غریبوں سے دشمنی مول لی تو کوئی مودی، یوگی نہیں بچا پائیں گے! 

غریبوں سے دشمنی مول لی تو کوئی مودی، یوگی نہیں بچا پائیں گے! 

پرنو پریہ درشی

پرنو پریہ درشی
ترجمہ: نازش ہما قاسمی
یوگی حکومت میں ایک وزیر ہیں جن کا نام اوم پرکاش راج بھر ہے جو آبپاشی وزارت کا کام دیکھ رہے ہیں۔ انہیں بچوں کی پڑھائی لکھائی کی بہت فکر ہے۔ گزشتہ دنوں بلیا میں ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے صاف طور پر کہا ’وہ اپنی مرضی کا قانون لگانے والے ہیں، جس کے مطابق اگر غریب گھروں کے بچے اسکول نہیںجاتے ہیں تو ان کے ماں باپ کو پولس پکڑ کر لے جائی گی اور انہیں تھانوں میں پانچ دن بھوکے پیاسے بند رکھاجائے گا‘۔
ٹی وی چینلوں کو ان کے اس بیان کا ویڈیو مل گیا اور وہ نشر کرنے لگے مگر ایک ٹی وی چینل نے ان سے بات کرکے اس ویڈیو کی سچائی جاننے کی کوشش کی۔ وزیر نے پہلا واقعہ یہ کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہا ہے ۔ پھر جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے دراصل کہاکیا تھا ؟ تو راج بھر صاحب نے کہاکہ ’بچوں میں پڑھائی لکھائی بہت ضروری ہے۔ یہ بات لوگ سمجھتے ہی نہیں بار بار سمجھانے پر بھی ان کے دماغ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح ڈھنگ سے اسکول بھیجیں۔ اس لیے انہیں سمجھانے کے لیے کہنا پڑا کہ اب میں نیا قانون لے کر آئوں گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا قانون لاسکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ’ہم نظر رکھیں گے کہ کن لوگوں کے بچے اسکول نہیں جارہے ہیں، ان کے خلاف ہم پولس میں شکایت کریں گے، یہ تو ہم کر ہی سکتے ہیں نہ؟‘۔ چینل رپورٹر نے کہاکہ ’سر نہیں کرسکتے‘ لیکن وزیر جی اسے ماننے کو تیار نہیں تھے۔
راج بھر صاحب کی نیت پر شک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہےانہوںنے بہت نیک ارادوں سے یہ بات کہی ہو۔ تنگ نظریہ اور صبر کی کمی کی وجہ سے اکثر ایسی نیک دلی تانا شاہی کی اندھیر گلیوں تک پہنچتی رہی ہے۔
ماضی کی طرف جائیں تو اندرا گاندھی کے چھوٹے لڑکے آنجہانی سنجے گاندھی نے ایمرجنسی کے دوران اس طرح کی کئی مثالیں قائم کی تھیں۔ ان کی سوچ تھی کہ آبادی میں اضافہ ملک کا سنگین مسئلہ ہے اور آنے والے دوڑ میں یہ سنگین سے مزید سنگین تر ہوجائے گا۔ انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش شروع کی۔ مگر ’جاہل، گنوار، بیوقوف ‘ ملکی مسائل کی سنگینی کو سمجھ ہی نہیں رہے تھے۔ تب سنجے گاندھی نے اقتدار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کی جبراً نسبندی کرانے کی مہم شروع کروادی۔ جہاں جو ہتھے چڑھ جاتا اس کی نس بندی کرا دی جاتی تھی۔ قدرتی طور پر لوگوں میں اس کا شدید رد عمل دیکھا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ الیکشن میں ان کی پارٹی کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑے۔
سنجے گاندھی کے تاناشاہی دماغ میں یہ بات گھس نہیں رہی تھی کہ یہ ملک ان کی وراثت نہیں ہے۔ عوام کا اس پر پہلا حق ہے۔ اگر کسی مسائل کو وہ ٹھیک اسی طور سے نہیں دیکھتے جس طرح سنجے گاندھی دیکھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے، کوئی جرم نہیں۔ ملکی باشندوں کی اپنی الگ الگ ترجیحات ہوسکتی ہیں ۔ سنجے گاندھی یا ان کے جیسا کوئی بھی لیڈر کوئی بھی حکومت عوام کی مدد کرنے کے لیے ہوتی ہے ان پر اپنی مرضی تھوپنے کے لیے نہیں۔
اوم پرکاش راج بھر خود کو عوامی نمائندہ کہتے ہیں۔ جو بھی حیثیت ان کی بنی ہے اسی حیثیت کی پیداوار ہے۔ اس لیے انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جن غریبوں کو وہ بھوکے پیاسے تھانوں میں بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، وہ اگر ٹھان لیں تو راج بھر اور ان کا عہدہ وزارت ہی نہیں، انہیں اس عہدے پر بٹھانے والے ان کے آقا بھی طوفان میں تنکے کی طرح اڑتے نظر آئیں گے۔
جہاں تک بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے، تو اگر راج بھر میں سوچنے کی تمیز ہوتی ، تھوڑا صبر ہوتا تو وہ اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیج پانے کی مجبوری کے پیچھے چھپے ان والدین کا درد محسوس کرسکتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ان کی حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے، ان کی غریبی کو کم کرنے کی کوشش کرتے، جیل بھیجنے کی دھمکی دے کر انہیں ذلیل نہ کرتے۔
(بشکریہ: ’نوبھارت ٹائمس‘) 

 

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *