داعش کے نئے خلیفہ کیلئے رسہ کشی شروع

داعش کے نئے خلیفہ کیلئے رسہ کشی شروع

بغداد ، ۱۳؍جولائی ۔ داعش تنظیم کے خلیفہ “ابو دعاء السامرائی” عُرف “ابوبکر البغدادی” کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی اس کی جاں نشینی حاصل کرنے کے لیے تنظیم کی قیادت میں رسہ کشی اور اختلاف شروع ہو گیا ہے۔ ان اختلافات میں نمایاں ترین پیش رفت البغدادی کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کے بعد الحویجہ کے نائب والی ابو ہیثم العبیدی کا منحرف ہو کر خود کو تنظیم کے خلیفہ کے منصب پر مقرر کرنا ہے۔ اس نے اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ الحویجہ کی مغربی سمت کا رخ کیا اور تنظیم میں اپنے مخالفین کے ساتھ فیصلہ کن معرکے کی تیاری کے واسطے ایک گاؤں میں روپوش ہو گیا۔داعش تنظیم 15 اکتوبر 2006 کو “دولۃ العراق الاسلامیۃ” کے نام سے بنائی گئی تھی۔ اس سے قبل اردنی نژاد ابو مصعب الزرقاوی نے 2004 میں “التوحيد والجہاد فی بلاد الرافدين” کے نام سے ایک جماعت تشکیل دی تھی۔ بعد ازاں زرقاوی نے اسامہ بن لادن کی بیعت کر کے نئی تنظيم “القاعدہ فی بلاد الرافدين” کے نام سے قائم کی۔خلیفہ کے منصب پر “بغدادیوں” کی اجارہ داری”خليفہ” کا منصب اور “امير المؤمنين” کی شناخت داعش تنظیم کا مرکز عراق میں ہونے کے سبب “بغدادیوں” کی اجارہ داری کے تحت رہے گا۔ مجلس شوری کی جانب سے چُنے جانے کے بعد مذہبی اور سیاسی قائد ہونے کی بنیاد پر وہ اس امر کا مستحق بن جاتا ہے کہ اس کی مکمل اطاعت کی جائے۔ ان میں ابو عمر البغدادی (حامد داؤد الزاوی) اور اس کے بعد ابو بكر البغدادی (ابراهيم عواد البدری) کا نام منظر عام پر آیا۔داعش تنظیم سے منحرف ہو جانے والے ارکان کے انکشاف کے مطابق “خلیفہ” کے منصب پر ابو عمر البغدادی اور پھر ابو بکر البغدادی دونوں کا تقرر “برجستہ” طور پر کیا گیا اور اس سسلسلے میں تنظیم کی جانب سے طے کردہ شرعی قابلیت اور لڑائی کے تجربے کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا۔عراق میں داعش تنظیم کے قاضیِ عام “ابو سليمان العتيبی” نے 1428 ہجری میں القاعدہ تنظیم کے خراسان گروپ کی قیادت کو تحریر کیے گئے ایک خط میں انکشاف کیا کہ ابو حمزہ المہاجر کے ساتھ اُن کی بات چیت کے بعد بنا کسی تیاری کے ابو عمر البغدادی کو “امير المؤمنين” مقرر کردیا گیا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *