آئین کے دفعات کے مطابق آج ہمیں منصوبہ بند ی کی اشد ضرورت : مولانا سجاد نعمانی

آئین کے دفعات کے مطابق آج ہمیں منصوبہ بند ی کی اشد ضرورت : مولانا سجاد نعمانی

فرقہ پرستی اور فاشزم کیخلاف محاذسیکولر مسلم اور غیر مسلم تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر نے کی کو شش
ممبئی ۱۲؍ اکتو بر ( روزنامہ ممبئی اردو نیوز) کار پوریٹ فاشزم ،سامراجیت، نسل پرستی اور جرائم آج ہمارے معاشرے کی اہم خصوصیات ہیں ۔غربت ،جہالت،بے روزگاری،عدم مساوات،تشدد ،بد امنی،فسادات اور ماحولیاتی خطررات ان کے پھل ہیں ۔ مرکزی پارٹی جو اقتدار میں بیٹھی ہے اور کچھ ریاست اپنے مفاد کے لئے ان برائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ہندتوا پر ہندوئو ں کے حامی ،بر ہمن وادی ریاست ،ذات پات کے نظام،سماجی اور اقتصادی عدم مساوات اور متضاد طریقوں سے ، وہ ان سماجی مسائل کو براہ راست اور بالواسطہ طورپر فروغ دے رہے ہیں ۔ ہمارے آئین اور اس میں مو جود انسانی حقوق ان کے لئے کڑوا گھوت ہے، اور اس میں تبدیلی کر نے میں ناکام ہو نے کی وجہ سے ، وہ ان کو پیر وں تلے روند رہے ہیں ، یہ دوگلا پن ان کی پالیسی اور حکومت کی خصوصیت ہے اس کے نتیجے میں ، بے چینی ،عدم تحفظ ،ناامیدگی،تشدد اور جر ائم کا ارتکا ب ہر شعبے میں اور تما م محاذوں میں ہو رہا ہے۔ آزادی کا نقصان اور فاسٹسٹ فورسز کے اضافے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیاہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ صحیح وقت ہے کہ آزادی ،مساوات ،بھا ئی چارہ، انصاف اور انسانیت پر یقین کر نے والے معاشرے کے تمام مفکر ان ایک ساتھ آئیں اور نہ صرف ہمارے ملک کو فرقہ وارانہ ،ناہموار فاشسٹ ریا ست میں تبدیل کر نےکی واضح کو شش کی مخالفت کر یں بلکہ، ایک مشترکہ قابل قبول پر وگرام تیا ر اور نافذ کر یں ۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مو لانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کیا ۔آج یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے حضرت سجاد نعمانی نے کہا کہ ہمارے آئین کے دفعات کے مطابق آج ہمیں منصوبہ بند ی کی اشد ضرورت ہے، آپ نے کہا کہ ملک میں بہت سے ترقی پسند دانشور ،دلتوں اور کمزور عوام کے لئے کا م کرنے والے سرگرام کارکنوں اور تنظیمو ں نے اس مشن کے ایک یا دوسرے حصے کو فروغ دینے میں اب تک مصروف رہے ہیں ۔ لیکن اب ، مو جو دہ حکو مت کے تحت ہو نے والے واقعات کے نئے موڑ کے تناظر میں ، قومی معاملات پر بحث اور حل کر نے کا ایک اور موقع مفید ثابت ہو گا۔ اس مقصد کے ساتھ کے تحت 15اور 16؍اكتوبر 2017كو ’’انصاف اور امن كے اتحاد كے لئے د و روزہ قومی كنونشن ‘‘ ركھاگیا ہے۔آپ نے اخیر میں کہا کہ خصوصی كا ركنوں كے ساتھ، مختلف ریاستوں کے 100سے زائد كا ركنان اور كئی تنظیموں كے نمائندے كا نفرنس میںشركت كی حامی بھر چکے ہیں اوراُمید ہے کہ اس مو قع پر ان تمام لو گوں کے جامع اتحاد کو یا د رکھا جا ئے گا جو دستوری اقدار کی بنیا دوں پر انصاف اور امن حاصل کر نے کےلئے سامراجی فاشزم کے مخالف ہیں۔بعد ازیں ڈاکٹر عظیم الدین نےاس پر وگرام کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا ۔ جبکہ جسٹس کولسے پاٹل اور ٹیسٹا ستلواد نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے علاوہ دیگر مسائل پر پو چھے گئے سوالوں کا جواب دیا ۔