ندائے ملت اور مسلم یونیورسٹی نمبر کو

ندائے ملت اور مسلم یونیورسٹی نمبر کو

سرسید ایکسیلینسی ایوارڈ
حفیظ نعمانی
ندائے ملت کا مسلم یونیورسٹی نمبر جسے یکم اگست 1965 ء کو نکلنا تھا مرکزی حکومت کے حکم اور اترپردیش حکومت کی تعمیل حکم کی بدولت وہ نکلتے ہی بحق سرکار ضبط کرلیا گیا تھا اور ہم جیسے نکالنے والوں اور آپ جیسے انتظار کرنے والوں کے لئے ایک بھولی بسری کہانی بن گیا تھا۔ اس کے بارے میں میری کتاب رودادِ قفس کے ہندی ایڈیشن کی رونمائی کی تقریب میں برسوں ممتاز وزیر رہنے والے ڈاکٹر سید عمار رضوی نے فرمایا کہ جس کتاب یا اخبار کو حکومت ضبط کرتی اور پابندی لگاتی ہے اس کی مدت 30 برس ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ پھر بازار میں آئے تو اس وقت کی حکومت فیصلہ کرے گی کہ اس پر پابندی لگائے یا نہ لگائے۔
مسلم یونیورسٹی نمبر جن لوگوں نے نکالا تھا ان کا خود ایک مقام تھا اور جن حضرات کے مضامین اس میں چھپے تھے وہ پابندی لگانے والوں سے کہیں زیادہ محب وطن، تعلیم یافتہ اور قانون سے واقف تھے اور پابندی پر عمل کرنے والوں نے خود تسلیم کیا تھا کہ
’’انہیں معلوم ہوا ہے کہ ندائے ملت اخبار کا مسلم یونیورسٹی نمبر نکل رہا ہے جو تنویر پریس میں چھپا ہے اس کے پرنٹر شری حفیظ نعمانی جسے حفیظ الرحمن نعمانی بھی کہتے ہیں کے قبضہ میں ہے۔ اس اسپیشل نمبر کی کچھ کاپیاں سرکولیشن کے لئے آر ایم ایس میں بھی دی جا چکی ہیں تاکہ وہاں سے مختلف مقامات پر چلی جائیں اس اخبار کے ایڈیٹر شری محمد آصف قدوائی ہیں ان کے یہاں سے بھی اخبار کی کاپیاں اور اس کے متعلق کاغذات و مضامین وغیرہ ملنے کی اُمید ہے لہٰذا چاروں مقامات پر ایک ساتھ ریڈ ہونی چاہئے۔ میں نے پی اے سی کافی فورس میں منگوالی ہے اور تھانہ قیصر باغ سے بھی رابطہ قائم کرلیا ہے۔ آپ لوگ قیصر باغ تھانہ آیئے باقی پروگرام وہاں بتایا جائے گا۔‘‘
پولیس کے جس افسر کی نگرانی میں مسلم یونیورسٹی نمبر کے لئے چھاپہ مارا گیا یہ اس کا بیان ہے جس کی کاپی ہمیں چار مہینے کے بعد چارج شیٹ کے ساتھ ملی تھی۔ چارج شیٹ بھی ایک لطیفہ تھی جس میں ان مضامین اور نظموں کے بارے میں بتایا گیا تھا جن پر اعتراض تھا۔ ’’نظم کارگاہ علم و یقین۔ اداریہ۔ ادارہ کا ہی ایک مضمون ’’بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی‘‘ مسٹر شیو پرشاد سنہاؔ کا مضمون۔ یونسؔ قنوجی کی نظم۔ اخترؔ بستوی کی نظم تخلصؔ بھوپالی کا مزاحیہ قابل ذکر ہیں جن کے ذریعہ شری ایم سی چھاگلہ، بھارت سرکار کی تذلیل و تحقیر اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے اور بھارتیوں میں پھوٹ ڈالنے ان میں عدم اطمینان کی فضا پیدا کرنے نیز مسلح افواج میں بے اطمینانی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘
ڈاکٹر سید عمار رضوی صاحب کی تقریر کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ خاص نمبر کی کاپی تلاش کی جائے۔ میرے بائیں ہاتھ میں شدید درد تھا یہ بعد میں معلوم ہوا کہ پیس میکر کی بیٹری ختم ہوگئی ہے۔ اور پھر کافی وقت تیسرے پیس میکر لگنے اور سنبھلنے میں لگا۔ اس درمیان یہ کوشش جاری رہی کہ کہیں سے مسلم یونیورسٹی نمبر کی کاپی مل جائے۔ خدا خدا کرکے وہ ملی اور وہ پھر بالکل اسی شکل و صورت میں حاضر ہے ادنیٰ سی تبدیلی بھی کرنے پر طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔
یہ بھی اتفاق ہے کہ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، بانیٔ مسلم یونیورسٹی سرسید علیہ الرحمۃ کا 200 سالہ جشن یوم پیدائش 17 اکتوبر کو منا رہی ہے اور ندائے ملت کا مسلم یونیورسٹی نمبر لکھنؤ میں ہی منعقد ہونے و الے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز کنونشن 7 ؍ 8؍ اگست 1965 ء کو اپنا تعاون دینے کے لئے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اور حکومت نے اسے صرف اسی لئے نکلنے سے پہلے ہی ضبط کرلیا تھا کہ کنونشن میں اس نمبر کی وجہ سے جو ہزاروں لوگ آتے انہیں روکا جاسکے۔ لیکن ملک کی بدنصیبی یہ بھی ہے کہ اسے ایسے ایسے حکمراں ملے جو عقل سلیم سے بالکل ہی محروم تھے۔ اور اس کا نتیجہ تھا کہ مسلم یونیورسٹی نمبر کے ضبط ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور یہ اسی آگ کا اثر تھا کہ لکھنؤ نے قیصر باغ بارہ دری میں کبھی ایسا جلسہ یا کنونشن نہیں دیکھا کہ اس کی تینوں طرف کی سڑکوں پر مسلم یونیورسٹی کے شیدائی ہی نظر آتے تھے اور جو کام ندائے ملت نمبر نکلنے کے بعد کرتا وہ اس نے ضبط ہونے کے بعد کردیا اور اس سے کہیں زیادہ کردیا۔
1965 ء میں ملک اور بیرون ملک کوئی اردو اخبار ایسا نہیں تھا جس نے مسلم یونیورسٹی پر ہونے والے حملوں کو موضوع نہ بنایا ہو لیکن ندائے ملت نے اس مسئلہ کو اس طرح اپنایا جیسے وہ مسلم یونیورسٹی کا ترجمان ہے۔ اور یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ قاضی عدیل عباسی، ڈاکٹر آصف قدوائی، مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، حسن واصف عثمانی اور ملک کے اہم لکھنے والوں نے حکومت کے خلاف مورچہ قائم کرلیا۔ اور جب مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز نے کنونشن کرکے اجتماعی فیصلہ کرنے کا اعلان کیا تو ہم لوگوں نے ایک خصوصی نمبر نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔
حکومت کی نظر میں تمام اخبار تھے لیکن سب سے زیادہ اسے ندائے ملت سے شکایت تھی اسی لئے اس نے یہ فیصلہ کرلیا کہ نمبر کو پریس سے باہر نہیں آنے دینا ہے۔ رہا قانون اور انصاف، یہ سب حکومت اور وزیروں کی نازک مزاجی کے آگے کچھ نہیں ہیں۔ اور یہ نازک مزاجی کی خاطر ہی کیا گیا کہ گیارہ ہزار مکمل اور نامکمل کاپیاں ضبط کرلی گئیں اور معاون ایڈیٹر پرنٹر پبلشر حفیظ نعمانی اور دفتر کے کارکن بابو حلیم اور حکیم وارثی کو ڈی آئی آر کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 17 اگست 2017 ء کی شام کو ’’سرسید ایکسیلینسی ایوارڈ‘‘ ندائے ملت اور اس کے مسلم یونیورسٹی نمبر کو دیا جائے اور 52 سال پرانے نمبر کی رونمائی اندرا گاندھی پرتشٹھان گومتی نگر لکھنؤ میں ملک کے عمائدین اور دانشوروں کے دست ِ مبارک سے کرائی جائے۔
ندائے ملت کا مسلم یونیورسٹی نمبر صرف 72 صفحے کا اخبار نہیں ہے بلکہ مسلم یونیورسٹی نمبر سرسید علیہ الرحمۃ اور یونیورسٹی کی تاریخ ہے۔ جن حضرات کے مضامین نمبر کی زینت ہیں ان سب نے خون جگر میں لوہے کے قلم ڈبوکر لکھے ہیں جو ایک قیمتی دستاویز ہے اور مسلم یونیورسٹی میں تعلیم پانے والے اور اس سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک تحفہ ہے۔ ہم نے اسے من و عن دوبارہ چھاپ کر اپنا کام کردیا۔ اب یہ ملت کا فرض ہے کہ اسے اتنا چھپوائے اور اتنا پھیلائے کہ 52 سال کے زخم بھر جائیں۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *