ہری دوار میں ۱۷؍مسلم کنبوں نے محلہ چھوڑا

ہری دوار میں ۱۷؍مسلم کنبوں نے محلہ چھوڑا

معاشقہ کے چکر میں ٹیکسی ڈرائیور کے قتل سے علاقہ میں سنسنی
ہری دوار۔۱۲ اکتوبر۔(روزنامہ ممبئی اردو نیوز)اطلاع کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے بعد تمام ۱۷ مسلم کنبوں نے ہری دوار کے پاس مرغی فارم علاقہ چھوڑ دیا ہے۔ٹیکس ڈرائیور کے مبینہ طور پر مسلمان لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔لکشمن سنگھ کالورا (۳۲ سالہ) کے قتل کے بعد ۱۹ سالہ لڑکی کے باپ اور بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ہری دوار سے ۱۳ کلومیٹر دور رائے والا قصبے کے قریب ریل کی پٹری پر لکشمن مردہ پایا گیا تھا اور اور اس کے پیر کچلے ہوئے تھے۔تہری فارم، جہاں لکشمن رہتا تھا، اور مغلی فارم، جہاں وہ لڑکی سے ملنے گیا تھا، دونوں رائے والاقصبے میں ہیں۔اطلاع کے مطابق گوسین نے بتایا کہ لڑکی کے والد نے اس دن لکشمن کو اپنی بیٹی سے ملنے سے روکا تھا۔دونوں میں لفظی جھڑپ ہوئی جس کے بعد رات گئے لکشمن کی لاش ٹرین کی پٹری پر پائی گئی۔رائے والا میں کشیدگی ہے اور وہاں ایک ہفتے سے دفعہ۔۱۴۴ نافذ ہے۔گوسین نے بتایا کہ ۶ اکتوبر کو سوشل میڈیا پر قتل سے متعلق دئے گئے پیغامات جھوٹے تھےجس کا مقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا تھا۔اس کے بعد رائے والا سے ۱۵ کلومیٹر دور کنکھال میں ایک ہجوم نے مسلمانوں کی کم از کم چار دوکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔اسی دن رائے والا سے ۱۳ کلومیٹر کے فاصلے پر رشی کیش میں مسلمانوں کی ایک عارضی دوکان اور لکڑی کی گاڑی کو نا معلوم افراد نے آگ لگائی تھی۔پولس افسر کے مطابق واقعہ کے بعد تحفظ کی خاطر لڑکی اور اس کے گھر والے رائے والا سے ۶۰ کلومیٹر دور ایک قصبے میں پہنچے تھے۔جوابی حملے کو روکنے کے لئے ۴ اکتوبر کو مرغی فارم میں دوسرے مسلمان بھی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔پولس وہاں پہرا دے رہی ہے تاکہ شرپسند عناصر ان کے مال و اسباب کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔گوسین نے کہا کہ سری کو ڈا کے بیشتر مسلم کنبے اب وہاں واپس آ گئے ہیں۔دہرا دون کے اے ایس پی منجو ناتھ ٹی سی نے کہا کہ واقعہ کے فوراً بعد کئی مسلم کنبے رائے والا سے چلے گئے تھے۔انہوں نے دیکھا کہ صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے جس کے بعد ان کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔لکشمن کی بیوی سنگیتا کو اپنے تین بچوں کی فکر ہے۔ان نے اپنے شوہر کے ناجائز تعلقات سے انکار کیا ہے۔سنگیتا نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ میرے شوہر کے قاتلوں کو عمر قید کی سزا ملے۔دریں اثناء اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پریتم سنگھ نے کہا ہے کہ اگر اس طرح کے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو وہ پوری ریست میں پھیل جائیں گے۔مجھے نہیں یاد آتا کہ اس صوبے میں پہلے کوئی ایسا واقعہ ہوا ہو جس کی وجہ سے مسلمان خوف سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگے ہوں۔دوسری طرف اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر اجئے بھٹ نے بتایا ہے کہ حکومت بغیر کسی تعصب اور جانبداری کے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

 

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *