شراب کے نقصانات : اسلامی احکام اور مسلم معاشرہ

شراب کے نقصانات : اسلامی احکام اور مسلم معاشرہ

غلام مصطفی رضویغلام مصطفی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں شراب کو عربی میں ’خمر‘کہتے ہیں جس کے معنیٰ ہیں ڈھانپنا۔ شراب عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔شراب اور نشہ آور اشیا کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا’’ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔‘‘عقلی اعتبار سے شراب کے نقصانات کم نہیں۔اس سے مال کا نقصان ہے، ہوش و خرد رخصت ہونے سے انسان اپنی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، ذلت و بے عزتی الگ ہاتھ آتی ہے۔وہ افراد جو دنیا دار ہیں وہ بھی غور کریں تو شراب میں کوئی دنیوی فائدہ نہیں پائیں گے۔ اللہ کریم کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت؛کے تیر) ناپاک ہی ہیں،شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔‘‘(سورۂ مآئدہ:آیت۹۰؛ترجمہ کنزالایمان) آیت کریمہ کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں: اس آیت میں شراب کی حرمت پر دس دلیلیں ہیں:(۱)شراب کا ذکر جوئے بت اور جوئے کے تیروں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سب حرام ہیں۔(۲) شراب کو ناپاک فرمایا اور ناپاک چیز حرام ہوتی ہے۔(۳)شراب کو عملِ شیطان فرمایا،اور شیطانی عمل حرام ہے۔(۴)شراب سے بچنے کا حکم دیا،اور جس سے بچنا فرض ہو اس کا ارتکاب حرام ہوتا ہے۔(۵)فلاح(کام یابی) کو شراب سے اجتناب(بچنے) پر معلق کیا،اس لیے اجتناب فرض اور ارتکاب حرام ہوا۔(۶)شراب کے سبب سے شیطان آپس میں عداوت میں ڈالتا ہے۔اور عداوت حرام ہے اور جو حرام کا سبب ہو وہ بھی حرام ہے۔(۷)شراب کے سبب سے شیطان بغض ڈالتا ہے اور بغض حرام ہے۔(۸)شراب کے سبب شیطان ؛اللہ کے ذکرسے روکتا ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔(۹)شراب کے سبب شیطان نماز سے روکتا ہے اور جو نماز سے رکاوٹ کا سبب ہو اس کا ارتکاب حرام۔(۱۰)اللہ تعالیٰ نے صیغۂ استفہام کے ساتھ نہی بلیغ کرتے ہوئے فرمایا فَھَل اَنْتُمْ مُنْتَھُوْن تو کیا تم باز آنے والے ہو،اور نہی بلیغ سے بھی حرمت کا پتا چلتا ہے۔(شامی،ج۵،ص۹۷۔۳۹۶؛شراب کے نقصانات،ص۷۔۶) شراب بُرائیوں کی جڑ اور بہت سے مسائل کا سبب ہے،جس کا ذکر مذکورہ نکات میں گزرا۔اب چند احادیث بھی ملاحظہ کریں اور اللہ کا خوف وخشیت دل میں جاگزیں کریں تا کہ آخرت کی بربادی نہ ہواور ذہن و فکر بھلائی کی راہ پر مستقیم ہوں۔(۱)حضرت وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمایا،تو انھوں نے کہا کہ میں تو صرف دوا ہی کے لیے شراب بناتا ہوںتو حضور علیہ الصلاۃوالسلام نے فرمایا: یہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے۔(مشکوٰۃ،ص۳۱۷؛نفس مصدر،ص۹)(۲)حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃوالسلام نے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے،مَااَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ (نفس مصدر)(۳)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے: [۱]شراب نچوڑنے والے پر [۲]شراب نچوڑوانے والے پر [۳]شراب پینے والے پر [۴]شراب اٹھانے والے پر [۵]اس پر جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی گئی [۶]شراب پلانے والے پر [۷]شراب بیچنے والے پر [۸]شراب کی قیمت کھانے والے پر [۹]شراب خریدنے والے پر [۱۰]اس پر جس کے لیے شراب خریدی گئی ہو۔ (مشکوٰۃ،ص۲۴۲؛ نفس مصدر،ص۱۱) یاد رکھیں صرف شراب پینا ہی حرام نہیں بلکہ جو جو اس کے لیے معاون بنیں گے،یا کسی پینے،بیچنے، لینے دینے یا دلوانے والے کے مددگار ہوں گے سبھی گنہ گار ہوں گے۔ وہ حضرات بھی خوف کھائیں اور عذابِ الٰہی سے ڈریں جو شراب سے بہت دور رہ کر بھی شراب کی دکانوں اور مراکز کو لائسنس جاری کرواتے ہیں،اس کے اڈے قائم کرواتے ہیں، ان کا یہ قدم بھی شراب کے لیے معاون کہلائے گا۔ اس لعنت میں رفتارمسلم لیڈران بھی ہوش کے ناخن لیں اور شراب سے بچیں۔ عموماً کم ہی مسلم سیاست داں ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی بغیر شراب کے گزرتی ہے،اس لعنت نے تو یہاں تک نوبت لائی کہ اب جدیدیت کے نام پر شراب کو الگ الگ ناموں سے عام کیا جارہا ہے۔یاد رکھیں نام بدلنے سے اصلیت تبدیل نہیں ہوتی۔ اب اسے وسکی، بئیر یا کچھ اور نام دے دیا جائے؛ یا نشہ کی خاصیت کو بہت حد تک کم بھی کر دیا جائے تو اس کا حکم وہی رہے گا جو شراب کا ہے۔ یوں ہی افیون، بھنگ، گانجہ، چرس بھی اسلام نے ممنوع قرار دیئے ۔ان سبھی بُرائیوں اور نشہ آور اشیا سے بچنا نہایت ضروری ہے،ورنہ ان کے ضرر سے آخرت اور دنیا دونوں کا خسارہ ہے۔ اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لینے والے برطانوی انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون (سابق چیئرمین رضا اکیڈمی برطانیہ) اپنی کتاب Why I Accepted Islam? میں رقم طراز ہیں: ’’عصمت دری کے بہت سارے جرائم شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں،اسلام شراب کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیتا ہے……اسلامی معاشرہ جرائم سے پاک معاشرہ ہے،تاریخی طور پر اسلامی معاشرے جرائم نہ ہونے کے سبب مشہور تھے۔یہ یورپی لوگ اور نو آبادیاتی نظام ہے جس نے کنبے کو تباہ کر دیا،شراب نوشی کو متعارف کرایااور زنا کاری وغیرہ کی پرورش کی۔‘‘(میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟،ص۷۱۔۷۰) افسوس کا مقام ہے کہ ہم ایسی تہذیب کی تقلید کو باعث فخر سمجھ رہے ہیں جس نے دنیا کو تباہی سے دوچار کیا، جس تہذیب کے جرثومے عربوں کے قومی وقار کی تنزلی کا باعث بنے، جس تہذیب نے اسلامی ثقافت و تاریخ کے آثار حجاز سے مٹا ڈالے اور آج ہم اپنی جڑیں تلاش کرتے ہیں تو صرف ملبوں کے ڈھیرہی نظر آتے ہیں۔ جنت البقیع و جنت المعلیٰ سے اسلامی آثار کوشرک قرار دے کر کھڈیڑنے والوں نے خطۂ حجاز میں امریکی نصرانی فوجیوں کو شراب و سور فراہم کر کے جس طرح اسلامی تمدن کا مذاق اڑایا ہے وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے،افسوس ایسے مغربیت زدہ حکمراں خادم الحرمین کہلاتے ہیں۔ شراب نے عرب حکمرانوں کی غیرت چھین لی ہے،ان کے اعصاب پر مغربیت سوار ہے جبھی انھیں عراق، افغان، فلسطین کی تباہی نظر نہیں آتی۔ خدارا! ہوش کے ناخن لیں اور مسلم معاشرے سے ایسی شیطانی برائی کا خاتمہ کریں جو شراب کی شکل میں امتِ مسلمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *