مسلمانوں کو کہیں جائے پناہ نہیں

مسلمانوں کو کہیں جائے پناہ نہیں

عبدالرحمن صدیقی(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
ایک طرف ملک کی سول سوسائٹی اور حق وانصاف اور انسانیت نوازوں کی جانب سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ میانمار میں وہاں کی فوج اور بدھشٹ دہشت گردوں کے حملوں کا شکار روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان میں پناہ دی جائے تو دوسری طرف ملک کے مختلف حصوں سے مسلسل اور تواتر کے ساتھ خبریں آرہی ہیں کہ کسی نہ کسی حصہ میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیاجارہا ہے جو میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ کیاجارہا ہے۔ راجستھان کے ایک گائوں سے خبر آرہی ہے کہ وہاں پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان لوک گائک کو ایک مندر کے پجاری اور اس کے ساتھیوں نے قتل کردیا اور پورے گائوں میں اس قدر خوف وہراس اور دہشت پھیلی کہ ۲۰۰ مسلمانوں کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا اس کے بعد ایک خبر متھرا سے آئی ہے یہاں ایک ہندو ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے بعد کئی مسلم فیملیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کے تعلق سے کہاجاتا ہے کہ اس کا مبینہ طور پر ایک مسلم لڑکی سے معاشقہ چل رہا تھا۔ عام حالات میں قتل کی واردات لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہوا کرتی ہےلیکن اس ملک میں نام نہاد لوجہاد کے نام پر ماحول کو اس قدر زہر آلود کردیاگیا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی واردات بھی فرقہ وارانہ تنائو میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
بی جے پی نے ۲۰۱۴ میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ۲۰۱۹کا الیکشن جیتنے کی تیاری شروع کردی تھی، بی جے پی کو اچھی طرح علم تھا کہ ایک مرتبہ مرکز میں اقتدار میں آکر اس کو برقرار رکھنا اور اپنی کارکردگی کے بل پر دوبارہ حکومت قائم کرپانا مشکل ہے مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے وہ یہ کہ ماحول کو کسی بھی طرح سے خراب رکھاجائے کیو ںکہ کشیدگی بھرے ماحول میں ہی بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لایاجاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی کے اقتدار میں آتے ہی فرقہ پرستوں کی زبانیں دراز ہوگئیں کسی نے مسلمانوں کو پا کستان جانے کا مشورہ دیا تو کسی نے لوجہاد کا شوشہ چھوڑا تو کسی نے رام زادہ حرام زادہ والی بات کی اس کے فوراً بعد نام نہاد گئو رکشکوں کی شکل میں دہشت گردوں کا ٹولہ پورے ملک میں سرگرم ہوگیا جس نے دلتوں اورمسلمانوں کو نشانہ بنایا۔
آج ملک کی حالت بہت خراب ہے مہنگائی اپنے عروج پر ہے کاروبار تباہ وبرباد ہورہے ہیں کسان خودکشی کررہے ہیں نوجوان بے روزگاری کی مار جھیل رہے ہیں، نوٹ بندی کے انتہائی تباہ کن اثرات ملک کی معیشت پر مرتب ہورہے ہیں ، رہی سہی کسر جی ایس ٹی نے پوری کردی ہے عوام حیران وپریشان ہیں مودی کی مقبولیت روز بروز گھٹ رہی ہے اب اگر الیکشن جیتنا ہے تو صرف ماحول خراب کرکے ہی جیتا جاسکتا ہے اور سنگھ پریوار کی پوری مشنری اس کام کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات اور اس ماحول میں کیاکیا جائے ملک میں جو ماحول پیدا ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ایک مضبوط سیکولر قیادت کی ضرورت ہے۔ جوعوام کے جذبات واحساسات کو زبان دے سکے ضرورت اس بات کی ہے کہ موجود حکومت کے  خلاف تمام سیکولر طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بائیں بازو کی جماعتوں کو اس بات کی پیش کش کی ہے کہ وہ فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کے خلاف ترنمول کانگریس سے ہاتھ ملالیں۔ ادھر کمیونسٹ خیمہ سے خبر آرہی ہے کہ کانگریس سے ہاتھ ملانے پر سی پی ایم کے دو رہنمائوں پرکاش کرات اور سیتا رام یچوری کے درمیان اختلافات ہیں کیوںکہ کیرل میں کانگریس کا مقابلہ براہ راست سی پی ایم سے ہی ہے۔
اپوزیشن پارٹیو ںکے درمیان مثبت اتحاد سے فرقہ پرستوں کے پھیلائے جال کو توڑا جاسکتا ہے اور الیکشن میں ان کو شکست بھی دی جاسکتی ہے ۔ بہت جلد راہل گاندھی کانگریس کے صدر بننے والے ہیں بہتر ہوگا کہ پوری اپوزیشن کانگریس کی قیادت میں متحد ہوجائے۔ مسلم رہنمائوں او رمسلم عوام کو بھی اس سمت سرگرم ہونے کی ضرورت ہے۔
(بصیرت فیچرس)