پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کیا گیا تو ایران تنہا ہوجائے گا

پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کیا گیا تو ایران تنہا ہوجائے گا

واشنگٹن(بی این ایس؍ایجنسی)
حال ہی میں امریکی کانگریس نے ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرونی ملک سرگرم ’القدس ملیشیا‘ کو دہشت گرد قرار دینے پر اکتفا کرنے کے بجائے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے متنازع جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی وجہ سے تہران کو سخت عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔
خبررساں ایجنسی العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اگر پاسداران انقلاب کوامریکا میں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے اور اسے دہشت گرد فوج قرار دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایران دنیا بھر میں تنہا ہو کر رہ جائے گا۔
امریکا میں پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کیے جانے کے نتائج ایران کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہ اس لیے بھی ایک غیرمعمولی اقدام ہوگا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی ڈیڑھ لاکھ شخصیات پر بہ یک جنبش قلم پابندی عاید کردی جائے گی۔ اس طرح ایران اپنی انتہائی طاقت ور فوج کو اپنے لیے بوجھ سمجھنے لگے گا۔
واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کوئی عسکری ملیشیا نہیں بلکہ ایک منظم عسکری ادارہ ہے جو بحریہ، فضائیہ اور بری فوج پر مشتمل ہے۔ یہ ادارہ ملک میں سب سے بڑی دفاعی صنعت کا نگران ہے۔ ایرانی جوہری پروگرم، بیلسٹک میزائلوں کو اپ گریڈ کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کے پاس ہے۔ براہ راست یا بالواسطہ طور پر لاکھوں افراد پاسداران انقلاب سے مربوط ہیں۔ امریکی پابندیاں ان سب کو متاثر کرسکتی ہیں۔
ایرانی معیشت پر کاری ضرب
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 2015ء میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران میں طے پائے معاہدے کے بعد تہران پر عاید کردہ عالمی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی گئی تھی۔
امریکا میں پاسداران انقلاب کو دہشت گرد فوج قرار دینے کی صورت میں ایران کی پہلے سے تباہ حال معیشت مزید ابتری کا شکار ہوگی۔ اس طرح یہ پابندیاں ایرانی معیشت کے لیے کاری ضرب ثابت ہوسکتی ہیں۔
امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ پابندیاں اٹھنے کے بعد عالمی سطح پر بحال ہونے والے اثاثے ایران کے جوہری، بیلسٹک میزائل پروگراموں اور بیرون ملک عسکری کاروائیوں پر خرچ کی جانے لگی ہے۔
اگر پاسداران انقلاب پر پابندی لگتی ہے تو یہ پابندی ایرانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گی۔
امریکی ابہام
اگرچہ امریکی کانگریس میں ایرانی پاسداران انقلاب پر اقتصادی پابندیوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر امریکی موقف میں ابہام بھی موجود ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کو ختم کرسکتے ہیں مگر امریکی انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایا ہے یا نہیں اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔
البتہ اگست میں منظور کردہ بل کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے جس میں صدر کو ایرانی شخصیات، اداروں بالخصوص پاسداران انقلاب پر پابندیوں کے لیے 90 دن کا وقت دیا تھا۔
اب تک امریکا پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ’فیلق القدس‘ کو دہشت گرد قرار دیتا رہا ہے۔ فیلق القدس ایران سے باہر عرب ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بتائی جاتی ہے۔
پڑوسی ملکوں میں عسکری مداخلت میں پیش پیش فیلق القدس کے ساتھ پاسداران انقلاب انقلاب پر عالمی دہشت گردی کو فروغ دینے اور بین البراعظمی میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *