انسانیت کے قتل پر خاموشی کب تک ؟

انسانیت کے قتل پر خاموشی کب تک ؟

نازش ہما قاسمی(ممبئی اردو نیوز)
برما میں صدی کی سب سے بڑی نسل کشی جاری ہے۔ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوچکا ہے۔ انہیں جہاں اور جدھر بھی دیکھیں گولی مارنے کا سرکاری فرمان ہے۔ بودھ مت کے ماننے والے بدھشٹ دہشت گرد مسلمانوں کی مائوں کو سرعام رسوا کررہے ہیں، مسلم بیٹیوں کی عزتوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں ، انسانوں کی حفاظت کرنے والے فوجی بھیڑئیےبن چکے ہیں، مسلم مائوں کے شکم چاک کرکے ان میں پل رہی معصوم جانوں کو نیزوں پر اچھال جا رہا ہے۔ گوتم بدھ کے پرستار اپنی تعلیمات سے کوسوں دور ہوکر محض مسلم دشمنی میں ہلاکو، چنگیز اورتارتاریوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں، جس مذہب میں مردوں‘ عورتوں‘ جوان اور بچے سب کو رحم دلی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ، وہ سنگ دل ہوچکے ہیں ، بودھ ازم کی تعلیمات کو یکسر فراموش کرکے آج انسانوں کو تڑپا رہے ہیں ، ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں ، بچوں تک پر رحم نہیں کیا جارہا ہے ، انہیں بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے ، نہ ذاتی دشمنی ،نہ سیاسی چپقلش ، بلکہ ان کے قتل کی وجہ یہ ہیکہ یہ مسلمان ہیں ،اور شاید مسلمان ہونا انہیں دائرہ انسانیت سے خارج کردیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے جو تصویریں برما کے مسلمانوں کی آرہی ہیں وہ دلوں کو تڑپا دینے والی ہیں ، جو ویڈیو موصول ہورہے ہیں وہ خون کے آنسو رلا دینے والے ہیں ، جس میں نہتے برمی روہنگیائی مسلمانوں پر بدھشٹ دہشت گردوں نے سفاکی کی انتہا کر دی ہے ۔ ان کے بچوں کو نیزے پر اچھال رہے ہیں، مسلم ماؤں بیٹیوں کو ننگا کرکے درختوں سے باندھا جارہا ہے ، ان کی عزتوں کو تار تار کیا جارہا ہے ،ان کے جسموں کو نوچا جا رہا ہے ،انسانیت کو شرمسار کیا جارہا ہے ، ہر پل وحشت خیز مناظر کو ہویدا کر رہا ہے ،اور ظلم و جور سفاکی و درندگی کی اس ہولناک داستان کو کیمرے میں قید کرکے ویڈیو وائرل کئے جارہے ہیں ،پوری امت مسلمہ کو چیلنج کیا جارہا ہے کہاں ہیں محمد بن قاسم ؟ کہاں ہے تمہارا طارق بن زیاد ؟ کہاں ہے تمہارا معتصم باللہ ؟ جو تڑپتے مسلمانوں کی آواز پر فوراً لبیک کہتے تھے ؛ لیکن اب نہ کوئی طارق بن زیاد ہے نہ محمد بن قاسم اور نہ ہی معتصم باللہ ۔۔۔جو مظلوموں کی دادرسی کے لیے اٹھے ۔۔۔جو ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کمربستہ ہو ۔۔۔اس لیے اے برمی مسلمانوں تم برسوں سے وہاں رہ رہے ہو ، ظلم و ستم برداشت کررہے ہو ، جذبہ حریت زندہ کرو مظالم سہنے کے تم عادی ہوگئے ہونگے اسی لیے اپنا دفاع کرو ،حالات یقینا تمہارے مخالف ہیں ۔۔۔ مگر تاریخ شاہد ہے شہیدوں کا خون آزادی کی عبارت رقم کرتا ہے ، ظالم و جابر حکمرانوں کو جھکنے کے لئے مجبور کرتا ہے ،اٹھو کوشش کرو ،آنسؤوں کو پونچھ کر جذبات کو دل میں سمو کر آگے بڑھو ، جب تک تم خود کوشش نہیں کروگے ۔۔۔۔تمہاری امداد نہیں آنے والی ۔۔۔۔یہ ظالم و جابر حکمراں تم پر جو ظلم کررہے ہیں یہ ثابت کرتا ہے کہ تم مزاحمت نہیں کرتے ۔۔۔۔ہلاکو خان کی طرح یہ تمہیں جہاں بولتے ہیں تم وہاں رکے رہتے ہو اور پھر یہ آکر تمہیں تہ تیغ کردیتے ہیں ۔۔۔اے برمی مسلمانوں تم ایک زندہ قوم ہو ۔۔۔تمہاری تاریخ شاہد ہے تم تعداد میں بہت کم تھے ۔۔۔لیکن کفار کے لشکر جرار پر غالب آئے تھے ۔۔۔۔اس لیے اب تم خود ہی اپنی حفاظت کے سامان پیدا کرو ، اپنے ہی ملک میں تم غیروں کی طرح رہ رہے ہو اپنے حق اور اپنی شہریت کے لیے کمر بستہ ہوجائو۔۔۔۔وہ دور اور تھا ۔۔۔جب محمد بن قاسم ایک دکھیاری کی ایک آواز پر سندھ آگیا تھا ۔۔۔وہ وقت اور تھا جب ایک بوڑھی کی آواز پر معتصم باللہ تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔وہ موقع اور تھا جب طارق بن زیاد نے ساحلِ سمندر پر کشتیاں جلاڈالی تھیں ۔۔۔اب تم مسلم حکمرانوں سے یہ امید مت رکھو کہ تمہاری مدد کریں گے ۔۔۔تمہارے لیے نجات دہندہ ثابت ہوں گے۔۔۔تمہاری تڑپتی لاشیں انہیں بے حس بنا چکی ہیں ۔۔۔تمہارے معصوموں کی چیخیں ان کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں ۔۔۔جن تک پہنچ بھی رہی ہیں وہ بے چارے آخر تمہاری کتنی مدد کریں ، وہ تو خود مصائب سے نبرد آزما ہیں؛ حالانکہ ان تک تمہاری مصیبتوں کی خبریں پہنچی ہیں ، انہوں نے پہلے بھی تمہاری دادرسی کیلیے کوشش کی اور آج بھی سب سے پہلے تڑپے ،روئے ،دعائیں مانگی ،احتجاج کئے ۔۔۔ تم شاید یہ امید لگائے ہوگے کہ انتالیس ممالک کی کی متحدہ افواج ہے جو مسلمانوں کی حفاظت کرے گی ۔۔۔تو یہ تمہاری خام خیالی ہے ۔۔۔یہ محض اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ترتیب دی گئی ہے ۔ انہیں اسلام سے زیادہ اقتدار پسند ہے ۔۔۔اسلام پر آنچ آئے وہ برداشت کرلیں گے ۔۔۔مسلمان مارے جائیں ۔۔۔گاجر مولی کی طرح کاٹے جائیں ۔۔۔یہ جھیل لیں گے ۔۔۔لیکن اگر اقتدار پر آنچ آئے ، کوئی ترچھی نظر سے دیکھے۔۔۔ تو یہ مخالفین کا تختہ پلٹ دیں گے۔خیر تمہارے مظالم پر دیر سے ہی سہی بہت ساری قومیں یک جٹ ہوکر آواز اُٹھا رہی ہیں ،ان میں تمہارے مسلم ممالک کی تعداد بہت کم ہے یہ جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں، فرانس، کناڈا، برطانیہ، روس ،امریکہ اور مالدیپ وغیرہ سے اُٹھ رہی ہیں۔۔ ۔ اور ان شاء اللہ جلد ہی تمہیں مظالم سے چھٹکارہ حاصل ہوجائیگا ۔ یہ لوگ انسانیت کے نام پر تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔برما ایمیسی کے سامنے احتجاج کررہے ہیں، اپنے غم وغصہ کا اظہار کررہے ہیں ،آنگ سانگ سوچی پر دبائو ڈال رہے ہیں تاکہ انسانیت سوز مظالم کو روکا جاسکے ۔ اس آواز میں کچھ مسلم ممالک بھی شامل ہیں جن میں سرفہرست ترکی،انڈونیشیا، پاکستان وغیرہ ہیں ۔ اگر تمام مسلم ممالک نے متحدہ طور پر جس طرح قطر کا بائیکاٹ کیا تھا اسی طرح برما سے سفارتی تعلقات توڑ دیں، تو شاید برما کو احساس ہوجائے اور وہ مسلمانوں پر مظالم سے باز آجائیں ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ عالمی باپ امریکہ کا حکم برما سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے صادر نہیں ہوا ہے ،قطر سے ہوا تھا جو انہوں نے آمنا صدقنا کرتے ہوئے تسلیم کر لیا۔ کاش تمام مسلم حکمراں جس طرح قطر سے بائیکاٹ کر چکے اسی طرح برما کا بائیکاٹ کردیں، اقوام متحدہ کو مجبور کریں ، کہ وہ برمی مسلمانوں کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرے جس سے انہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔۔سنا ہے عرب حکمراں اس ضمن میں ایک قرار داد پاس کرواناچاہ رہے ہیں ، خدا انہیں یہ توفیق دے کہ جلد ہی وہ قرار داد پاس ہوجائے تا کہ ان بے یارو مددگار خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے مسلمانوں کو در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑے۔ آج ترکی جس جرأت اور فراست ایمانی کا مظاہرہ کرکے ان کی امداد کے لیے کمر بستہ ہوا ہے کاش تمام مسلم ممالک ان کی امداد اور انہیں بسانے کے لیے تیار ہوجائیں تو پھر انہیں کوئی پریشانی لاحق نہ ہو ، وہ اپنے حقوق پاجائیں ، اسلام مخالف طاقتوں کو مسلمانوں کی قوت کا احساس ہوجائے ۔
(بصیرت فیچرس)