بنگالی مظلوموں کی پکارکیا اب ہم جاگیں گے۔۔۔۔؟

بنگالی مظلوموں کی پکارکیا اب ہم جاگیں گے۔۔۔۔؟

فساد زدہ بنگال میں سیکولر جماعتوں کے نقلی چہرے!
سچ بول دوں ۔۔۔۔۔۔میم ضاد فضلی
پولیس اور نیم فوجی فورسس نے آج مغربی بنگال کے فساد زدہ ضلع شمالی 24پرگنہ کے تشدد زدہ علاقوں میں تشدد پر قابو پانے کے لیے مارچ کیاہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت کے مطابق بدوریا، سوروپ نگر، ڈیگنگا اور بشیر ہاٹ میں صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع کے مطابق کل شام بھی بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے۔ دکانیں، بازار، اسکول بند رہے۔ ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر بلکہ ہنوز معطل ہیں۔ یوں کہا جا ئے کہ مقامی حکومت اور لااینڈآرڈر کی جانب سے مستقل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح بھی فسادات کی آگ سرد ہوجائے اور میڈیا میں مسالہ کے طور پر استعمال کئے جانے والی نفرت کی آگ پر پردہ ڈال دیا جائے۔مگر تمام کوششیں ناکارہ ثابت ہورہی ہیں ،مقامی انتظا میہ کی جانب سے ہرشام یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب حالات قابو میں ہیں ۔مگر صبح ہوتے ہی کوئی نہ کوئی ناخوشگوار خبر ضرور منظر عام پر آ جاتی ہے،جس سے ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی باتیں اور دعوے جھوٹے ثابت ہوجاتے ہیں۔سارا ملک گزشتہ ایک ہفتہ سے بشیر ہاٹ سے لے کرتشدد زدہ دارجیلنگ تک کے حالات کو بدستور دیکھ رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی کی گزارشوں اور اپیل سے ہی عشق و مستی اور محبت کیلئے مشہور بنگال کے نفرت زدہ ماحول میں امن کے کبوتر کو اڑا نے کی راہ آسان ہو سکتی ہے۔گزشتہ ایک ہفتہ کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھ کر ہر کوئی یہی کہے گا کہ یہاں گزارشوں اور اپیلوں سے کام چلنے والا نہیں ہے اور نہ اس سے مشتعل عوام کے غصہ کو فرو کرنے میں کوئی مدد ملنے والی ہے۔یہاں یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ کسی تنازع یا مسئلہ کا حل پولیس کی بے مہارلاٹھی بازی اورعسکری طاقت کے استعمال میں بھی پوشیدہ نہیں ہے۔بلکہ اس سے حالات اور زیادہ بگڑینگے،اور لوگو کے غیظ و غضب میں مزید اضافہ ہوگا،لہذا اب پولیس کی لاٹھی کا استعمال ممتابنرجی کے حق میں نہیں ہے۔یہاں ہم مقامی سرکار کی نیتوں پر بھی کوئی انگشت نما ئی مناسب نہیں سمجھتے ،اس لئے کہ تشدد زدہ خالات کن عناصر کی جانب سے پیداکئے جاتے ہیں اوراس کی چنگاریوں میں مستقل پھوک مارنے کے فرائض کون لوگ انجام دیتے ہیں یہ سچ اب دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا ہے۔ہم نے ماضی قریب میں قومی دارالحکومت دہلی سے متصل مغربی اتر پردیش میں ایک سیکولر اور مضبوط سرکار کے دور میں پھیلائی گئی نفرت کی آگ کوبہت قریب سے دیکھا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح مرکز میں انتہا پسند قوت کے برسر اقتدار آنے کے بعد فرقہ ورانہ فسادات میں پولیس کو مطلوب اور عدالتوں میں ماخوذلوگوں کو نہ صرف یہ کہ نوازا گیا ،بلکہ ریاست میں سیکولر جماعت کی رخصتی کے بعد تمام تر سلامتی تام جھام سے ان عناصر کو لیس بھی کردیا گیاہے۔اب ممتا جی اور اس وقت ایک دوسرے پر الزامات کی یورش کرنے والی سیکولر روایات کی شبیہ رکھنے والی جماعتیں اتنی بھی بھولی نہیں ہیں کے انہیں یہ معلوم نہ ہوکہ مغربی بنگال میں نفرت کی آگ لگانے والے عناصر کون ہیں۔یہ بھی عرض کردیا جائے کہ ان عناصر کی گردنوںتک پہنچنا بھی بہت مشکل نہیں ہے ،مگراس کاز کو حاصل کرنے کیلئے تمام سیکولر فکر کی حامل جماعتوں کو اپنے اندر ایک دوسرے کو قبول کرنے کی صلاحیت و استطاعت پیدا کرنی ہوگی۔جس کی امید ہماری مغرور سیاسی قوتوں سے نہیں کی جاسکتی ،اس لئے کہ ساری دنیا گزشتہ 3ہفتو ں سے جلتے ہوئے بنگال کو اپنی کھلی آ نکھوں سے دیکھ رہی ہے اوراس تماشہ میں اپنے اپنے مفادات کی روٹی سیکنے والے سیاسی لیڈروں کی ایک دوسرے پر چھینٹا کشی بھی جا ری ہے۔خیال رہے کہ ایسے ہی حالات نفرت پیدا کرنے والوں کیلئے سازگار اور موافق ہوا کرتے ہیں ۔اس دوران چیف منسٹر کی فساد زدہ علاقوں کا دورہ نہ کرنے کی اپیل کو تمام سیاسی پارٹیوں نے نظرانداز کردیا۔ بائیں بازو، کانگریس اور بی جے پی کے وفود نے اس کی کوشش کی۔ مقامی افراد اپنے گھروں تک محدود رہے۔ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ ضلعی عہدیدار ارن کے مطابق سیاسی پارٹیوں کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سب کے باوصف برہم ہجوموں نے مکانوں پر حملے کئے اور گاڑیاں نذر آتش کیں۔ بدوریا اور مضافاتی علاقے اس اضطراب آمیز سکون کا منظر پیش کررہے تھے۔ اب ذرا اس پہلو پر بھی مغربی بنگا ل کے امن دوست شہریوں کو غور کرنا چاہئے کہ اس طرح کے حالات پیدا کرنے سے انہیں کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے ،بلکہ عوام کو تقسیم کی پٹری پر کھڑا کرکے پولرائزیشن کی سیاست کرنے والے لوگ ان کا اقتصادی اور سما جی استحصال کررہے ہیں ،اس کے بدلے میں متاثرہ علاقوں کے عوام کو افسوس اور افسردگی کے علاوہ کوئی بھی فائدہ نہیں ملے گا۔بلکہ انہیں مادی طور سے چوٹ پہنچانے والی طاقتیں یرغمال بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی اور آسانی کے ساتھ وہاں کی سیاسی حدود پر غالب آ جائیں گی۔ادھر نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے مطابق مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ فرقہ وارانہ جھڑپیں بدبختانہ ہیں۔مغربی بنگال کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری نے آج شمالی 24پرگنہ کے بدوریا میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کیلئے حکمراں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کو یکساں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیکولر زم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترنمو ل کانگریس اور بی جے پی دونوں اپنے سیاسی مفادات کیلئے کانگریس کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔اس کی وجہ سے ملک میں سیکولرزم کمزور ہورہا ہے اور فرقہ پرست قوتوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس 100سالہ پرانی پارٹی ہے ۔ملک کے انصاف پسند دانشوروں کی دوررس نگاہیں مسلسل دیکھ رہی ہیں کہ کانگریس اپنے خاتمہ کی آخری سانسیں گن رہی ہے اور اسے ایک روایتی سیکولر طاقت ہونے کے لحاظ سے جس وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اسے شاید وہ بھول چکی ہے اور گزشتہ چار پانچ برسوں سے بس یہی کہا جارہا ہے کہ ہم ملک کی سب سے قدیم اور اصول پسند سیاسی جماعت ہیں ۔مگر کیا اس قسم کی بیان بازیوں اور اضطراب کے اظہار سے کانگریس کی نشأۃ ثانیہ ممکن ہے یہ بات ہمیں مغربی بنگال میںجاری فرقہ ورانہ تشدد کے دوران سیکولر اقدار کی جگ ہنسائی میں مصروف کانگریس لیڈران کے اندر جھانکنا ضروری ہے تاکہ خود کانگریس پارٹی اپنے آستین کے سانپوں کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوسکے۔اب ریاست کے فساد ات متاثرین کو شکایت بی جے پی اور اس جیسی انتہا پسند طاقتوں سے ہونی چاہئے ،بلکہ انہیں خود کوسیکولر کہنے والی اور انصاف کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے عوام کوان کے اختیارات اور حقوق فراہم کرنے کیلئے جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں سے مطالبہ ہونا چاہئے کہ تم نے تو ہم سے وعدہ کیا تھا کہ تم لوگ ہمیں انصاف دلاؤ گے اور ہمارے لئے فلاح کے ہر منصوبے کی حمایت اور تائید کروگے ۔مگر یہ کیا کہ تم نے ہم سب کو دھوکے دیکر اقتدار کیلئے جنگ چھیڑ دی اور وہ بھی ہم بے گناہ عوام کی لاشوں پر ۔بی جے پی سے اس گلہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے اقتدار کیلئے یہی سب کرنا ہے ،لہذا وہ اپنے مشن پر گامزن ہے ،البتہ اسے روکنے کیلئے سیکولر جماعتوں کوبہار کی طرح جو پالیسی اختیار کرنی چاہئے اس کا انہیں احساس تک نہیں ہے۔اگر عوام اپنی دانشمندی اور شعور کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں ملک بھر کی تمام خود غرض سیکولر پارٹیوں کو ایک عبرت ناک سبق ملے گا کہ اس طرح ٹکڑے میں بٹ کرتو ہم بی جے پی کی راہ اور زیادہ آسان کررہے جو لاشعوری طور ہی صحیح مگر ان کی سر گرمیوں سے سیکولر فورس اپنی عددی قوت کے باوجود دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے،اس کی ذمہ دار راست طورپر یہی سیکولر پارٹیاں اور ان کے نام نہاد سیکولر نمائندے ہیں۔
09911587378
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *