بجرنگ دل ’ہیرو‘ اور مظلوم ہارون ’ویلن‘

بجرنگ دل ’ہیرو‘ اور مظلوم ہارون ’ویلن‘

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن) 
’نئے ہندوستان ‘ کا ’دستور نرالا‘ ہے۔
اقلیت مار بھی کھاتی ہے اور ملک دشمن بھی قرار دی جاتی ہے۔ ہریانہ کے حصار میں سہارنپور کے ایک عالم دین تاجر محمد ہارون کے ساتھ جو ’قابل مذمت‘ واقعہ پیش آیا وہ ’نئے ہندوستان‘ کے ’نرالے دستور‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں پر یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ ’نئے ہندوستان‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب سامنے ہے۔ ’نیا ہندوستان ‘ یعنی آج کا ’مودی اور بی جے پی اور آرایس ایس کے دور کا ہندوستان‘۔ اور ’نرالا دستور‘ یعنی مودی، بی جے پی اور سنگھ کے ہندوستان کا وہ ’دستور‘ جو گروگولوالکر، دین دیال اپادھیائے ، ساورکر اور ناتھوم رام گوڈسے جیسوں کے ’نظریات‘ کو اس ملک کے آئین پر فوقیت دیتا اور وی ایچ پی ، بجرنگ دل اور ہندو سینا جیسی تنظیموں کو پوری آزادی دیتا ہے کہ وہ قانون کو بھی اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں اور محض بیف کے شبہ میں کسی کی جان بھی ۔ اور دوسروں کو جبراً مار پیٹ کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگوانے پر مجبور اور اگر وہ نعرے نہ لگائے تو اِن کی ’ٹھکائی‘ بھی کرسکتے ہیں۔
حصار میں ایسا ہی ہوا ہے۔ بجرنگ دل کے رضاکار، جنہیں اب غنڈہ اور آتنک وادی بھی کہا جاتا ہے کیو ںکہ اب یہ قانون کو ٹھینگے پر رکھتے ہیں، امرناتھ یاترا پر جانے والے زائرین پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف احتجاجی مورچہ نکال رہے تھے، وہ ایک مسجد کے سامنے سے گزرے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے کرتا پائجامہ پہنے، سر پر ٹوپی رکھے باریش مولوی محمد ہارون پر ’بھارت ماتا کی جے‘کا نعرہ لگوانے کے لے زور وجبرکرنے لگے، ان کے انکار پر انہیں تھپڑ مارے او رذلیل کیا۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے کہ بجرنگ دل کے غنڈوں نے کسی باریش مسلمان کو ذلیل کرنے کے لیے اسے تھپڑ مارا ہو۔ یہ کئی بار ہوچکا ہے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ مسلم خواتین کے سروں پر سے برقعہ کھینچا جانے لگا ہے۔ ہاں پہلے کے مقابلے اب یہ سب بڑی ہی دیدہ دلیری کے ساتھ ہورہا ہے۔ نہ صرف دیدہ دلیری کے ساتھ بلکہ ایسے واقعے کے بعد اسی کو، جس کے ساتھ واقعہ پیش آیا ہو، مجرم بناکر بھی ، بڑی ہی بے شرمی کے ساتھ پیش کیاجارہا ہے۔
’آج تک‘ چینل پر اس معاملےپر بحث کرتے ہوئے آر ایس ایس کے ایک نظریہ ساز راکیش سنہانے ، بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ ’کیوں سنگھ پریوار کے لوگ قانون کو اپنے ہا تھوں میں لیتے ہیں او ریہ کہ کسی سے جبراً ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگوانا کہاں سے درست ہے‘؟ یہ بحث شروع کردی کہ یہ مسلمان کیوں بھارت ماتا کی جے کے نعرے نہیں لگاتے؟ یعنی سنگھ پریوار کی نظر میں کسی مولوی کی پٹائی بس ’معمولی‘ سی بات ہے، اہم بات یہ ہے کہ اس نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ کیوں نہیںلگایا؟
ا ب اس ملک میں کوئی یہ سوال نہیں کرسکتا کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانا لازمی کہاں سے ہوگیا؟ نہ ہی اب کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ سنگھ پریوار کیسے ’قوم پرستوں‘ کی صف میں شامل ہوگیا اور نہ ہی کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ انگریزوں کا مقابلہ نہ کرنے والے ساورکر او رباپو مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والا گوڈسے کیسے ’محب وطن‘ بن گئے؟ ان سوالوں کو اگر کوئی اُٹھانے کی جرأت کرتا ہے تو وہ ’ملک دشمن‘ ، ’قوم دشمن‘ اور ’غدار‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ راکیش سنہاجیسے معمولی سطح کے لوگ جو خود کو ’نظریہ ساز‘ قرار دینے اور ’مورخ‘ کہلانے میں ’فخر‘ محسوس کرتے ہیں، ’دانشور‘ بن بیٹھے ہیں او رملک کی تہذیب، تاریخ، ثقافت اور تمدن کو مسخ کرتے پھر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں بلکہ نازی ڈکٹیٹر ہٹلرکے دست راست گوئبلز کی طرح اتنا جھوٹ، اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ جذبات میں بہنے والے عام شہری حصار میں غنڈہ گردی کرنے والے بجرنگ دلیوں کو ’ہیرو‘ اور مظلوم ہارون کو ’ویلن‘ سمجھنے لگتے ہیں۔ امرناتھ یاترا کا سارا پس منظر ہندو ۔مسلم اتحاد کی ایک ایسی تاریخ پیش کرتا ہے جو ’کشمیریت‘ کا ایک حصہ ہے۔ ’کشمیریت‘ جموں وکشمیر کی وہ ’صفت‘ ہے جو ہندوئوں اور مسلمانوں میں تفریق نہیں کرتی، اسی لیے سارے کشمیر میں امرناتھ کے یاتریوں پر حملے کی مذمت کی گئی۔ علاحدگی پسندوں نے بھی مذمت کی ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی نے تو یہ تک کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ ان دہشت گردو ںکو معاف نہیں کرے گا‘‘۔ لشکرطیبہ، حزب المجاہدین جیسی انتہا پسند تنظمیں بھی مذمت میں پیش پیش رہی ہیں۔ سارے ملک کے مسلمان، مسلم جماعتیں اور مسلم رہنما مذمت میں آگے رہے ہیں لیکن سنگھ پریوار اسے ہندو۔مسلم معاملہ بنانے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ سماج کو ، ملک کے شہریوں کو اور بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے سنگھیوں کو اپنے سے دور کرے کیوں کہ ان کے وجود سے ملک کے وجود کو خطرہ ہے۔ امرناتھ یاترا پر حملہ اس ملک میں ہندو مسلم اتحاد، بھائی چارے او رملک کی سالمیت کے لیے آگے بڑھنے کا ایک موقع فراہم کررہا ہے۔ ملک کے لوگ اسے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *