حجاج کرام کی بعض مشکلات

حجاج کرام کی بعض مشکلات

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اللہ تعالیٰ نے اس سال حج کی سعادت سے بہرہ ور فرمایا ، خوشی کی بات ہے کہ اس سال حج مکمل امن و امان کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا ، نہ کوئی حادثہ پیش آیا نہ کوئی افرا تفری پیدا ہوئی اور نہ کوئی احتجاج یا مظاہرہ ہوا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سعودی حکومت حج و عمرہ کرنے والوں کو سہولت پہنچانے کی پوری کوشش کرتی اور فراخ دلی کے ساتھ حرمین شریفین کی خدمت کرتی ہے ، جوں جوں تعمیری منصوبے مکمل ہورہے ہیں،آسانیاں بڑھتی جارہی ہیں ، اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور عالم اسلام کو جوڑ کر رکھنے، مسلم ممالک کو اختلاف سے بچانے اور مقامات مقدسہ کو یہود و نصاریٰ کے شرور اور ان کے ناپاک منصوبوں سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور زیادہ سے زیادہ دینی حمیت اور ایمانی غیرت سے نوازے۔
ہندوستان کے لوگوں کے لئے یہ بات بے حد مسرت کا باعث ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد سب سے زیادہ حجاج ہندوستان سے حج کرتے ہیں ، اورکسی ایک خطہ کے اعتبارسے بحیثیت تعداد برصغیر کے حجاج سب سے زیادہ ہوتے ہیں ، برصغیر—ہند و پاک اور بنگلہ دیش— میں بسنے والے مسلمانوں کی غالب ترین تعداد فقہ حنفی کی متبع ہے ، اسی طرح افریقی ممالک سے آنے والے حجاج زیادہ تر مالکی ہیں ، مشرقی ایشیاء، انڈونیشیا اور ملیشیا وغیرہ کے حاجی فقہ شافعی پر عمل کرتے ہیں ، سعودی عرب کے مسلمان فقہ حنبلی کے متبع ہیں ؛ اسی لئے حرمین شریفین میں معمول رہا ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں فقہاء کی ایک سے زیادہ رائیں ہیں ؛ لیکن اس کی کسی خاص صورت پر سب لوگوں کا اتفاق ہے تو اسی صورت کو اختیار کیا جائے؛تاکہ تمام مسلمانوں کے لئے وہ عمل قابل قبول ہو، اور اِس طریقہ کار کی تائید فقہاء کے اس اُصول سے ہوتی ہے کہ اختلافی مسائل میں ایسا عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، جس میں اختلاف سے بچتے ہوئے عمل مکمل ہوجائے ، جیسے وضو کا ایک فرض ہاتھ کا دھونا ہے،اب بعض فقہاء کے نزدیک ہاتھ دھونے کے حکم میں کہنیاں بھی شامل ہیں اور بعض فقہاء کے نزدیک کہنیاں شامل نہیں ہیں تو اگر کہنیوں سمیت ہاتھ دھولیا جائے تو سبھوں کے نزدیک وضوء درست ہوجائے گا ، یا جیسے بعض فقہاء کے نزدیک وضو میں چند بالوں پر مسح کافی ہے ، بعضوں کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح ضروری ہے اور بعض حضرات کے نزدیک پورے سر کا ، اب اگر پورے سر کا مسح کرلیا جائے تو تینوں نقطۂ نظر کے مطابق سر کا مسح درست ہوجائے گا ؛ اس لئے پورے سر کا مسح کرنا چاہئے ، اس اُصول کو’’ خروج عن الخلاف‘‘ کہتے ہیں اور اس کے بہتر ہونے پرتمام فقہاء کا اتفاق ہے ، پس حرمین شریفین چونکہ پوری اُمت ِاسلامیہ کا مرکز ہے ، اس لئے اختلافی مسائل میں وہاںاسی طریقۂ کار پر عمل ہونا چاہئے ۔
اس لحاظ سے اس سفر میں بعض ایسے افعال دیکھے گئے،جو بیشتر حجاج کے لئے اضطراب اور بے اطمینانی کا باعث تھے ، ان میں سے تین اُمور کا تذکرہ ضروری محسوس ہوتا ہے :
(۱) رسول اللہ ا نے تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایاہے ، ان میں ایک وقت نصف نہارکا ہے، جب سورج بیچ آسمان پر ہوتا ہے ، زوال کے اصل معنی سورج ڈھلنے کے ہیں ، جب مکروہ وقت ختم ہوجاتا ہے ؛ لیکن برصغیر کے عرف میں اسی کو زوال کا وقت کہا جاتا ہے ، جب یہ وقت ِمکروہ ختم ہوجاتا ہے تو ظہر یا جمعہ کا وقت شروع ہوتا ہے ؛ اسی لئے احناف ، مالکیہ اور شوافع کے نزدیک جمعہ کی اذان اور نماز دونوں اس وقت ِمکروہ کے ختم ہونے کے بعد ہونی چاہئے ؛ ہاں حنابلہ کے نزدیک جمعہ کی اذان وقت سے پہلے ہی دی جاسکتی ہے ؛ البتہ نمازوقت ِ مکروہ ختم ہونے کے بعدہی اداکرنی ضروری ہے؛ لیکن اگر اذان بھی وقت مکروہ کے ختم ہونے کے بعد دی جائے تو حنابلہ کے یہاں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے؛ لہٰذا اگر وقت مکروہ کے گذرنے کے بعد جمعہ کی اذان دی جائے اوراس کے بعد خطبہ اور نماز ہوجائے تو تمام فقہاء کی رائے پر یہ عمل درست رہے گا ،یہی رسول اللہ ا کے زمانہ کا معمول بھی رہا ہے؛ خود دو ڈھائی سال پہلے تک حرمین شریفین میں بھی یہی معمول تھا کہ وقت ِمکروہ کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اذان دی جاتی اور تھوڑا سا وقت دے کر خطبہ دیا جاتا ؛ لیکن شیخ سدیس کے رئیس اُمور حرمین بننے کے بعد معمول بدل گیا ، اب جمعہ کا وقت شروع ہونے سے تقریباً نصف گھنٹہ پہلے ہی اذان دے دی جاتی ہے ،ایک تو اس سے حجاج کی بڑی تعداد غیر مطمئن ہے ، دوسرے :اس کی وجہ سے بہت سے لوگ عین مکروہ وقت میں نماز ادا کرتے ہیں ، جس کی ممانعت ہے ، تیسرے: جو لوگ مکروہ وقت سے پہلے جمعہ کی سنت ادا کرتے ہیں، ان کی سنت ادا نہیں ہوتی ؛ کیوںکہ ابھی جمعہ کا وقت داخل ہی نہیں ہوا ہے ؛ اس لئے جو معمول پہلے سے تھا اسی کو برقرار رکھا جانا چاہئے، اور جب تک یہ صورت نہ ہوجائے لوگوں کو چاہئے کہ وقت مکروہ میں نماز پڑھنے سے بچیں اور چوںکہ وقت شروع ہونے کے بعد سنت کا موقع نہیں دیا جاتا تو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد سنت پڑھیں ، اس کی گنجائش ہے، اوربہ حالت موجودہ اس تاخیر میں کوئی حرج نہیں ہے؛کیوں کہ عام مسلمان اس سلسلہ میں مجبور ہیں ۔
(۲) جماعت کی نماز میں یہ بات واجب ہے کہ امام آگے ہو اور مقتدی اس کے پیچھے ہوں ، رسول اللہ ا اور صحابہ کے عہد میں یہی معمول رہا ہے ، اگر مقتدی امام سے آگے بڑھ جائے تو مقتدی کی نماز نہیں ہوگی ، یہی رائے احناف ، شوافع اور حنابلہ کی ہے ؛ البتہ مالکیہ کے ایک قول کے مطابق اگر مقتدی آگے بڑھ گیا ، تب بھی کراہت کے ساتھ نماز ادا ہوجائے گی ؛ لیکن ان کے نزدیک بھی بہتر طریقہ یہی ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے ہوں ؛ چنانچہ حرمین شریفین کا یہی معمول تھا ، مدینہ منورہ میں ابھی بھی سمت قبلہ میں ترکی عمارت کے دونوں جانب بورڈ لگا ہوا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس سے آگے نہ بڑھیں ورنہ نماز نہیں ہوگی ، مسجد حرام مکہ مکرمہ میں بھی پہلے زمانۂ حج میں امام صاحب حجر اسود کے سامنے کھڑے ہوتے تھے اور وہاں سے نماز پڑھاتے تھے ؛ تاکہ مقتدی امام سے پیچھے ہوں؛ لیکن اس بار یہ بات دیکھنے میں آئی کہ باب ملک عبد العزیز کے پاس فرسٹ فلور پر ایک عارضی احاطہ بنا ہوا ہے ، امام صاحب اس میں کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے ہیں اور ہزاروں لوگ ان کے آگے کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے ہیں ، جمہور فقہاء کے نزدیک اس صورت میں آگے رہنے والے مقتدیوں کی نماز نہیں ہوگی ؛اس لئے برصغیر کے حجاج کو چاہئے کہ اس حصہ میں نماز ادا کرنے سے گریز کریں ، دوسری سمتوں میں نماز ادا کریں ؛ کیوںکہ مسجد حرام میں امام جس سمت میں کھڑا ہے، وہاں مقتدی کے آگے بڑھنے کی ممانعت ہے ، دوسری سمتوں میں اگر وہ آگے بڑھ جائے تو نماز ہوجاتی ہے ؛ البتہ اگر ناواقفیت کی بناپر امام سے آگے نماز ادا کرلی تو انشاء اللہ نماز ہوجائے گی ؛ کیوںکہ وہ اس سلسلہ میں معذور ہے اور ائمہ اربعہ کے درمیان اس سلسلہ میں اختلاف رائے پایاجاتاہے ۔
(۳) نماز جنازہ کی ترتیب یہ ہے کہ جنازہ امام کے آگے ہو اور نماز پڑھنے والے امام کے پیچھے ہوں ، رسول اللہ ا اور صحابہ کا یہی عمل رہا ہے اور یہی مسلمانوں کا متوارث طریقہ ہے ، مسجد نبوی میں اب بھی نماز جنازہ اسی طریقہ پر ادا کی جاتی ہے ؛ لیکن مسجد حرام مکہ مکرمہ میں اب جنازہ کی جگہ عام نمازوں میں امام کے لئے مقررہ جگہ سے بھی پیچھے رکھی گئی ہے،اور امام جنازہ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھا تا ہے ،اور نماز پڑھنے والوں کی بڑی تر تعداد اس طرح نماز ادا کرتی ہے کہ جنازہ بھی پیچھے اور امام بھی پیچھے ، یہ طریقہ بھی جمہور فقہاء اور رسول اللہ اکے منقول طریقہ کے خلاف ہے ؛ اس لئے جو لوگ امام کے آگے ہیں، ان کو نماز جنازہ میں شامل نہیں ہونا چاہئے ، ہاں ،جو لوگ امام کی سمت سے ہٹ کر کھڑے ہوں تو چاہے وہ امام کے مقابلہ کعبۃ اللہ سے زیادہ قریب ہوں، ان کی نماز ہوجائے گی ، اس سے پہلے نماز جنازہ کا معمول بھی یہی تھا کہ جنازہ کعبۃ اللہ کے قریب لایا جاتا اور امام صاحب وہیں سے نماز پڑھاتے ،حرمین شریفین سے چوںکہ پوری اُمت اسلامیہ کا تعلق ہے ؛ لہٰذا ایسے مسائل میں ایک دو افراد یا ادارہ کا اپنے طورپر فیصلہ کرلینا اور اس کو تمام مسلمانوں پر نافذ کردینا مناسب عمل نہیں ہے۔
اسی طرح بعض اور باتیں بھی قابل توجہ ہیں ، مثلاً مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہ دیکھاگیا کہ جمعہ کا خطبہ چالیس پچاس منٹ کا ہوا ؛ حالاںکہ کھلے صحن میں بیٹھے لوگ چلچلاتی دُھوپ کی وجہ سے پسینے میں شرابور ہورہے تھے اور نماز میں سورۂ کوثر اور سورۂ اخلاص پڑھی گئی تو حالات کے لحاظ سے نماز کو مختصر کرنا تو ایک مناسب عمل اور اُسوۂ نبوی کے مطابق ہے ؛ لیکن خطبہ کو اتنا طویل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ، دس منٹ میں مسنون خطبہ کی تکمیل ہوسکتی ہے ،اوراس بات پرحدیث میں بھی ناپسندیدگی کااظہارکیاگیاہے کہ خطبہ طویل ہواورنمازمختصر۔
اسی طرح آج کل رمضان المبارک میں نماز وتر میں اتنی طویل دُعا کی جاتی ہے جو تیس سے چالیس منٹ کا احاطہ کرتی ہے ؛ حالانکہ نماز میں بہت سے ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں ، حرمین شریفین کی نماز میں خواتین اور بچے بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو زیادہ دیر تک اپنا وضو قائم نہیں رکھ سکتے ، سوال یہ ہے کہ کیا نماز کے اندر اتنی طویل دُعاء شریعت کے مزاج کے مطابق ہے ؟آنحضور ا اور خلفائے راشدین سے نماز کے اندر اتنی لمبی دُعا کرنا منقول نہیں ہے ، آپ انے خصوصی موقع پرنماز کے اندر قنوت نازلہ زور سے پڑھی ہے، راقم الحروف نے مختلف حدیثوں میں اس دُعا کے جو فقرے منقول ہیں، ان کو اپنی کتاب ’’ قاموس الفقہ ‘‘ میں جمع کردیا ہے ، جس کو پڑھنے میں پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا تو کیا صر ف اس لئے ایسی طویل دعاء کو نماز میں رواج دینا درست ہوگا کہ لوگ اسے پسندکرتے ہیں؟ یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہے ، آپ ا تو لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے قرأت کو بھی مختصر کردیتے تھے اور یہاں دُعا ء اتنی طویل کی جاتی ہے کہ اس میں قرآن مجید کے دو پاروں کی تلاوت ہوجائے ۔
حرمین شریفین میں پوری دنیا سے مسلمان کھنچ کھنچ کر آتے ہیں اور اس موقع پر تیس سے چالیس دنوں قیام ہوتا ہے، یہ ان کی تربیت کا بہترین موقع ہے ، اصلاح و تربیت کے موضوعات ایسے ہیں،جن میںسلف صالحین کے درمیان کوئی اختلاف ِ رائے نہیں ہے، اور اس وقت اس کی طرف مسلمانوں کومتوجہ کرنے کی ضرورت ہے ، حرمین شریفین میںماشاء اللہ بہت سے اساتذہ مقرر ہیں ،جو تفسیر ، حدیث ، فقہ کی مختلف کتابوں کا درس دیتے ہیں ؛ لیکن افسوس کہ بعض حضرات بالخصوص اُردو اور بنگلہ میں درس دینے والوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ مسلمانوں میں تفریق ہی کی باتیں کریں گے اور ایسے مسائل چھیڑیں گے جس میں اختلاف رائے ہو ؛ تاکہ اختلاف رکھنے والوں کے خلاف بول کر اپنے نفس کی تسکین کرسکیں ، اس کا نتیجہ ہے کہ ایسے لوگوں کے دروس بے فیض ثابت ہوتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح تونہیں ہوتی؛ لیکن وہ اختلاف کی کڑوی باتیں لے کر ہندوستان اور پاکستان پہنچتے ہیں اور یہاں آکر وہی انتشار پھیلاتے ہیں ؛ حالاںکہ اگر ان دروس کو اعتقادی بگاڑ کو دور کرنے اور اخلاقی اصلاح کے لئے استعمال کیاجائے تو اس سے بڑا فائدہ ہوسکتا ہے ، بظاہر جو لوگ ایسی تفرقہ آمیز باتیں کرتے ہیں، وہ سعودی حکومت کو لا علم رکھ کر ایسا کرتے ہیں ؛ کیوںکہ سعودی حکومت بار بار مسلکی تشدد کی مخالفت کرتی رہتی ہے اور علماء کو اس سے بچنے کی تلقین کرتی ہے ۔
کاش ! اگر ان اُمور پر توجہ دی جائے تو سعودی حکومت حج کے سلسلے میں جو گرانقدر مخلصانہ خدمت انجام دے رہی ہے ، اس میں چار چاند لگ جائے ، وباﷲ التوفیق وھو المستعان۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *