نروپم کی واپسی

نروپم کی واپسی

ممتاز میر،برہانپور
7697376137
’’اب کانگریس ایودھیا میں رام مندر بنوائے گی ،سنجے نروپم کے ذریعے کانگریس میں نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات ۔سنت مہنت اکائی مندر بنوانے کے لئے سر گرم‘‘۔ یہ کل ۱۱ جولائی کے ایک اخبار کی خبر ہے ۔اس خبر کو پڑھ کر ہمیں وہ دن یاد آگئے جب سنجے نروپم جی شیو سینا چھوڑ کر آئے تھے ۔چند دنوں تک مسلمانوںکے درمیان کانگریس میں اس شیو سینک کے استقبال پر نا گواری کا اظہار کیا جاتا رہا ۔مگر پھر
وہ لیڈر اور علماء کرام جو کانگریس کو ان داتا اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں دبک کر بیٹھ گئے۔ہمارا برسوں سے خیال ہے کہ اب مسلمان رہنماؤں
کی حالت ان کتوں کی طرح ہو گئی ہے جنھیں چھیچھڑے دکھاؤتو بھونکنا بند کرکے لپک پڑتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی غلط بات ہے کہ کانگریس نے نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات اب سنجے نروپم جی کے مقدس ہاتھوں سے کی ہے ۔ہمارا مطالعہ تو یہ بتاتا ہے کہ کانگریس ہمیشہ سے ہی نرم ہندتو کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کانگریس کے نرم ہندتو
کے شاکی بلکہ اس کو غلط یا ایک ناکام پالیسی بتانے والے بیسیوں مضامین ہم انہی اخبارات میں پڑھ چکے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کو الگ الگ فکر کی حامل سیاسی پارٹیاں سمجھنا ایک بڑا مغالطہ ہے ۔ہم برسوں سے دلت وایس کے ایڈیٹر اور دلتوں کے ایک بڑے دانشور وی ٹی راج شیکھر کی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ دونوں پارٹیاں آر ایس ایس میں ہی اپنی بنیاد رکھتی ہیں(کانگریس کے احمق چاہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس کی بنیاد ۱۸۸۵ میں اور آر ایس ایس کی بنیاد ۱۹۲۵ میں رکھی گئی۔یہ کیسے؟)کانگریس نے مسلمانوں کو
بی جے پی کے مقابلے کہیں زیادہ نقصان پہونچایا ہے اور اسی لئے کانگریس آر ایس ایس کی پہلی پسند ہے ۔
مگر رونے کا مقام یہ ہے کہ یہ بصیرت ایک دلت کو تو حاصل ہے سیاسی لیڈروں کا ذکر کیا یہ بصیرت مسلمانوں کے علماء کرام کو بھی حاصل
نہیں ۔وطن عزیز کی تاریخ میں کانگریس کی سب سے زیادہ چمچہ گیری ہمارے علماء کرام نے ہی کی ہے ۔کاش کے ہمارے علماء کرام صرف
خدا اور رسول ﷺ سے ہی اپنی وفاداری استوار رکھتے۔
شریمان سنجے نروپم جی بہار کے رہنے والے ہیں۔۱۹۸۸ میں انڈین ایکسپریس کے ہندی ورژن جن ستہ میں نوکری کی غرض سے بمبئی
وارد ہوئے۔۵ سال جن ستہ میں نوکری کے دوران شیوسینا چیف بال ٹھاکرے کی نظروں میں چڑھ گئے ۔پھر شیوسینا کے ہندی آرگن
’’دو پہر کا سامنا ‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔چھگن بھجبل اور نارائن رانے کی طرح یہ بھی بال ٹھاکرے کی ناک کا بال بنے ۔انھیں بھی شیو سینا
راجیہ سبھاکی رکنیت سے نوازی۔راجیہ سبھا کی رکنیت کے دوران انھوں نے راجیہ سبھا میں دلیپ کمار جیسے ٹھیٹ سیکولر اور وطن پرست شخص
پر فرقہ وارانہ تبصٓرہ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ۔(rediff.com-14 Dec.1998) جس کے نتیجے میں وہ ہنگامہ مچا کہ راجیہ سبھا کے سیشن کو دن بھر کے لئے ملتوی کرنا پڑا ۔اتنے بڑے کارنامے کے باوجود نا معلوم وجوہات کی بنا پر انھیں شیو سینا میں نظر انداز کیا جانے لگا
(بقول نروپم جی)اور حضرت ۲۰۰۵ میںشیو سینا چھوڑ کر کانگریس میں آگئے۔ہمارے نزدیک کانگریس روز اول سے ایک فرقہ پرست
پارٹی یا زیادہ بہتر الفاظ میں کہنا چاہئے نرم ہندتو کی حامی پارٹی رہی ہے۔مسلمانوں کو مارنا اس کا بھی مقصد رہا ہے مگر بڑی ڈپلومیسی کے
ساتھ،بڑے فنکارانہ انداز میں ۔اور ۷۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے رہنماؤں کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ہمارے نزدیک نرسمہا راؤ،چھگن بھجبل ،نروپم جی کی قبیل کے لوگ ایک ٹارگٹ لے کر سیاسی پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
شریمان سنجے نروپم جی جب کانگریس میں شامل ہوئے تھے تو ان کی حالت بڑی خراب تھی ۔حالت یہ تھی کہ ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘۔پھر انھوں نے ایک داؤں کھیلا ۔کچھ پیسے خرچ کئے۔اپنے ارد گرد کچھ تھرڈ ریٹ لیڈر اورعلماء حضرات کو اپنے ارد گردجمع کیا ۔ان
میں ایک تو ایسے تھے جو دو قدم بھی بمشکل چل پاتے ہیں۔ایسے لوگوں نے نروپم جی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر دہلی جا کر سونیا گاندھی کی گود
میں بٹھا دیا ۔اور شیو سینا سے آئے ایک فرقہ پرست کو پکا سیکولر ثابت کر دیا۔(اسی لئے تو نروپم جی نے ان کی مدد حاصل کی ہوگی)اور سونیا گاندھی کے پیروں پر گر کر درخواست کی کہ نروپم جی کھوٹے سکے سہی مگر اب کانگریس میں اپنی کارکردگی کا جادو جگائیں گے ۔بس اس کے بعد نروپم جی کانگریس میں ترقی کرنے لگے ۔مسلمانوں کی طرف سے کلیرنس ملنے کے بعد اور کیا ہو سکتا تھا ۔نوبت یہاں تک پہونچی کہ انھیں کانگریس کے ’’دگج‘‘ نیتاؤں پر فوقیت دی جانے لگی۔
ہمیں دشمنوں سے ڈر نہیں لگتا ۔ہمیں تو اپنوں سے ڈر لگتا ہے۔ہمیں اپنے علماء سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ یہ نرم ہندتو کی پالیسی کیا ہے؟یہ تو مناظروںکے ماہر ہیں اگر نرم ہندتو کو عین سیکولرزم کا تقاضہ ثابت کر دیا تو۔۔۔تو ہم کیا کرلیں گے۔ہمارا مطالعہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کا قافلہ دشمن کی بہادری یا اسلحے کی برتری سے کبھی نہیں لٹا،یہ ہمیشہ اپنوں کی غداری سے افتراق سے انتشار سے لٹا ہے۔ہم دعا
کرتے رہتے ہین کہ اللہ ہمارے رہنماؤں کو پچھتانے کا ،اپنی اسؒاح کرنے کا موقع عنایت فرمائے۔آمین
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *