مسلمانوں کا اتحاد اور سوامی کی اوقات 

مسلمانوں کا اتحاد اور سوامی کی اوقات 

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
کیا پارلیمنٹ کی ممبری کا مطلب نفرت کے پرچار کی چھوٹ ہے؟
یا کیا کسی شخص کا سیاست داں ہونا اسے ہر طرح کی تلخ وترش اور تعصب سے بھری ہوئی باتیں کہنے کی آزادی دے دیتا ہے؟ ہمارے خیال میں مذکورہ دونوں سوالوں کا جواب ’نہیں‘ ہے، مگر آج ایسے سیاست دانوں اور ممبران پارلیمنٹ کی کمی نہیں ہے جو مذہبی تعصب اور نفرت کے پرچار کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سبرامنیم سوامی ایسے ہی ایک ایم پی ہیں۔
یوں تو بی جے پی سے جڑا ہونا ہی ان کی تنگ نظری اور متعصب ذہنیت کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہے؛ مگر سوامی کی تنگ نظری اور متعصب ذہنیت بی جے پی کے دیگر قائدین کے مقابلے ’افزوں‘ ہے۔ وہ یوں کہ ان کی زبان سے وہ باتیں بھی نکل جاتی ہیں جو دوسرے بھاجپائی قائدین نہیں بولتے۔۔۔ چاہے ان کا دل ودماغ کتنا ہی یہ باتیں بولناچاہتا ہو۔۔۔مثلاً یہ سبرامنیم سوامی ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں سے حق رائے دہی چھین لینے کی انتہائی غلیظ ترین بات کی تھی۔ یہ ایک ایسی بات تھی جسے نہ کبھی واجپائی نے کہا، نہ ہی اڈوانی، مودی یا امیت شاہ نے۔۔۔سوامی نے مزید ایک بات کہی تھی ’مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی بات‘۔ اب ایک بار پھر انہوں نے اپنی زبان کھولی ہے اور اسی بات کو ایک بار پھر سے دہرایا ہے۔۔۔نئی دہلی میں ایک تقریب سے وہ ’خطاب ‘ کررہے تھے۔۔۔میری نظر میں ان کی باتوں کو ’خطاب‘ کی بجائے ’مغلظات‘ بولا جاناچاہئے۔ سوامی نے پہلے کی طرح یہ تو کہا کہ ’مسلمانوں میں نفاق پیدا کرو‘ مگر اس کے ساتھ ہی مزید ایک بات کہی کہ ’ہندوئوں کو متحد کرو‘۔
سوامی کی مذکورہ بات دراصل آر ایس ایس کے اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول ہے۔ آر ایس ایس اس ملک کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنے کی جو تحریک چلائے ہوئے ہے اس کی کامیابی ہندوئوں کے متحد ہونے او رمسلمانوں کے منتشر ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ ہندوئوں کے متحد ہونے کا مطلب ’فرقہ پرستی‘ کی بنیاد پر متحد ہوناہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اس ملک کا ہر ہندو نہ فرقہ پرست ہے اور نہ ہی سنگھی ذہنیت کا۔ یہ سوامی جیسے لوگ ہیں جو کوشاں ہیں کہ ہندو ’فرقہ پرستی‘ اور غیر وں سے یا بالفاظ دیگر مسلمانوں سے نفرت کی بنیاد پر متحد ہوجائیں۔ اسی لیے انہوں نے چند سال قبل انگریزی روزنامہ ’ڈی این اے‘ میں مسلمانوں سے حق رائے دہی چھین لینے کے لیے اپنی دانست میں ’مثبت دلیلوں‘ سے بھرا ہوا ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ مگر ان کی دلیلیں خالص متعصبانہ اور فرقہ وارانہ تھیں اور اسی لیے انہیں ہاورڈیونیورسٹی نے جہاں پر وہ پروفیسر تھے، فارغ کردیا تھا اور ساری دنیا میں ان کی تھوتھو ہوئی تھی۔ پر وہ باز نہیں آئے ہیں۔
سوامی کی یہ تحریک مسلمانوں کے لیے تشویش ناک ہے۔ وہ مسلکی بنیاد وں پر مسلمانوں کو بانٹنے کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ شیعہ، سنی کا مسئلہ اُٹھاتے ہیں۔ وہ کھل کر نفرت کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف قانون کوئی کارروائی نہیں کرے گا کیو ں کہ انہیں یہ سب کہنے کی ’چھوٹ اور آزادی‘ ہے۔ مسلمان چونکہ مسلکی بنیادوں پر اختلاف رکھتے ہیں اس لیے سوامی کا منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ یہ کامیابی ملک اور مسلمانو ںکے لیے خطرناک ہوگی۔ اس لیے مسلمان طے کریں کہ وہ سوامی کے ’انتشار‘ کے منصوبے کو ’مسلمانوںکے اتحاد‘ کے منصوبے میں تبدیل کردیں گے۔ اس کے لیے بس سوامی، سنگھی قائدین اور ان مسلمانوںکی باتوں میں آنے سے بچنا ہوگا جو بس اختلاف کو ہوا دینے کا ہی کام کرتے ہیں۔ ایسے مسلمان بہت کم ہیں ، ہم انہیں ’یرقانی مسلمان ‘کہتے ہیں، ان میں بزعم خود دانشور اور علمائے دین بھی شامل ہیں۔۔۔یہ صر ف بھگوا اینڈ کمپنی کے تلوے چاٹنے کا کام ہی جانتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہیں، مسلکی تنازعات سے بچیں، مل جل کر رہیں اور ملک کے ’سوامیوں‘کی باتوں کو لات ماردیں۔ مسلمانوں نے یہ کرلیا تو سبرا منیم سوامی کو اپنی اوقات کا خود اندازہ ہوجائے گا۔
(بصیرت فیچرس)