آزادی ، مساوات اور ہندوستان کے موجودہ حالات

آزادی ، مساوات اور ہندوستان کے موجودہ حالات

وسیم فاروق اعظمی
fwazmi9335@gmail.com
مساوات اور برابری کے تصور کو لیے بغیر جمہوریت اور بنیادی کی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی ، آئین کے بنیادی حصوں میں ایک اہم حصہ مساوات ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے تمام شہری حکومت کی نظر میں برابر ہیں ، ان میں کسی طر ح کی کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی ،ہرشخص کو آزادی کے ساتھ زندگی گزار نے کا پورا پورا حق حاصل ہے ،اس لیے آزادی اور مساوات قریب قریب ملتے جلتے بنیادی قانون دو رکن ہیں ۔
ہندوستان اپنی گونا گوں خصوصیات اور رنگ برنگ تنوعات کی وجہ سے دنیا میں ایک امتیازی مقام رکھتاہے ۔یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے رہتے چلے آئے ہیں ۔ ہندوستان جس قدر اپنے رقبے کے اعبتار سے وسیع ہے اسی طرح اپنی تہذیب ،ثقافت اور تمدن کے لحاظ سے بھی وسیع ہے ۔ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان کا رقبہ بتیس لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط و مشتمل ہے ،آبادی بھی ایک سو پچیس کروڑ کے آس پاس ہے ، ا س قدر وسیع و عریض اور کثیر آبادی والے ملک میں ،ہر سو کلومیٹر پر زبان بدل جاتی ہے، رہنے سہنے کے طریقے جدا ہوتے ہیں لیکن ہندوستان کا آئین سب کا لحاظ کرتے ہوئے سب کو آزادی سب کو مساوات عطا کرتا ہے ۔ آزادی کے بعد بڑے بڑے دانشوروں نے مل کر لوگوں کے لیے وہ بنیادی دستور بنائے جس میں آزدی اور مساوات کے تعلق سے خاص باتیں درج ہیں تاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی ، ظلم اور زیادتی نہ ہو،اس کو آئین میں نمایاں حیثیت حاصل ہے ۔ اب مساوات اور آزادی کی معنوی اور قانونی حیثیت کو ذرا سمجھاجائے:
مساوات کا مطلب ہے کہ ہر انسان کو ترقی کرنے اور اپنی فطری قوتوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے پورے پورے مواقع حاصل ہوں۔مساوات کو چھ قسمو ں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔اول قدرتی مساوات ،اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری بہ حیثیت انسان برابر ہے ، اس لحاظ سے چھوٹے بڑے امیر غریب سبھی برابر ہیں، اس میں کسی طرح کی کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ مغالطہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہر شخص ہر اعتبار سے یکساں ہے ، ظاہر ہے یہ تو صحیح ہو نہیں سکتا ، مثلا ایک تعلیم یافتہ ہے دوسر ا علم سے عاری ہے ، ان دونو ںکو ایک جیسا کہنا حماقت سے خالی بات نہیںہوگی ۔بسا اوقات اس معاملہ میں بڑی واضح غلطی کی جاتی ہے ، اس لیے ا س کوخوب اچھی طرح سمجھنا چاہیے ۔آج کل بحث و مباحثہ میں یہ بات کچھ متعصب ذہنیت کے لوگوں کے منہ نکل سے جاتی ہے کہ اسلام میں مرد و عورت میں آزادی اور مساوات کو لے کر تفریق کی گئی ہے حالاںکہ ہر اعتبار سے ایک مرد دوسرے مرد کے برابر نہیں ہے ، پھرعورتوْں اور مردوں کو ہرحیثیت سے کیسے بالکل ایک جیسا کہا جاسکتا ہے ،اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ارباب فکر و نظر کو تحریری و تقریری اقدامات کرنا چاہیے ، آج کے دور میں اس کی شدید ضرورت ہے۔ دوسری قسم سیاسی مساوا ت،اس کا صریح مطلب ہے کہ ہر شہری کو ملک کے انتظام میں بلا کسی امتیاز کے حصہ لینے کا حق حاصل ہے، وہ اپنی آزادی کے ساتھ جسے چاہے ووٹ کرے اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے کابھی مستحق ہے۔کسی بھی ملازمت کے لیے اہلیت کی جو شرطیں رکھی گئی ہیں وہ پائی جانے پر بلا کسی بھید بھاؤ کے اس کو نوکری دی جانی چاہیے ۔کوئی بھی جرم کرے تو جو سزا آئین ہند نے متعین کی ہے اس کی رو سے سزا دی جائے گی ،اور یہ کام عدالت کے ذمہ ہو تا ہے ، یہ ہندوستان کی عدالت ہی ہے جس نے قانون کی رو سے گرمیت رام کو زنا کاری کی سزا دیدی ، لاکھ بچانے والے دہائی دیتے رہے لیکن قانون نے اپنا کام کرکے دکھا دیا۔ تیسری بات شہری مساوات ہے اس میں ہر شہری کو بلا کسی امتیاز وتفریق کے شہری حقوق حاصل ہیں ،جان ، مال ، عزت اور آبرو کی حفاظت وصیانت کی گارنٹی دی جائے اور اسے انصاف ملے اور قانون کی نگاہ میں سارے شہری برابر ہیں ۔ چوتھی بات سماجی مساوات ، س سے مراد یہ ہے کہ ذات پات ،رنگ و نسل اور مذہب یا گروہ کی بنا پر کسی شہری سے کسی قسم کاترجیحی سلوک روا نہ رکھا جائے ، چھوت چھات کو تو کوئی جگہ ہے ہی نہیں جمہوریت جیسے ملک میں ۔پانچوی چیز تمدنی مساوات ،تہذیب و تمدن اختیارکرنے کا ہر ملت کو حق حاصل ہے ۔اس کا پورا لحاظ کیاجائے۔چھٹی بات معاشی مساوات اس کا بھی بڑا اہم مقام ہے ، اس میں یہ بات درج ہے کہ دولت کی جائز اور منصفانہ تقسیم کی جائے یہ نہ ہو کہ ساری دولت سمٹ کر چند لوگوںکو مل جائے اور یہ لوگ عیش و عشرت کی زندگی گزاریں اور باقی لوگ پریشانی میں مبتلا رہیں ۔
مساوات کے ان اقسام کو نگاہوں کے سامنے رکھ کر ہندوستان کا موجودہ منظر نامہ ملاحظہ کیا جائے کہ آج پسماندہ طبقات کو کس طرح ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، پچھلے تین سالوں میں اتر پردیش اور گجرات وغیرہ میں مساوات کے خلاف درجنوں حادثات درج کیے گئے ہیں یہ کس قدرتشویشناک بات ہے۔ گزشتہ سال ؛اونا ؛حادثہ کے بعدراج کوٹ میں ووزیر اعظم صاحب کو بولنا پڑا کہ دلتوں کو مت مارو ،مجھے گولی ماردو ، گجرات میں دلت برادری کافی خفا ہیں گجرات ہی نہیں ملک کے زیادہ تر حصوں میں پسماندہ طبقات کے لوگ غمزدہ ہیں ، شاید ان میں اعتماد بحال کرنے کے لیے صدر جمہوریہ کا انتخاب دلت برادری سے ہی کیا گیا تاکہ بھارتی جنتا پارٹی کی حمایت سے وہ پیچھے نہ ہٹیں لیکن وہ حمایت کریں گے یا نہیں کریں گے یہ آنے والا گجرات کا الیکشن طے کرے گا اور پورے ہندوستان میں ۲۰۱۹ کے انتخابات فیصلہ کریں گے ۔
مسلسل ہونے والے نا خوش گوار واقعات اور غیر انسان حادثات پر عدالت عظمی نے گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا یہاں تک کہ گاؤ رکشا وغیرہ شدت پسند تنظیم کے حوالہ سے کئی تجاویز حکومت ہند کے سامنے پیش کی تھی۔ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۵ سے ۲۰۱۵ تک ۹۹۲۶ حادثات جو عدم مساوات کو ظاہر کرتے ہیں پیش آئے ہیں ، اس تعداد کے اعتبار سے ۴۷۳ حادثہ ا یک سال کا بنتا ہے ، یہ کس قدر دہلانے دینے والی حقیقت ہے، کیا صوبائی حکومت سمیت مرکزی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے ، کیا اب بھی اس سلسلہ میں پیش رفت کرنے کی ضرورت نہیںہے ۔
ہندوسستان کے آئین کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کا آئین کے دفعہ ۱۴ سے ۱۸ تک آزادی اور مساوات جیسی چیزیں مذکور ہیں ۔ دفعہ ۲۵ مذہبی آزادی،۲۹ کلچرل آزادی او ردفعہ ۳۰ میں مذہب کے متعلق ادارے وغیرہ قائم کرنے کے تعلق سے اہم چیزیں درج ہیں اور آج انہیں باتوںکو لے کر نفرت پھیلا ئی جارہی ہیں ۔حکومت ہند کی ذمہ دار ہے کہ تمام شہریوںکو مساوات عطا کرے اور ان کی جان ، مال اور آبر و کے حفاظت کے اہم اقدامات کرے اور قانون کو اتنا سخت کرے کہ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ ہو ، وہ تمام لوگ جو کسی مخصوص پارٹی کا لبادہ اوڑھ کر خود ہی پولس اور افسر بنتے پھرتے ہیں ان کے خلاف سخت قدم اٹھایا جائے ، اس لیے کہ آج ما حول کو امن و آشتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، سیاست تو نفرت کی دیوار کھڑی کرکے تفرقہ ڈالنے مین لگی ہے ، اس پر روک لگائی جائے ۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *