آج پھرنسخۂ کیمیا کی ضرورت

آج پھرنسخۂ کیمیا کی ضرورت

عارف عزیز،بھوپال
اسلامی تاریخ پر نظر رکھنے والے بہتر طور پر اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جس وقت مسلمان صفحہ ہستی پر نمودار ہوئے اور صحرائے حجاز سے نبی امی ﷺ نے اسلام کا پیغام دنیا کو دیا اس وقت مسلمان مادی نقطہ نظر سے کسی اہمیت کے حامل نہیں تھے، دنیا کی دوسری ترقی یافتہ اور مقتدر قوموں کا تو ذکر کیا خود عالم عرب اور اس کے ایک شہر مکہ میں مسلمان نہایت کسمپرسی کے عالم میں تھے اہل مکہ کو یقین تھا کہ ان کی دعوت چند ہزار نفوس کو بھی متاثر نہیں کرسکے گی اور جلد یہ آواز معدوم ہوجائے گی۔
مکہ کے رئیسوں، مدینہ کے یہودیوں اور طائف کے سرداروں کے وہ طنزیہ فقرے آج بھی تاریخ وسیر کی کتب میں محفوظ ہیں جو وہ فاقہ زدہ مسلمانوں کو دیکھ کر کسا کرتے تھے۔
’’کیا یہی وہ انسان ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے اپنے احسان وکرم فرمائی کے لئے منتخب کیا ہے‘‘
مگر جب اسلام کی یہ دعوت نہ صرف جزیرہ عرب میں کامیاب ہوگئی بلکہ اس کے سفیر دعوت حق لے کر دوسری حکمراں قوموں کے سامنے پہونچے تو انہیں بھی مسلمانوں کی اس جسارت پر اس سے زیادہ حیرت ہوئی جتنی کہ اس سے پہلے عربوں کو ہوئی تھی اس وقت شاہ ایران کی زبان سے ادا ہونے والا یہ فقرہ آج بھی اس غیض وغضب اور غم وافسوس کی نمائندگی کے لئے کافی ہے جو کسریٰ کے دل میں مسلمانوں کے لئے پیدا ہوا تھا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ
’’ زمانہ کی یہ کیسی نیرنگی ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عرب آج تخت وتاج کے دعوے دار بن گئے ہیں۔
تفوبر تواے چرخ گرداں تو
لیکن جن کتابوں سے یہ فقرے منقول ہیں انہیں کے اگلے صفحات پر یہ بھی موجود ہے کہ بے سروسامان اور مفلس مسلمان کچھ ہی عرصہ بعد دنیا کے بیشتر خطوں پر قابض وحکمراں ہوگئے اور بحرالکاہل سے لے کر بحر ظلمات کے ساحل تک انہی کا پرچم لہرانے لگا۔ اس تمام معرکہ آرائی اور مہم جوئی کا جائزہ لینے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمان تعداد وسائل اور حربی صلاحیت کے اعتبار سے اپنے حریفوں سے بدرجہا کم تھے لیکن باوجود ہر طرح کی بے سروسامانی کے اور دشمنوں کی کثرت کے وہ مغلوب نہیںہوسکے ان کے عزم وہمت کے آگے نہ دریا حائل ہوئے نہ پہاڑ روک بن سکے۔
اسلام کی اس پیش رفت اور مسلمانوں کی کامیابی کا اس کے سوا اور کوئی سبب نہ تھا کہ
ان کے اندر اللہ پر یقین ایک زندہ حقیق بن چکا تھا ، آخرت کا تصور ان کے لئے سامنے کی بات تھی، وہ ساز وسامان کی فراہمی سے زیادہ اپنے دل کا جائزہ لینے پر یقین رکھتے تھے ان کا ہر عمل خالص اللہ کے لئے ہوتا تھا۔ ان کی جدوجہد ذاتی منفعت کے لئے نہیں تھیں صرف اللہ کی رضا کے لئے مخصوص تھی۔
لہذا کثرت پر قلت اور تعداد پر صفات غالب آتی گئیں مگر جیسے جیسے یہ خصوصیات محدود اور خیال کمزور پڑتا گیا یا راہِ الٰہی کے بجائے اپنی راہ کی جدوجہد مسلمانوں کا مقصود بنتی گئی دنیا کی محبت ان کے دل میں جاگزیں ہوتی گئی، جوں جوں یہ امت روبہ زوال ہوتی گئی اور گرتے گرتے اس حد تک پہونچ گئی کہ مولانا حالی کہہ اٹھے ع
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اس پس منظر میں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ۱۴ سو سال پرانے اس نسخہ کیمیا کو پھر آزمائیں اور تعداد کے بجائے صفات کو پیش نظر رکھ کر سرگرم عمل ہوں تو اپنا کھویا ہوا مقام ومنصب آج پھر پاسکتے ہیں۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *