امت مسلمہ اورگلوبلائزیشن کاچیلنج

امت مسلمہ اورگلوبلائزیشن کاچیلنج

مفتی محمد عبد اللہ قاسمی
mob:8688514639
حق وباطل کی کشمکش قدیم تاریخ رکھتی ہے،مختلف محاذوں پراسلام اورکفرکی جنگ صدیوں سے جاری وساری ہے،طاغوتی طاقتوں کی حق کے خلاف ریشہ دوانیوں کی داستان تاریخ کاایک اہم باب ہے تووہیںفرزندان توحیدکی بے مثال قربانیوںاورسرفروشانہ کارناموں کی داستاں بھی روح پروراورامیدافزاہے،شاعرمشرق علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاہے:
ستیزہ کاررہاہے ازل سے تاامروز
چراغ مصطفوی سے شراربولہبی
مغرب کی اسلام دشمنی اورمسلمانوں سے بغض وعداوت آج کسی باشعورمسلمان پرمخفی نہیں ہے،امت مسلمہ کواپنامحکوم وغلام بنانا اوراسے سیاسی واقتصادی میدان میں مفلوج اورناکارہ بنانامغربی رہنمائوں اورصہیونی تحریک کے علمبرداروں کی اولین ترجیح ہے،اسی سلسلہ کاایک جدیداورترقی یافتہ ایڈیشن گلوبلائزیشن ہے،جوکچھ عرصہ قبل سیاسی واقتصادی افق پرظاہرہواہے۔
گلوبلائزیشن دراصل صہیونی شاطردماغوں کی تیارکی ہوئی وہ بھیانک اسکیم ہے جس کامقصدمشرق سے لے کرمغرب تک ،شمال سے لے کرجنوب تک اپنی اجارہ داری قائم کرنااورپوری دنیاکواپنامحکوم وتابع بناناہے،دنیاکے ممالک پراپنااقتداراوراپناتسلط جمانے کے لئے یہ لوگ متعددوسائل استعمال کرتے ہیں،جن کاذیل میں اختصارکے ساتھ تذکرہ کیاجاتاہے:
اقتصادی پابندی
اقتصادی پابندی وہ موثرہتھیارہے جوکسی بھی ملک کوجھکنے اوریک طرفہ شرائط کوبادل ناخواستہ تسلیم کرنے پرمجبورکردیتاہے،پہلی عالمی جنگ کے بعدامریکہ اس موثرہتھیارکو۱۱۵مرتبہ مختلف ممالک کے خلاف استعمال کرچکاہے،بعض یورپی ممالک کے سربراہوں نے معیشت واقتصادکے لئے ایسی دوہری پالیسیاںوضع کی ہیںکہ اس کاپورافائدہ امریکہ اوراس کی حلیف معدودے چندممالک ہی کوجاتاہے،اورپوری دنیاچاروناچاران ظالمانہ قوانین میں ایسی جکڑی ہوئی ہے کہ ان کوتسلیم کیے بغیرانہیں کوئی چارہ ٔکارنہیں ہے۔
فوجی دخل اندازی
اقتصادی پابندیوں کے ساتھ امریکی حکومت اب تک مختلف شکلوں میںدنیاکے تقریبا۱۱۵ملکوں میں فوجی دخل اندازی کاارتکاب کرچکی ہے،اوراس کابنیادی مقصدایشیاء ،افریقہ اورلاطینی امریکہ میں امریکی اقتدارکومستحکم اورمضبوط کرناہے،افغانستان،عراق ،لیبیااورمصرمیں اس نے فوجی آپریشن کرکے اپناتسلط مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ثقافتی تسلط
آج امریکہ پوری دنیامیں مختلف قسم کے میوہ جات اورمتعددقسم کی مصنوعات فروخت کررہاہے،ان چیزوںکی اس کے یہاں چنداں حیثیت نہیں ہے،بلکہ اس کے لئے اس کے لٹریچر،اس کے موسیقی،اس کے ٹیلویزن پروگرام کی خریدوفروخت خاص اہمیت کاحامل ہے،کیوں کہ اس کے ذریعہ سے پوری دنیامیں امریکہ کی ثقافت وتہذیب اوراس کے معاشرتی اصول فروغ پاتے ہیں،اوردیگرتہذیبیں اس کے سامنے دم توڑدیتی ہیں،اس ثقافتی تسلط کامقصددنیا کے تمام معاشروں میں موجوداجتماعی ومعاشرتی خصوصیات کوختم کرنااوران کواخلاقی وروحانی قدروں سے آزادکرناہے،آزادی،روشن خیالی اورجدت پسندی اس شیطانی ثقاقت کی نمایاں خصوصیات ہیں،چنانچہ اس مقصدکے لئے مغرب نے میڈیااورجدیدذرائع ابلاغ پرمکمل کنٹرول کرلیاہے،اس وقت پوری دنیامیں اشتہارات کی چالیس عالمی ایجنسیاں ہیںجن میں تیس ایجنسیاں صہیونی لابی کی ہیں،پوری دنیامیں ٹیلویزن اورسیٹ لائٹ کے ذریعہ دکھائے جانے والے پروگراموں میں سے ۴۵/فیصدپروگرام امریکہ کے لئے مخصوص ہیں،پرنٹ میڈیاکے میدان میں بھی ۶۰/فیصدحصہ پرامریکی اخبارات کاقبضہ ہے۔
اوپن مارکیٹ
اوپن مارکیٹ بھی گلوبلائزیشن کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیادہے،اوراس کامقصدمقامی بازارکے مفادات کونظراندازکرنا،کسٹم قوانین کومنسوخ کرنااورمزدوروں کے حقوق سے تجاہل برتتے ہوئے عالمی کمپنیوں کے مفادمیں ہرطرح کی پابندی کوختم کردیناہے،چنانچہ ایسے ظالمانہ اورسفاکانہ مقاصدہی کے پیش نظردنیاکی پانچ سوبڑی کمپنیوں نے ۱۹۸۰سے ۱۹۹۵کے دوران پچاس لاکھ مزدوروں کی چھٹی کردی،تاکہ پیداوارپرآنے والی لاگت کوکم سے کیاجاسکے،جس کی وجہ سے اس مدت میں ان کی آمدنی میں ڈیڑھ گنااوران کی املاک میںڈھائی گنااوران کے مالکوں کی آمدنی میں آٹھ گنااضافہ ہوا۔
بے روزگاری کی شرح میں اضافہ
گلوبلائزیشن وہ گھنائونی سازش ہے جس کابنیادی مقصداقتصادی ومعاشی میدان میں امت مسلمہ کومفلوج اورناکارہ بناناہے،اورمسلم ممالک میں بے روزگاری اورغربت کی شرح میں اضافہ کرناہے،گلوبلائزیشن کے عمل کاسب سے زیادہ اثرزراعتی سیکٹرپڑاہے،جاپان ،جنوبی کوریااورتائیوان میں ۱۹۶۰ء سے لے کراب تک ۶۰/فیصدقابل کاشت اراضی کوکارخانوں اورگھروں کی تعمیرکے لئے استعمال میں لایاجاچکاہے،انڈونیشیامیں ہرسال بیس ہزارایکڑقابل کاشت زمین کم ہوتی جارہی ہے،دنیامیں اس وقت ایک ارب پچاس کروڑافرادایسے ہیںجوایک ڈالر یومیہ سے بھی کم آمدنی پرزندگی گزاررہے ہیں،ترقی یافتہ ممالک کوچھوڑکرآج دنیاکاہرملک ۳۴بلین ڈالرعالمی مالیاتی اداروں کامقروض ہے،مالی اعتبارسے مضبوط سمجھے جانے والے عرب ممالک کے قرضوں کی رقم بھی ۲۵۰بلین ڈالرتک پہونچ گئی ہے،اورہرمنٹ پچاس ہزارڈالر کے حساب سے ان قرضوں کے سودمیں اضافہ ہوتاجارہاہے۔
امت مسلمہ کی ذمہ داری
ایسے پرفتن اورمہیب دورمیں جب کہ مسلمانوں کے فضائے حیات پرسیاسی اورسماجی حالات سیاہ بادل بن کرچھائے ہوئے ہیںان کے تدارک کے لئے ایک جامع اورمنصوبہ بندحکمت عملی کی ضرورت ہے ،جس کواختیارکرکے امت مسلمہ گلوبلائزیشن کے چیلنج کاسامناکرسکتی ہے۔ایسے حالات میں علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات حاضرہ کاگہرائی سے مطالعہ کریں،فروعی اختلافات کوبالائے طاق رکھ کرایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی فضاقائم کریں،اورموجودہ مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اورمنصوبہ بندلائحہ عمل تیارکریں۔والدین اورسرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل نوکی صحیح اوربہترتربیت کریں،اسلامی اخلاق واقدارسے انہیں آراستہ کریں،اورمغربی تہذیب وتمدن کے کے مفاسدونقصانات سے نئی نسل کوروشناس کرائیں۔زراعت اورکاشت کاری کے شعبہ میں چوں کہ عالمی کمپنیاں اجارہ داری قائم کررہی ہیں؛اس لئے امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کمپنیوں کابائیکاٹ کریں،اورمقامی کسانوں اورکاشت کاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔مسلم حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیااورجدیدذرائع ابلاغ پربتدریج تسلط حاصل کریں،اورانٹرنیت کی حیاباختہ اوراخلاق سوزسائٹس پرپابندی لگائیں،سپرمارکیٹ اوربڑے تجارتی مراکزکے بجائے چھوٹے چھوٹے دکان کوقریہ قریہ اوربستی بستی فروغ دیں،کیوں کہ بڑے تجارتی مراکزمیں فائدہ محض چندسرمایہ کاروں کاہوتاہے،انفرادی طورپرہرمسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالی سے تعلق کومضبوط کریں،قرآن کریم کی تعلیمات وہدایات کواپنی عملی زندگی میں نافذکریں،گلشن سیرت کے عطربیزپھولوں سے اپنے اخلاق وکردارکے بام ودرکومعطرکریں،اگرہم خودکوان باتوں کے لئے تیارکرتے ہیں توان شاء اللہ ہرسوچھائی ہوئی ذلت ونکبت دورہوگی،شبابی سے کلیمی اورغلامی سے آقائی حاصل ہوگی،اوراس طرح ہم اپنے عظمت گم گشتہ اورکھوئے ہوئے وقا رکوبحال کرسکتے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)