ٹی وی چینلوں پر جاکر علما ء اپنا ، اسلام کا اور مسلمانوں کا مضحکہ نہ اڑوائیں

ٹی وی چینلوں پر جاکر علما ء اپنا ، اسلام کا اور مسلمانوں کا مضحکہ نہ اڑوائیں

نوائے بصیرت :شکیل رشید
علمائے دین بھلا ٹی وی چینلوں پر بحث کے لیے کیوں جاتے ہیں؟
یہ سوال آج ہی مجھ سے ایک ایسے شخص نے کیا جسے علمائے کرام سے ، چاہے وہ جس مذہب او رمسلک کے ہوں، دلی محبت ہے۔۔۔سوال کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ علمائے کرام کی چینلوں پر ایسی بے عزتی کی جاتی ہے کہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے بلکہ دل یہی کرتا ہے کہ ٹی وی بند کردیاجائے۔
یہ سوال اہم ہے؛ا س کا جواب ضروری ہے۔
بھلا کیا ضرورت ہے علمائے کرام کو ٹی وی چینلوں پر جانے کی؟ اس سوال کا جواب عام طور پر وہ علمائے کرام جو ٹی وی چینلوں کے مباحثے میں حصے لیتے ہیں یہ دیتے ہیں کہ ٹی وی چینلوں پر وہ اس لیے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں اور اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا دفاع کرسکیں۔ جذبہ تو قابل قدر ہے۔ واقعی اب صورتحال تشویشناک ہے، اکثر ٹی وی چینل ’مسلم دشمنی‘ کے اڈےبنے ہوئے ہیں۔ طلاق ثلاثہ، حلالہ اور برقعہ نہ جانے کتنے ایسے موضوع ہیں جن پر دل کھول کر زہر افشانی کی جاتی ہے اور ٹی وی چینلوں سے نکل کر سماج میں پھیلنے والا زہر برادران وطن کے ذہنوں کو متعصب بھی کررہا ہے۔ ایک مسئلہ انتہا پسند ی اور دہشت گردی کا بھی ہے۔ اس کے ساتھ گھر واپسی اور تبدیلی مذہب کی بات بھی کی جاتی ہے۔ بات تو اب یہاں تک جا پہنچی ہے کہ نبی رحمت ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر بھی چھینٹا کشی شروع ہوگئی ہے۔ صورتحال سنگین ہے، جواب دینا بھی ضروری ہے اور غلط فہمیاں دور کرنا بھی۔
مگر کیا جو علمائے دین ٹی وی چینلوں پر جاتے ہیں وہ اپنے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے غلط فہمیوں کے ازالےکےمشن میں کامیاب ہیں؟ قطعی نہیں۔ بلکہ ہویہ رہا ہےکہ ان کی باتوں سے مسلمانوں اور اسلام کی امیج ، ساکھ مزید خراب ہوتی رہی۔ اس لیے کہ جو بھی علماجاتے ہیں، ان موضوعات پر جن پر بحثیں ہوتی ہیں، معلومات میں یا تو ناقص ہوتے ہیں یا معلومات کی ترسیل کا طریقہ نہیں جانتے لہذا ناکام ہوکر واپس آجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں بولنے نہیں دیاجاتا۔ ٹی وی کا اینکر ان کی زبانوں پر تالے ڈال دیتا ہے۔ ڈانٹ کر انہیں چپ بٹھادیتا ہے۔ ذلیل تک کرتا ہے۔ مذاق اڑانا تو معمول ہے۔ علمائے کرام مگر پھر بھی ہیں کہ ڈانٹ کھاکر اور ذلیل ہوکر بھی ٹی وی چینلوں کے آئندہ بلاوے پر پہنچ جاتے ہیں!
دارالعلوم دیوبند نے تو علمائے کرام سے درخواست تک کی کہ ٹی وی چینلوں پر نہ جائیں مگر ٹی وی کے پردے پر یہ نظر آنے کا شوق ہے ۔۔۔مسلمانوں اور اسلام کے دفاع کا جذبہ نہیں۔۔۔۔جو انہیں کشاں کشاں کھینچ لے جاتا ہے۔ کچھ چینل شاید پیسے بھی دیتے ہیں۔۔ او ریہ بھی ہوتا ہے کہ کسی سرکاری مولوی کو غیر سرکاری مولوی سے لڑوا بھی دیتے ہیں۔۔۔دنیا تماشہ دیکھتی ہے۔ برائے کرم علماء نہ تو خود کو مذاق بنوائیں اور نہ مسلمانوں اور نہ اسلام ۔ اگر انہیں اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کی فکر ہے تو اور بھی پلیٹ فارم ہیں۔ کبھی عام محفلوں میں جاکر بھی یہ بولیں؛ برادران وطن سے راست ملاقاتیں کرکے غلط فہمیاں دور کریں۔۔۔مگر خدا کے لیے ٹی وی چینلوں پر نہ جائیں۔۔۔ہاں مگر ایک مشترکہ اور متحدہ کوشش ایسی ہونی چا ہئے کہ علمائے کرام مباحثوں کے لیے تیار کئے جائیں۔۔۔ان کی معلومات ناقص نہ ہوں۔۔۔وہ انگریزی ، ہندی اور مراٹھی وغیرہ بھی بولیں او راپنی بات پوری صراحت کے ساتھ سامنے رکھیں۔ اس کے لیے ادارے میدان میں آئیں یہ بڑی خدمت ہوگی۔
(بصیر ت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *