مزار سے مسجد تک۔۔۔!

مزار سے مسجد تک۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
(نیشنل بیوروچیف بصیرت آن لائن)
گزشتہ چند روز کے اندر دو واقعات رونما ہوئے ایک تو وزیر آعظم مودی برما گئے اور دوسرے جاپان کے وزیر آعظم شنزوآبے ہندوستان آئے۔ ویسے تو حکومتی سربراہ کے دورے ہمیشہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح مودی جی کا برما جانا اور وہاں جاکر مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کچھ نہ بولنا معنی خیز لگ رہا ہے؛ کسی ہندوستانی کو شاید یہ امید بھی نہیں رہی ہوگی کہ وزیر آعظم اس شورش پر کچھ بولیں گے۔ خیر یہ ان کا نجی معاملہ تھا ، ہمیں بات یہ کرنی ہے کہ مودی جی نے اپنے میانمار کے دورے پر مغل شہنشاہ بہادرشاہ ظفر کے مزار پر حاضری دی اور وہاں جاکر فوٹو کھنچوائے اور ٹوئیٹ کیا جو ان کا قومی حق ہے۔ اور اسی ایک ہفتے کے اندر احمد آباد کی سید مسجد کا دورہ کیا ۔ دونوں واقعات چونکہ مسلمانوں سے جڑے ہوئے ہیں اور مودی جی کی شبیہ ہمیشہ مسلم مخالف رہی ہے اسی لیے اس پر بات کرناچاہتا ہوں ۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مودی جی کو بتوں نے رنج دیا جب جاکر خدا یاد آیا، او رنہ ہی ان کے مسجد جانے پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی کیوں کہ مزار سے لے کر مسجد تک کا دورہ ایک سیاسی دورہ ہے ۔ اگر گجرات میں پٹیل اور دلت بی جے پی سے ناراض نہیں ہوتے تو شاید مسجدو مزار جانے کی نوبت نہیں آتی۔ گجرات میں ابھی انتخابات ہونے والے ہیں اس کے تناظر میں ہم اگر اس دورے کو دیکھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی کہ مودی جی اپنے روڈ شو ختم کرنے کے بعد وزیر آعظم جاپان کے ہمراہ سید مسجد کا دورہ کیوں کیا ، اور میانمار دورے کے اختتام پر آخری دن ہندوستان کے آخری شہنشاہ کی قبر پر چادر پوشی کیوں کی؟ وزیر اعظم کے میانمار دورے پر اتنی تنقید نہیں کی گئی اسے بھکتوں سمیت مسلمانوں نے بھی اچھی نگاہ سے دیکھا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن سیدمسجد کے دورے پر ہندوتنظیمیں چراغ پا ہیں ، ہندو مہاسبھا کے صدر منا کمار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی شنزو آبے کو مسجد کے بجائے سومناتھ مندر، جیوتی لنگ وغیرہ کا درشن کراتے تو ٹھیک تھا کیوں کہ گجرات میں دیوی دیوتائوں کے کئی مندر موجود ہیں جو ہندوستانی تہذیب کا نمونہ ہے ۔ لیکن مودی جی نے انہیں مسجد لے جاکر ملک بھر میں موجود ہندوئوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ منا کمار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مودی جی نے گجرات الیکشن کے مدنظر سید مسجد کا دورہ کرکے مسلم کارڈ کھیلا ہے ۔ منا کمار نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس بھی اسی طرح کے کام کرتی تھی اور اب بی جے پی بھی اسی طرح کے کام کررہی ہے اگر بی جے پی کی یہی روش رہی تو زوال یقینی ہے۔ ویسے مسلمانوں نے دونوں مقامات کے دورے پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور کرنا بھی نہیں چاہتے انہیں پتہ ہے کہ یہ دورہ محض سیاسی دورہ ہے نہ مودی کو مزار سے دلچسپی ہے ، نہ مغلوں سے ہمدردی ۔ اگر ہمدردی ہوتی تو مودی سرکار مغل سرائے اسٹیشن کا نام بدلتی ؟ اورنگزیب روڈ کا نام بدلتی؟ مودی حکومت کے نزدیک تو مغل حکمراں لٹیرے تھے! ہندوستان کو انہوں نے لوٹا آخر پھر ان لٹیروں کے مزار پر جانے کی کوئی خاص وجہ نہیں بلکہ اپنی اس شبیہ کو صاف کرنے کی تگ ودو ہے کہ لوگ مجھے بھی مسلمانوں کا ہمدرد سمجھے۔ ویسے ہی گجرات میں سیدمسجد کا دورہ ہے۔ حالانکہ مسلمانوں سے ان کی نفرت کو ظاہر کرتا ہوا ایک قصہ ابھی منصہ شہود پر آیا ، جہاں انسانی حقائق بھول گئے ،اور نہ جانے کس دلیل کی بنیاد پر روہنگیا مسلمانوں کو ملک کے لئے خطرہ گرداننے لگے ، دہشت گردوں سے وابستہ کہنے لگے ، انہیں ملک سے نکالنے کی دہائی دینے لگے ،عدلیہ سے درخواست کرتے نظرآئے ، جب کہ پوری دنیا روہنگیا مسلمانوں کا درد محسوس کررہی ہے ،انہیں تکلیف سے بچانے کوششیں کی جارہی ہیں ،انسانی حقوق کی حفاظت کرنے والے بے چین ہیں ،ہر شخص یہ خواہش کررہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم بند ہوجائے ،اس صورت حال میں وزیر آعظم کا ان سے متعلق یہ خیال کس نظریہ کی تائید کرتا ہے ،کن خیالات کو ذہنوں پر ثابت کرتا ہے ، کسی مخفی نہیں ہے ،ہر شخص اسے بخوبی سمجھ سکتا ہے ،اور محسوس کرسکتا ہے ، مسجد سے مزار تک کا سفر محض الیکشن میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کی خاطر کیاگیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ سیاسی شعبدہ بازوں کی جادوگری سے مرعوب ہونے کے بجائے گجرات فسادات کو مدنظر رکھیں اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ یہی ان کے لیے بہتر ہوگا گجراتی مسلمانوں کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ آج اس مسجد کا دورہ کرنے والے نے ۲۰۰۲ میں کس طرح مسجد کے مصلیوں کو زندہ جلایا تھا۔
مودی جی نے گجرات کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے وزیر اعظم جاپان کے اشتراک سے بلیٹ ٹرین کا تحفہ دیا ہے۔ جس کی لاگت 1.10لاکھ کروڑ روپئے ہے، جس میں 88 ہزار کروڑ روپئے کا قرض جاپان دے گا۔ اس قرض کاسود 0.1فیصد ہوگا جسے ہندوستان پچاس سال کے طویل مدت میں ادا کرے گا۔ ہم بلیٹ ٹرین کی مخالفت نہیں کریں گے ؟ کیونکہ ایک ترقی یافتہ ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سفری سہولیات عوام کو مہیا کرے لیکن اس سے قبل انگریزوں کے زمانے کی جو ٹرینیں ہندوستان میں دوڑ رہی ہیں اور دوڑتے دوڑتے پٹری چھوڑ رہی ہیں ، اگر اس جانب توجہ زیادہ دی جائے ،ٹرین کو پٹری پر ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہوگا ، لیکن اس جانب توجہ نہ دے کر عوام کو ٹیکس اور جاپان کے قرض کے بوجھ تلے دبا کر بلیٹ ٹرین کا تحفہ تحفہ نہیں بلکہ یہ عوامی استحصال ہے۔ شیوسینا کے بقول ’’بلٹ ٹرین پروجیکٹ سے عوامی روزگار کے دعوے کیے جارہے ہیں ، یہ جھوٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ جاپانی کمپنی ہندوستان میںکوئی کام نہیں کرے گی، بلکہ جاپان خود اپنے ملک سے ہر چیز لائے گا، یہاں تک کہ تکنیکی ماہرین بھی انہیں کے ہوں گے‘‘۔اور یہ سچ ہے کہ بلیٹ ٹرین ایک جھانسہ ہے اس کے ذریعہ سے گجرات اسمبلی الیکشن کا فائدہ اُٹھانا ہے ۔ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کی ٹرینیں خستہ حالی کی شکار ہیں، آئے دن حادثات ہورہے ہیں، ریلوے وزیر استعفیٰ دے رہے ہیں لیکن حادثات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ اگر مودی جی ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کا ہی خواب دیکھ رہے ہیں تو صرف اسی وقت ان کی ترقی کی زنجیریں کیوں ہلتی ہیں جب انتخابات سر پر ہوتے ہیں اس کے بعد ترقی کے خیالات غائب۔ وارانسی کو بھی انہوں نے جھانسہ دیا تھا کیا بنارس والوں کے وہ خواب پورے کردئے گئے جن کا انہوں نے وعدہ کیا تھا؟ نہیں !لیکن گجرات میں انہوں نے وعدہ کیا تھا او ربلٹ ٹرین پروجیکٹ کا افتتاح کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم یہاں ترقی کریں گے۔ ایک گجراتی رکشہ والے کے بقول جب سے بلٹ ٹرین اور وزیر اعظم جاپان کے دورے کی احمد آباد میں تیاری شروع ہوئی تھی ہماری لائٹ کاٹ کر ندیوں کو سجایا جارہا ہے، ہمیں بنیادی سہولیات سے دور کرکے سڑکوں کو سجایاگیا ، ہمارا دھندہ چوپٹ ہوگیا اگر یہی سب کرنا ہے تو پہلے عوام کو خوش رکھیں عوام خوش رہے گی تو دکھاوے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ لیکن مودی جی کو کون سمجھائے؟ وعدوں کے مسافر ہیں کبھی بھی جھولا اُٹھا کر چل دیں گے۔ انہیں عوامی ہمدردی سے کیا سروکار وہ بس سیاست کے شعبدہ باز ہیں بازیگری دکھلا کر عوام کو بے وقوف بنائیںگے اور ہم سدا کے بیوقوف ہیں جوبنتے ہی رہیں گے۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *