یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفامبارک!

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفامبارک!

محمدشارب ضیاء رحمانی
(فیچرایڈیٹر بصیرت آن لائن)
’کانگریس مکت بھارت‘کے نعرہ کامفہوم’اپوزیشن مکت بھارت‘ ہے۔یعنی علاقائی یاقومی سطح پرایسی کوئی پارٹی نہ ہوجومقابل کھڑی ہوسکے۔یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ’ہندوراشٹریہ‘کاخواب بآسانی پوراکیاجاسکے۔کہیں سرکارگراکر،غیرقانونی گورنرراج لگاکر،مینڈیٹ نہ ہونے کے باجودسرکاربناکر،کہیں پارٹی توڑکر،توکہیں پوری پارٹی کوہائی جیک کرکے ہو،جوبھی طریقہ ممکن ہوسکے،سب اپنایاجائے۔ سپریم کورٹ نے یوپی اے سرکارمیں جسے’طوطا‘کہاتھا،وہ اپنے مشن میں مصروف عمل ہے۔ویسے توموجودہ سیاست میں کوئی اصول نہیں ہوتا،مفادکی پوجادورِحاضرکاسب سے بڑادھرم ہے۔اس لیے جدیوکااصول کی بات کرنا مذاق سے کم نہیں ہے،وہ بنیادی سوالات سے نہیں بچ سکتی۔خاص کرجب کہ اسے مینڈیٹ آرایس ایس کے خلاف ملاتھا۔بہارکی سرزمین پربی جے پی کوگہری زمین فراہم کرنے والے نتیش کمارہی ہیں۔جس طرح کشمیرمیں محبوبہ مفتی بی جے پی کومضبوطی فراہم کررہی ہیں۔نتیش کمارنے کہاہے کہ سیکولرزم نظریہ ہے اورمیں سیکولرزم کاحامی ہوں،معلوم نہیں ان کی اس بات میں کتنی صداقت ہے۔ انترآتماکی آوازپربھرشٹاچاریوں کوچھوڑالیکن کس کی آوازپران کی گودمیں بیٹھ گئے جو2013میں اچھوت تھے۔بہارکی اکثریت خودکوٹھگی ہوئی محسوس کررہی ہے اوربہارسے باہربھی ہرذمہ داربہاری کاسرشرم سے جھکاہواہے ۔سیکولرسرکاربننے پراطمینان تھاکہ ملک بھرکی فضاکااثربہارپرنہیں ہوگالیکن ساری امیدیں نتیش کے ساتھ ساتھ مٹی میں مل گئیں۔سبق یہی ملاکہ ٹھیک ہے آپ ووٹ دے دیجیے لیکن کسی کے جیتنے یاکسی کے ہارنے پرآپ کوخوشی منانے یاافسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔این ڈی اے سرکارکے آنے کے بعدبہارمیں بھی فرقہ پرستوں کے حوصلے نہایت بلندہوچکے ہیں۔امیدکی جانی چاہیے کہ نتیش کمارلاء اینڈآرڈرکے محاذپرمضبوط کنٹرول رکھ کرگڈرگورننس کے وزیراعلیٰ کی اپنی شبیہ برقراررکھیں گے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ موجودہ این ڈی اے حکومت سابقہ این ڈی اے سرکارسے بہت مختلف ہے۔
علاقائی پارٹیوں میں ایس پی اوربی ایس پی بری طرح ٹوٹ چکی ہیں،این سی پی کاوجود خطرہ میں ہے،ترنمول اورلیفٹ کے پیچھے بھی پوری مشنری کام کررہی ہے ،عام آدمی پارٹی اپنی چمک کھوچکی ہے۔ کجریوال کی منطقی اورعقلی بات کوبھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتابلکہ حکمراں جماعت کے لوگ اسے ہوامیں اڑادینے اوربے اعتبارکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کل ملاکرمخالفوں کویاتوموافق بنایاجارہاہے،یاان کوکمزورکرنے کی حتی الامکان کوشش کرکے بھارت ،اپوزیشن مکتی کی طرف تیزی سے بڑھ رہاہے تاکہ 2019میں کوئی مضبوط چہرہ موجودہ وزیراعظم کے مقابل نہ ہو۔چنانچہ ایک مضبوط حریف نتیش کمارکی مٹی پلیدکرکے انہیں کسی مصرف کانہ بنادینے میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔اقتدارکی چمک اوررعنائیاںبھلے ہی ابھی نتیش کمارکی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہوں،لیکن ان کے اب’مانجھی ‘بن جانے اورمٹی میں مل جانے میں کوئی شبہ نہیں رہ گیاہے۔یہ درست ہے کہ ان صورتحال کے لیے اپوزیشن پارٹیاں کچھ کم ذمہ دارنہیں ہیں۔کانگریس نے توخودبی جے پی کواقتدارمیں لایاہے۔اس کے عدم سنجیدگی کانمونہ دیکھناہوتومنی پوراورگوامیں دیکھ سکتے ہیں۔بہارکے بحران میں سونیاگاندھی اورراہل گاندھی نے اپنی ذمہ داری نہیں اداکی۔دہلی میں بیٹھ کرفون کردینے کی بجائے انہیں ازخودبہارآکرفریقین سے بات کرنی چاہیے تھی۔ویسے یہ طے تھاکہ تیجسوی اگراستعفیٰ دے دیتے توبھی نتیش کماراین ڈی اے میں چلے ہی جاتے کیونکہ جس سرعت کے ساتھ دو گھنٹوں کے اندرسب کچھ ہوگیا،ہر ذی ہوش سمجھ سکتاہے کہ کھچڑی کب سے پک رہی تھی۔ لیکن تیجسوی یادوکے استعفیٰ دینے سے راجدبدعنوانی کے معاملہ پربیک فٹ پرنہیں ہوتی۔اسی طرح لالویادوبھی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں۔انہوں نے ’مائی سمیکرن‘کانعرہ دے کر یاتویادوئوں کی خدمت کی ہے یااپنے پریوارکوتواناکیاہے۔یک طرفہ ووٹ دینے کے باوجودلالویادونے گذشتہ بائیس ماہ میں مسلمانوں کوحاشیہ پررکھ دیاتھا،یہاں تک کہ وزارت میں بھی مناسب نمائندگی سے محروم رکھاگیا۔مسلمان اورسیکولرزم صرف انہیں بحران کے وقت یادآتے ہیں۔طے ہے کہ سیکولرزم کے نام پراب کوئی پارٹی یالیڈربھروسے کے لائق نہیں ہے۔لفظ ’سیکولرزم‘ ایک ضرورت ہے۔ صرف بھرم ہے کہ ملک کااکثریتی طبقہ سیکولرہے۔ہوسکتاہے کہ دوہزارچودہ سے پہلے ایساہو،لیکن اب نہیں ہے۔ملک بھرکی اکثریتی عوام کویہ باورکرایاجارہاہے کہ کانگریسی حکومت میں ہندوڈراہواتھا،مودی سرکارکچھ کرے یانہ کرے،لیکن اس سرکارنے ہرہندوکاسینہ چھپن انچ کاکردیاہے۔یہ زہرگھول گھول کرپلایاہی نہیں جارہاہے،بلکہ بدمستی میں ہروہ کام کرنے کی چھوٹ عملاََدی گئی ہے جواقلیتوں میں خوف وہراس برقراررکھ سکیں۔
ہمارامزاج غیروں پربھروسہ اوراپنوں پرشک کاہوگیاہے۔ ضروری نہیں کہ اویسی کے ہرقدم اورہربیان کی حمایت کی جائے،اختلاف کی بلاشبہ گنجائش ہے،لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ان کے ہرقدم کوشک کی نظرسے دیکھاجائے اورمخالفت برائے مخالفت کی جائے۔آج تک ہم نے غیروں پرآنکھ بندکرکے بھروسہ کیا،باربارٹھوکریں کھاتے رہے،کبھی ایک باراپنوں پربھی بھروسہ کیجیے۔ہم نے بہارالیکشن کے وقت بارہالکھاتھاکہ ملک کے جوحالات ہیں ،پورے بہارمیں سیکولرزم کوبچایئے ،کون منع کرتاہے،کم ازکم ان چھ سیٹوں پرمجلس کوکامیاب بنایاجائے توسیاسی منظرنامہ دوسراہوگا۔ لالوسمجھ چکے ہیں کہ اویسی کے آنے کے باوجودان کے ووٹ بینک پرکوئی اثرنہیں پڑا۔ایسے میں ضرورت ہے کہ اگرلالویادو’مائی سمیکرن ‘کانعرہ دیتے ہیں تومسلمانوں کوبھی ان سے سیاسی ڈیل کرنی چاہیے کہ ہماری کتنی حصہ داری ہوگی ۔اب صرف اورصرف مسلم مفادکی سیاست کرنی ہوگی ۔عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کرنا۔کوئی حرج نہیں ہے کہ جب پورے ملک کامزاج نئے رنگ کی سیاست میں ایڈجسٹ ہوجانے کاہوچکاہو تومسلمانوں کوبھی ٹکرائوکی بجائے موقع سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پرغورکرناچاہیے۔ویسے توتمام پارٹیاں شجرممنوعہ ہیں۔اسی طرح مسلم لیڈران،یامسلم نمائندگی ہرگزمسئلہ کاحل نہیں ہے۔یوپی الیکشن سے قبل معروف دانشورجناب ظفرمحمودکی ایک میٹنگ میں جانے کااتفاق ہوا۔ ساری توانائی اسی پرصرف تھی کہ مسلمانوں کی نمائندگی اسمبلی میں کیسے بڑھائی جائے۔چنانچہ پرنزیٹیشن میں یوپی کے اکثریتی حلقے کے نقشے دکھاکرافسوس کااظہارکیاجانے لگا کہ وہاں مسلم ایم ایل اے نہیں جیت سکے۔میں نے تحریری طورپروہاں مخالفت کی کہ مسلم لیڈران کارونارونابے سودہے،وہ جس پارٹی کے بھی ہوں گے،ان ہی کے مصرف کے ہوں گے،آپ کے نہیں ہوں گے۔اورحقیقت بھی یہی ہے ان کے سامنے پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے ،مسلمانوں کاکوئی مفادنہیں ہوتا۔جدیوکے مسلم ایم ایل اے کویکھ لیانا،اورطرہ یہ ہے کہ ایک مسلم نماایم ایل اے نے ’جے شری رام‘کے نعرے لگائے اورکفریہ کلمات تک کہہ ڈالے۔چنانچہ حسب توقع انہیں (بلکہ صرف انہیں کو)وزیربنادیاگیا۔ہم غیروں کاروناکیوں روئیں،راجد،ایس پی اوربی ایس پی سے کیوں امیدلگائیں،مسلمان کس کرم کے رہے ۔اب یہ ذمہ داری ان کے حلقہ انتخاب کے ووٹروں کی ہوتی ہے کہ وہ ان لوگوں کوکس طرح سبق سکھاتے ہیں جوگھوم گھوم کرماسٹرمجاہدجیسے امیدواروں کی حمایت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔
ملک کی سیاست نئی کروٹ لے چکی ہے۔سیکولرسیاست،نرم ہندوتوااورگرم ہندوتوامیں بدل چکی ہے۔غیروں سے امیدلگاناسراسرغلطی ہے ۔ ہم یہ طے کرلیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے مفادکی حامی نہیں ہے۔ انتخابی موسم میں’حکمت عملی‘کی بات کی جاتی ہے،پھرپورے پانچ برس سوکرگذاردیئے جاتے ہیں،زند ہ قومیں سوتی نہیں ہیں،ہرآن اورہروقت ان کے کام کرنے کاہوتاہے۔مجھے تواب تک یہ سمجھ میں نہیں آسکاہے کہ’حکمت عملی‘کس چڑیاکانام ہے۔اس کے لیے آسمان سے کوئی مخلوق نہیں آنے والی ہے،اسی زمینی مخلوق کویہ کام انجام دیناہے جس کے پاس کتاب وسنت اوراسوئہ حسنہ کی شکل میںعلم وحکمت وسیاست کے خزانے،شاندارماضی،ہزارسالہ دورحکومت کی تاریخ اورلازوال احکام موجودہیں۔اسی طرح ’اتحادامت‘ کانعرہ بھی لگایاجارہاہے،امت پوری طرح متحدہے،ضرورت ہے اسے ایک سمت دینے کی ،دوچارخرافاتی توہوتے ہی ہیں اورہردورمیں رہے ہیں،انہیں مائنس کرکے منفی پیرپیگنڈہ کی بجائے مثبت عملی اقدام کی طرف سوچناہوگا۔بیمارکوبارباربیمارکہاجائے تواحساس مرض بڑھ جائے گاجس کے اچھے نتائج نہیں ہوں گے،ایک صحتمندکوبھی بارباربیماربتایاجائے تووہ بھی کنفیوژڈہوگا۔قوم کوابھی حوصلہ شکنی کی نہیں،حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔احساس کمتری کوختم کرناہوگا۔آرایس ایس کی تنظیمیں گھرگھرگھوم کریہی کررہی ہیں کہ ہم پہلے ہندوہیں،ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔اورہم ہیں کہ نعرہ لگارہے ہیں کہ مسلمانوں میں بہت اختلاف ہے۔جب بہارمیں ایک پریشرگروپ کی تشکیل کی گئی توبعض بہی خواہان ملت،مہاگٹھ بندھن کے پریم میں دبلے ہوتے نظرآئے،جم کرگالیاں دی گئیں ،نتائج سامنے ہیں۔ بھول جایئے کہ دلت آپ کے ساتھ ہیں،یوپی میں زبردست دھوکہ مل چکاہے ۔اتنی پٹائی کے بعدبھی برہمن کی گودمیں ہے۔جب تک یہ ان کی گودسے نہ اترجائیں تب تک ان سے توقع فضول ہے ۔ کسی کوجتانے اورکسی کوہرانے کی بجائے،کسی کوکاندھادینے کی بجائے اپنے کاندھے کومضبوط بنانے پرغورکیاجائے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے ستربرسوں سے سیکولرزم کواپنے شانوں پرڈھویاہے،نام نہادسیکولرپارٹیاں ،فرقہ پرستوں سے ڈراڈراکرہمیں استعمال اورہمارااستحصال کرتی رہی ہیں اورخودان کی تال میل فرقہ پرستوں کے ساتھ رہی ۔بہارکاڈرامہ کوئی نیاتجربہ نہیں ہے۔ہرپارٹی میں آرایس ایس نے اپنے لوگوں کوفٹ کردیاہے،کانگریس میں نرسمہارائوواضح مثال تھے۔ابھی بھی ایک بڑی تعداداس جماعت میں سنگھ پریوارکی تربیت یافتہ ہے جواپنے مشن میں سرگرم ہے۔ایک سوراخ سے باربارڈساجانااہل ایمان کی شان کے منافی ہے۔ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ دوست سے دائرہ میں دوستی رکھو، دشمنی جب ہوتونقصان نہ اٹھاناپڑے اوردشمن سے ایک دائرہ میں دشمنی کروتاکہ ضرورت پڑنے پرشرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
وفاکیسی،کہاں کاعشق جب سرپھوڑناٹھہرا
توپھراے سنگدل تراہی سنگ آستاں کیوں ہو
ُsharibziarahmani@gmail.com
8750258097
(بصیرت فیچرس)