اسلام کا معیار تکریم

اسلام کا معیار تکریم

شعیب عالم قاسمی
شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند
اس ربع مسکوں پر مختلف قوم،مختلف رنگ ونسل اور مختلف مذہب و مسلک کے ماننے والے لوگ بسے ہوئے ہیں۔اوریہ رنگ و نسل کا اختلاف شروع زمانے سے چلا آیا ہے،اس کے اثرات ہر زمانے میں نظرآتے ہیں،پھر زمانۂ قدیم ہی سے قوم و خاندان اور ذات پات کو عزت و ذلت کا معیاراور کسوٹی گردانا گیا ہے ،جس کے سبب بہت سی خرابیاں پیدا ہوئی اور بڑے بڑے تغیرات وقوع پذیر ہوئے،قوموں کی باہمی تفریق اور منافرت بھی اسی سبب سے ہے۔مذہب اسلام نے نہ صرف اس تفریق کی بنیاد کو ختم کیا بلکہ اس ذات پات ،قومی نسلی ورنگی عزت و ذلت کے معیار کی جڑ کاٹ دی۔چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقکم ان اللہ علیم خبیر(سورہ حجرات آیت ۳۱)
ترجمہ:اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، اللہ خوب جاننے والا پورا خبردار ہے(بیان القرآن) اس آیت کریمہ کے اندر اللہ جل و علی نے مساوات کا عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ: کسی کی عزت و شرافت کا معیار اس کی قوم اس کا قبیلہ اور اس کا وطن نہیں ہے بلکہ تقوی ہے۔ اور اللہ تعالی نے مختلف قبائل خاندان اور کنبے صرف اور صرف اس لیے بنائے ہیں کہ دنیا میں بسنے والے بے شمار انسانوں میں باہمی پہچان بن جائے۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا عبدالماجد دریابادیؒ رقم طراز ہیں: انسان کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم و حوا) سے پیدا کیا اس لحاظ سے سارے انسان یکساں و ہم سطح ہوئے، شعوبا و قبائل لتعارفوا کے ذیل میں فرماتے ہیںکہ: اس لیے مختلف قوموں اور خاندانوں میں تقسیم بنیاد تفاخر کی نہیںہوسکتی، البتہ بنیاد باہمی امتیاز و تعارف کی ہے۔نیز جعلنکم اور خلقنکم دونوں لفظوں سے اشارہ اس طرف ہے کہ یہ تو جو کچھ کیا ہے ہم نے کیا ہے ، تمہارے امتیاز وافتخار کا اس میں کونسا پہلو ہے؟
الحاصل اللہ رب العزت والجلال کے نزدیک شرف،فضیلت و مقبولیت تمامتر ذاتی پرہیزگاری پرمبنی ہے نا کہ قوم و نسل ا ور آبائواجدادپر فخرکرنے میں، کسی کے برہمن اور چھتری ہونے میں اس کی عزت ہے، نا کسی کے پارسی اور ہریجن ہونے میں ذلت۔ اللہ تعالی نے انسانی آبادی کی تقسیم صرف دو ہی وطبقوں میں رکھی ہے متقی اور غیر متقی۔ اس کے علاوہ اس کے یہاں نہ امیر وغریب کی تقسیم ہے نہ رنگ و نسل کی، نہ گورے کالے کی اور نہ خاندان وپیشے کی۔
معلوم یہ ہوا کہ اسلام کا معیارِ عزت وتکریم تقوی اور پرہیزگاری اور طاعت و فرماں برداری ہے،قوم وخاندان ،کنبے اور قبائل صرف باہمی تعارف اور امتیاز کے لیے ہے۔ حدیث شریف میں ہے من بطأ بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ (جس کا عمل اس کو پیچھے کردے اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھا سکتا) حضرت عبداللہ ابن عمر کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر(تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں) طواف فرمایا، طواف سے فارغ ہوکر آپنے خطبہ دیا ، جس میں فرمایا: الحمدللہ الذی اذھب عنکم عیبۃ الجاہلیۃ وتکبرھا، الناس رجلان: بر تقی کریم علی اللہ وفاجر شقی ھین علی اللہ ثم تلا یا ایھا الناس انا خلقنکم الآیۃ (البغوی،شرح السنۃ ۵۰۶/۶)تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور تکبر کو دور کردیا، آدمیوں کی دو ہی قسمیں ہیں، مومن تقی جو پرہیزگار ہو وہ اللہ کے نزدیک عزت دار اور کریم ہے، اور جو شخص فاجر شقی ہے وہ اللہ کی نظر میں ذلیل و خوار ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی (آیت) ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقکم‘‘۔
متعدد آیا ت وروایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ عزت و تکریم اور فضیلت و برتری کا معیار اللہ رب العزت کے نزدیک تقوی اور پرہیزگاری،اطاعت و فرماںبرداری اور اعمال صالحہ ہیں،مال و دولت،قوم و خاندن، برادری و ذات یہ عزت و ذلت کا معیار نہیںہے۔
چنانچہ علامہ اقبال نے خوب کہاہے:
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
سرخروئی و کامیابی شرافت و بزرگی،عزت وتکریم اسی کی ہے جو متقی ہو،اور جو تقوی میںاونچا ،اعلی اور اتقی ہے وہی اللہ کے نزدیک بڑا شریف اور مکرم ہے۔ لہذاہم کو چاہیے کہ ذات پات،رنگ ونسل اورخاندان کی بندشوں میںعزت و بڑائی کو نہ تلاش کریں،بلکہ قبائل وخاندان کی تفریق سے نکل کر تقوی وطہارت اوراطاعت الہی پر گامزن ہوں،عزت وبڑائی اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور وہ ہی اپنے متبعین کو عطاء کرتا ہے۔خداوند قدوس سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائیں۔آمین
(بصیرت فیچرس)