ہرجیل گئے بابا کے پیچھےعورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔!

ہرجیل گئے بابا کے پیچھےعورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
9322244439
ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ بابا گرمیت سنگھ رام رحیم جوبابا گیری کی آڑ میں کالے کارنامے انجام دیا تھا آج وہ دنیا کے سامنے آشکارہوکر منظر عام پر آچکا ہے ۔ فیصلہ کی ہرچہارجانب سے انصاف پسند عوام پذیرائی کررہے ہیں۔ بابا کو کیفر کردار تک پہنچانے والی بے باک اور ظلم کی چکی میں پسی سادھویہ کو خراج تحسین پیش کیاجارہا ہے اور آنجہانی صحافی چندر چھترپتی کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے،جنہوں نے سادھوی کے خط کو شائع کرکے پوری دنیا کو اس بات پر مجبور کیا کہ اس جانب بھی توجہ ضروری ہے، اور وہ اپنے اس مشن میں کامیاب بھی رہے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ اس خبر کو شائع کرنے کے جرم میں بے باک صحافی کو بابا کے غنڈوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔بابا اور اس کے کارندوں نے یہ تصور کرلیا تھا کہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، قانون جب کسی پر اپنا شکنجہ کسنا شروع کرتا ہے تو وہاں صرف اور صرف انصاف اور حق بات کام آتی ہے ۔ آج بابا اپنے لاکھوں لائو لشکر کے باوجود ایک مجبور انسان کی طرح جیل کی سلاخوں میں ہے اور یہ قانون کی اس بالادستی کی واضح مثال ہے ۔ آج اسے اپنی حقیقت کا اندازہ ہورہا ہوگا کہ ایک وقت تھا جب لوگ چرن چھوتے تھے اور آج ایک ایسا وقت آن پڑا ہے جب سارے لوگ چرنوں میں رکھنے کیلئے کوشاں ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بابا ایک طاقتور انسان ہے، اس کے پاس مال ومتاع کی کمی نہیں ۔ خود کا لاؤ لشکر ہے۔ لیکن ملک کی عدالت کے سامنے آج بے بس ہے۔ کال کوٹھری میں قیدی نمبر ۱۹۹۷ کی حیثیت سے بیس سال سزا بھگتنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ بابا کو یہ یاد رکھناچاہئے تھا کہ ہر عروج کے لیے زوال لازمی ہے۔ کبھی ان کا عروج تھا آج زوال ہے۔ جو لوگ انہیں سجدہ کرتے تھے ۔وہی لوگ آج منہ پھیر لیے ہیں۔ سادھویہ نے جو درد انگیز خط اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہار ی کو ارسال کیا تھا اس پر دیر ہی سہی لیکن فیصلہ آنے کے بعد اسے انصاف ضرور مل گیا۔ آج وہ پتہ نہیں کتنی معصوموں کی امید بن کر اسے انصاف دلوائی ہے اور خراج عقیدت کے مستحق وہ آنجہانی صحافی بھی ہیں جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے وقت کے فرعون(بابا رجیم) کی کرتوتوں کو اپنے اخبار میں شائع کیا اور اپنی جان سچائی کو اجاگر کرنے اور مظلوم کی آواز بننے میں تلف کردی۔ جس کی بیوی کا سہاگ پندرہ سال قبل اجاڑ دیا گیا تھا ان کے بیٹے انشل چندر چھترپتی آج باپ کے قاتل کو جیل میں دیکھ کر مطمئن ہوگیا ہے کہ میری ماں کا سہاگ اجاڑنے والا خود اجڑ گیا۔ اس فیصلے سے ملک کی عدلیہ پر انصاف پسند عوام کا اعتماد پھر سے بحال ہوگیا ہے کہ اس بھگوائی دور میں بھی ملک کی عدلیہ انصاف کا توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔اس سے قبل بھی کئی بابا عصمت دری کے الزام میں جیل سدھار چکے ہیں ۔۔۔اور اب ان کا نمبر تھا۔ ملک میں آج بھی بے شمار آشرم خود ساختہ بھگوان اور بابا کے ذریعہ چلائے جارہےہیں ۔۔۔آشرم میں ماں باپ کی بھکتی سے مجبور ان سادھویوں کو بھی چاہئے کہ اگر وہ اس طرح کے کسی بابا کے ظلم کو سہہ رہی ہیں محض اس خوف سے کہ ہمارے اہل خانہ کو قتل کردیاجائے گا، ہمیں برباد کردیا جائے گا۔۔۔ہماری عزتیں سرعام نیلام کردی جائیں گی تو اس ڈر کے خول سے باہر نکل کر آئےاور ملک کی عدلیہ کا سہارا لے۔ بابا رام رحیم کا انجام ان کے سامنے ہے۔ بس انہیں ہمت کرنے کی ضرورت ہے، نام کا اخفاء بھی کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ عدلیہ پر بھروسہ رکھیں۔ ہندوستان میں ابھی عدلیہ متزلزل نہیں ہوئی ہے ضرور ان متاثرہ سادھویوں کی دادرسی کی جائے گی۔ اور انصاف ملے گا۔ جس سے دھرم کے لبادے میں یہ ظالم بابا اور پاکھنڈی انجام کو پہنچے گا۔
جس طرح سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح سے یہ بھی سچ ہے کہ ’ہر جیل گئے بابا کے پیچھے بھی عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ دھرم کے لبادے میں ملبوس خود کو بھگوان کا اوتار کہنے والے جب اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں تو دھرم کے ماننے والوں کا دھرم سے وشواش اُٹھ جاتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ اس ڈیجیٹیل دور میں بھی برادران وطن اپنی مذہبی کتاب اور پران، ویدیوں، اُنشدوں سے راستہ پانے کے بجائے بابائوں کے آشرم کا چکر لگاتے ہیں۔۔اپنی اولادوں کو بابائوں کے یہاں چھوڑ آتے ہیں ۔۔۔اپنی خوبصورت اور جوان بیٹیوں کو دنیا تیاگ دینے کے لیے بابائوں کے در پر رکھ آتے ہیں۔۔۔لیکن جب وہ بیٹی ۔۔اپنے استحصال کی کہانی ماں باپ کو سناتی ہے تو اندھ بھکتی میں ملوث یہ والدین اپنی بیٹی کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں۔یہ بات قابل فکر ہے کہ اگر برادران وطن کے گھر کی بچی بہن بیٹی اگر کسی آشرم میں دنیا تیاگ کر زندگی گزار رہی ہے اور پھر اچانک وہ ایک دن گھر والوں کو یہ بتارہی ہے کہ وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا سمجھا جارہا ہے تو گھر کے ذمہ داروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان کا اعتبار کریں ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، اپنے تئیں جانکاری اکٹھا کرنے کی کوشش کریں یا کم از کم علاقہ کے پولس اسٹیشن یا دیگر سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کیا جائے تاکہ اگر بات سچ ہے تو ایسے ڈھونگی کو کیفرکردار تک پہونچا یا جاسکے۔ لیکن افسوس بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو اس زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوکر ان پر کارروائی کرتے ہیں۔ اگر درست طریقہ سے ہندوستان کے تمام آشرموں کو دیکھا جائے ، حقیقی تفتیش کی جائے تو گرمیت سنگھ جیسے کئی اور بابا ملیں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ لوگ جو بابائوں کے ظلم کا شکار ہیں آگے آئیں، عدلیہ کا سہارا لیں،وزیر اعظم کو خط لکھیں، تاکہ قیدی نمبر ۱۹۹۷ کی طرح دیگر بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں اور اندھ بھکتی میں ملوث وہ والدین اپنے بچوں کی زندگی خراب کرنے سے باز آجائیں۔دھرم کے نام پر جب کسی کا استحصال ہوتا ہے تو معاملہ صرف ذاتی نہیں رہ جاتا ہے بلکہ پورا مکمل دھرم اس لپیٹ میں آجاتا ہے، اس ترقی یافتہ زمانہ میں جبکہ ہر چیز کو عقل پر پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو کیوں نہ آپ بھی محض جذبات کے بجائے عقل سے سوچنا شروع کریں، اگر ایسا کیا جائے تو بعید نہیں کہ انسانوں میں سے اندھ بھکتی کا بھوت اتر جائے گا اور وہ بآسانی صحیح راستہ اختیار کرلے۔
(بصیرت فیچرس)