اردو زبان وادب کا شعورنسل نو کے لئے ناگزیر

اردو زبان وادب کا شعورنسل نو کے لئے ناگزیر

شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ اور آل انڈیا اردوماس سوسائٹی فارپیش کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں خورشید اکرم کا توسیعی خطبہ
ڈاکٹرعبدالقدوس،ڈاکٹرم،ق سلیم،ڈاکٹرفردین مختار،ڈاکٹرغوثیہ بانو،ڈاکٹرضیاء احمد،محسن خان اور بوہریرہ یوسفی وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا
حیدرآباد۔۱۲؍اکتوبر: (پریس نوٹ)اردو کی ساری دنیا میں اپنی ایک الگ ہی پہچان ہے ۔ کئی لوگوں نے اس کوختم کرنے اوراس کی اہمیت کوختم کرنے کی سازش کی لیکن آج بھی اس کادبدبہ برقرار ہے بغیر اس کے کوئی فلم یا گانا نہیں بن سکتا۔ اس کے لفظو ں کا استعمال کئے بغیر کوئی اشتہار نہیں بن سکتا۔ نیوزچیانلوں کی سرخیوں اس کا استعمال ہوتا ہے یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں بھی اردو کے اشعاراوراس کی کہاوتوں کی گونج ہے۔ ان خیالات کا اظہار شرکاء نے شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ اورآل انڈیا اردوسوسائٹی فارپیس کی جانب سے ’’اردوزبان وادب اورنئی نسل ‘‘کے عنوان سے توسیعی خطبہ میں کیا۔ کولکتہ سے تشریف لائے خورشید اکرم نے اپنے توسیعی خطبہ میں کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اردواخبارات‘کتابیں اوررسائل خرید کرپڑھیں ۔اپنے بچوں کوانگریزی تعلیم ضرور دلائیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اردو زبان بھی سکھائیں کیونکہ اخلاق وادب کا درس یہی زبان دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ ہندی‘انگریزی‘بنگلہ زبانوں کے اہم کتابوں ‘شاعری اور دیگرچیزوں کواردومیں ترجمہ کرکے منتقل کررہے ہیں تاکہ اردو والے زیادہ سے زیادہ نئی چیزوں سے واقف ہوں۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرم ق سلیم نے کہاکہ ہم کوباتوں کے بجائے عملی اقدام کرنا چاہئے۔ آج کی نئی نسل اردوکے ساتھ ساتھ اخلاق سے بھی دورہوتی جارہی ہے۔ فون پرآپ گفتگو کا آغاز ہیلو سے کیاجارہا ہے ۔مہمان سے گفتگو کا سلیقہ اوربڑوں سے بات کرنے کے آداب سے بھی ہماری نئی نسل ناواقف ہورہی ہے اور ان میں رشتوں کااحترام بھی کم ہوتاجارہا ہے۔ اس کی اہم وجہ اخلاقی تعلیم سے دوری ہے۔ اردو زبان ابتداء سے ہی اخلاق وادب کی تعلیم دیتی ہے اگرہمارے بچوں میں اچھے عادات وصفات پیدا کرنا ہے توہمیں چاہئے کہ انہیں اردو زبان سکھائیں۔ڈاکٹرعبدالقدوس صدرشعبہ اردوحسینی علم گرلز ڈگری وپی کالج نے کہاکہ اردوزبان ہماری وراثت ہے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حسینی علم گرلز کالج میں بارہ سوقریب لڑکیاں تعلیم کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے طلبہ کوراغب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی کریں۔ حکومت کی طرف سے اسکالرشپ اوردیگرسہولتیں بھی طلبہ کوفراہم کی جارہی ہے تاکہ بچہ آسانی سے علم حاصل کرسکے۔ڈاکٹرضیااحمد کاپی ایڈ یٹر( ای ٹی وی)نے کہاکہ نوجوان نسل کو اردو سے جوڑنے کے لئے اس طرح کے تہذیبی پروگرامس منعقد کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ای ٹی وی اردواس کے علاوہ دیگر شعبو ں میں بھی اردومیڈیم سے فارغ طلبہ کیلئے روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ محسن خان نے کہاکہ ہم کو عصری ٹکنالوجی کا استعمال اردو کے فروغ کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا پرہمیں اردومیں ترسیل کرنا چاہئے۔ چاہے فیس بک ہویا واٹس یا دیگر سوشل میڈیا ہم کووہاں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے ۔ محسن خان نے کہاکہ اردوکے مواد کوزیادہ سے زیادہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈکیاجانا چاہئے۔ جس طرح انگریزی اخبارات کے ویب سائیٹ متن میں ہوتے ہیں اس طرح ای پی پیپر کے ساتھ ساتھ اردواخبارات کوبھی اپنی ویب سائیٹس پراردو خبرو ں کو یونیکوڈ میں پیش کرنا چاہئے۔ ابوہریرہ یوسف قاسمی نے کہاکہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور اعلیٰ ملازمتوں پرفائز ہے۔اردومیڈیم طلبہ کوچاہئے کہ وہ اردو کے ساتھ دیگرزبانوں میں مہارت پیدا کریں۔ اورزمانہ کے حساب سے اپنے آپ کوڈھالیں۔ آل انڈیا اردوماس سوسائٹی فارپیس کے صدرمختاراحمدفردین نے کہاکہ خورشید اکرم کوحیدرآبادی ادبی شخصیات اوریہاں کے لوگوں سے ملانے کے مقصد سے یہ پروگرام منعقدکیاگیاتھا تاکہ معلومات کا تبادلہ ہو۔انہوں نے کہاکہ سوسائٹی کا مقصد اس طرح کے پروگرام کے ذریعہ تمام ادبی شخصیات کوایک پلیٹ فارم پرلاکر اردو کے فروغ کے لئے کام کرنا ہئے اور کی ترقی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوتا ہے۔ پروگرام کی نظامت شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشن کے چیرمین ڈاکٹر محامدہلال اعظمی نے انجام دی۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے ادبی پروگرام آگے بھی منعقد کئے جائیں گے اور شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ ہمیشہ اردوزبان وادب اور علمی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے لئے ہمیشہ کوشاں ہے ۔انہوں نے کولکتہ سے تشریف لائے خورشید اکرم کا شبلی انٹرنیشنل ٹرسٹ اور آل انڈیا ماس سوسائٹی کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *