کیو ں شہید ہو ئے حضرت حسینؓ؟

کیو ں شہید ہو ئے حضرت حسینؓ؟

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لا ئن)
آج یو م عاشورہ ہے۔
شہادت حضرت حسین ؓکا دن۔کر بلا کے میدان میں حق او ر باطل کے درمیان لڑی گئی جنگ کا آخری دن،وہ دن جب حضرت ِ حسین ؓنےاپنے اہل وعیال اور احباب اور جانثاروؓں کے ساتھ شہید ہو کر بھی حق کی لڑائی جیت لی اور یزیدی فو ج بظاہر میدان مارلینے کے باوجود بھی فتح کی بجائے ایک ایسی شکست سے دو چار ہو ئی جو باطل کی تقدیر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ باطل بظاہر بھلے ہی کا میاب نظر آئے مگر حقیقتاً وہ ناکا م ہی رہتا ہے۔ آج کا دن اس سوال کا جواب تلا شنے کا دن ہے کہ حضرت حسین ؓنے اپنے اہل وعیال کو بھی اور خو د کو بھی قربان کر ناکیو ں پسند کیا ؟کیو ں یزید کے ہاتھ پر ، جو کہ بادشاہِ وقت تھا ، بیعت نہیں کی؟اس سوال کے جو اب میں اُن سے بھی جو معرکۂ کر بلا کو ایک عام جنگ کی طر ح دیکھتے ہیں اور ان سے بھی جو اسے عام جنگ تو نہیں سمجھتے مگر جنہو ں نے جنگ کی یاد کو’’ رواجی‘‘ بنادیا ہے اور ان سے بھی جنہو ں نے معرکۂ کر بلا کو ـ’’اتحاد ‘‘ کی بجا ئے’’ انتشار‘‘ اور’’ افتراق‘‘ کا مو ضو ع بنارکھا ہے، صر ف اتنا کہنا ہے کہ نواسۂ رسو ل ﷺکی قربا نی صرف اور صر ف اس مقصد کے لئے تھی کہ عظیم تریناناحضرت محمدﷺ جو دین مسلمانو ں کو سونپ کر گئے ہیں وہ اپنی اصلی حالت میں قائم رہے۔ فسق وفجو ر سے محفوظ،بدعتوں سے محفوظ، رسوما ت سے محفوظ، بر ائی اور جابر کے آگے سر جھکا نے سے محفوظ ۔ حضرت ِ حسین ؓکی قربا نی کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ عام افراد وقت کے بادشاہ کے فسق وفجو ر کو دین کا حصہ نہ سمجھ لیں ۔ قربانی نہ محر م کی مجلسوں کے لیے تھی اور نہ وعظوں کے لیے۔ قربانی نہ شربت تقسیم کر نے لے لیے تھی اور نہ کھچڑا کھانے کے لیے۔قربانی’’ پیا س‘‘ اور’’ بھو ک‘‘ کو یاد کر کے اپنے آس پاس کے اور ملک کے بےشما ر ’’پیاسوں‘‘ اور ’’بھو کو ں ‘‘کو یا د کر نے اور ان کی بھو ک اور پیاس مٹانے کے لیےتھی ۔ قربانی محبت کے لیے تھی، اتحاد کے لیے تھی۔ حضرت ِ حسین ؓ خود کو او راہل بیت کو میدانِ کربلا اس لیے لا ئے تھے کہ دین کی بنیا د پر تما م مسلما نو ں کو متحد کیا جائے۔آپسی اختلافات کو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے فرامو ش کر دیا جا ئے ۔نہ کہ مجلسوں اور وعظوں کا استعمال قربانی کے مو ضو ع کو آپسی اختلا فات کو ہو ا دینے او پہلے ہی سے غیر وں کے ہا تھوں پر یشان ملت کو مزید پریشان کرنے ، منتشر کرنے اور آپسی نفرتیں اور عداوتیں بڑھانے کے لیے۔
قربانی صرف اس لیے دی جا تی ہے کہ جو پیچھے رہ جا ئیں وہ راہِ راست پر بھی رہیں او ان کی زندگیو ں میں امن وچین بھی ہو۔حضرت ِ حسین ؓ کی قربانی ملت کے لیے تھی ، ملت کو بے راہ روی سے روکنے کے لیے تھی، مسلمانوں کی زندگیو ں میں امن وچین کے لیے تھی۔ پر کیا واقعی ہم سب جو شہادتِ حضرت حسین ؓپر غمگین ہیں ، کہ ہمیں غمگین ہو نا بھی چاہیئے ، شہا دت عظیم کے سبق کے محافظ ہیں؟کیا ہم نے فسق وفجو ر کوتج رکھا ہے، مسلکی او ر ذاتی اختلا فات طاق پر رکھ چکے ہیں او ر بے راہ روی کو چھوڑ کر اسلا م میں پورے کے پورے داخل ہو چکے ہیں ؟افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ حضرت حسین ؓ کی شہادت پر غم والم کی کیفیت کا اظہار کر نے یا محبت حضرت حسین ؓکا دعویٰ کرنے والے ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکیں او دیکھیں کہ وہ کتنے حسینی ہیں اور کتنے یزیدی ہیں ، تو اندازہ ہو گا کہ اکثریت ان تما م فسق وفجو ر میں، جن کے خلا ف حضرت حسین ؓ نے آواز بلند کی اور شہید ہوئے،بری طرح سے مبتلا ہے۔ فرعون ِ وقت کے آگے سر جھکانا اس نے اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ حق نہیں بولتا بلکہ باطل کی ہا ں میں ہا ں ملا تاہے۔کل قیامت کو شاید چند ہی لو گ ہو نگے جو نواسۂ رسول حضرت حسین ؓ کو بھی اورعظیم ترین نانا حضرت محمدﷺ کو بھی منھ دکھانے کے قابل ہو نگے۔
(بصیرت فیچرس)