بنانے والے صہیونیوں کے درمیان بڑا قدیم رشتہ ہے۔ مودی نے پہلے وزیراعلیٰ کے طو رپر اور اب وزیر اعظم کے طو رپر اسرائیل جاکر اس رشتے کو ’ جسے ’خطرناک‘ بھی کہاجاسکتا ہے او ر ’خوفناک‘ بھی، مضبوط کیا ہے۔
لوگ جانتے ہیں کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ ( Knesset)نے ایک بِل منظور کیا ہے جس میں اسرائیل کے معنیٰ بتائے گئے ہیں ’’یہودی عوام کا قومی گھر‘‘ اور آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک گروجی گولوالکر کی کتاب We or our nationhood definedمیں صاف لفظوں میں یہی بات ہندوئوں کے لئے تحریر ہے کہ ’انڈیا ہندوئوں کی سرزمین ہے اور یہاں جو بھی غیر ملکی نسل رہتی ہے اسے ہندومت اور زبان اپنانی ہوگی‘۔ ۔ ۔ لہذا مودی کے یہ الفاظ ’انڈیا اسرائیل کے لیے اور اسرائیل انڈیا کے لیے‘ اب معنیٰ میں بے حد واضح ہو جاتے ہیں کہ دونوں ہی نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ جس طرح ’صہیونیت‘ یہودیوں کے ’نسلی تفاخر‘ کی تحریک ہے اسی طرح ’ہندوتوا‘ ہندوئوں کے ’گَرْو‘ کی تحریک ہے۔ مودی نے رملہ نہ جاکر یہی ثابت کیا ہے کہ انہیں نہ فلسطینی کاژ کی پرواہ ہے نہ فلسطین کی بلکہ وہ اسرائیل اس مقصد سے آئے ہیں کہ ہندو توا اورصہیونیت کا ایک ایسا گٹھ جوڑ بن جائے جو ایک دوسرے کو اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں مدد فراہم کرے۔ اسی لیے جب اسرائیل یہ کہتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ فلسطین اور عرب دنیا اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف محاذ ہے۔۔۔ اور جب مودی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ ’صہیونیت‘ کی طرح ہی ’ہندوتوا‘ کوبھی ہندوستان میںاسی طرح جبر اور استبداد سے پھیلانے کا عزم کیے ہوئے ہیں جیسے اسرائیل۔
اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ قدریں بہت کم ہیں ۔ ہندوستان نے سامراجیوں سے جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی۔ بڑی تعداد میں ہندوستانیوں نے قربانیاں دیں۔جبکہ اسرائیل، سامراجیوں کی سازش سے ناجائز طو رپر وجود میں آیا۔ اسرائیل آج بھی قابض ہے اور فلسطینیوں کے خلاف ’دہشت گردی‘ کو روا رکھے ہوئے ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ دنیا کی واحد ایسی ریاست ہے جہاں سرکاری طو رپر ’دہشت گردی‘ کی اجازت ہے۔ ۔۔۔فلسطنیوں اور عربوں کے خلاف ۔ ۔۔سا ری دنیا، چند ایک ممالک کو چھوڑ کر اسرائیل کے ظلم وجبر کی مذمت کرتی ہے اور ایسے میں مودی اسرائیل کی تعریف کررہے ہیں!
ایسے وقت میں جب ۲۰۱۴ ءکے غزہ حملے کے لئے، جس میں تین ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ، اسرائیل کی ناکہ بندی کی کوششیں جاری ہیں، اقوام متحدہ میں لوگ اس کے خلاف بول رہے ہیں، اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمیشن میں اس کے خلاف ووٹنگ ہورہی ہےمگر ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔۔۔اس طرح کہ ہندوستان ووٹنگ سے غیر حاضر رہا ہے۔۔ایسے میں جبکہ صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی اسرائیل جاکر رملہ بھی جاتے ہیں مودی وہاں نہ جاکر اسرائیل کے ساتھ کھڑے نظرآتے ہیں۔ یہ دو انتہائی خطرناک نظریات۔۔۔۔ہندوتوا اورصہیونیت۔۔۔۔کا خطرناک ، خوفناک اور تشویشنا ک گٹھ جوڑ ہے ، اس گٹھ جوڑ میں ’قادیانیت‘ بھی شامل ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی، جن سے مودی حال ہی میں جاکر ملے تھے اور ’اسلامی دہشت گردی‘ کے خلاف مل کر لڑنے کا عزم کیاتھا، ’صلیبیت‘ بھی شامل ہے۔ ۔۔۔اللہ سب کو محفوظ رکھے۔ (آمین)
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *