اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ

اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ

مفتی محمد عبد اللہ قاسمی
اختلا ف رائے فطری اورطبعی چیز ہے ، ترقی یافتہ اورزندہ دل قوموں کی پہچان ہے، اس سے باہم مسابقت کاجذبہ پیداہوتاہے،کوتاہیوں اورغلطیوں سے سبق لینے کاموقع فراہم ہوتاہے، یہ انسان کو خوب سے خوب تر کی جستجو میں رواں دواں رکھتاہے، عروج وترقی کی شاہ راہ پر انسان کو محو سفر رکھتاہے،اختلاف فکر نہ اتحاد عمل میں مانع ہے اورنہ ہی باہمی توقیر واحترام میں ، اگر ہم نے اس بات کونہیں سمجھا تویہ ہمارے لئے بڑے خسارے اورنقصان کی بات ہوگی جس کی پابجائی شاید ممکن نہ ہو ، اورتاریخ اس جرم کو معاف نہ کرے۔
اختلاف رائے کاخاتمہ ناممکن ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف رائے کا خاتمہ ایک خیالی مفروضہ ہے ، اور اس کے پیچھے کی جانے والی کوششیں فضول اور بے فائدہ ہیں ،تاہم اختلاف رائے اورتعدد آراء کے باوجو د معاشرہ میںخوشگوار اوردوستانہ فضا قائم کی جاسکتی ہے ، اور وسعت ظرفی اور آپسی محبت ورواداری کا مظاہرہ کرکے اختلاف میں اعتدال اورتوازن پیداکیا جاسکتاہے ، اختلا ف رائے کے وقت ہمارا فریق مخالف کے ساتھ کیا طرز عمل ہوناچاہیے ؟مخالفین کے ساتھ کیسا سلوک اوربرتاو ہوناچاہیے ؟اس کے لئے ہمیں سیرت طیبہ سے سبق لینے اورآپ ﷺ کی عملی زندگی کو مشعل راہ بنانے کی ضر ورت ہے:
واقعۂ معراج کاپیغام
معراج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی سے سدرۃ المنتہی پر تشریف لے جاتے ہیں،تمام آسمانوں پر مختلف انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سلام کرتے ہیں ، انبیاء کرام علیہم السلام آپ کے سلام کا جواب دیتے ہیں، اور آپ کی آمد پر خوشی ومسرت کا اظہار فرماتے ہیں ، جب کہ آفتاب اسلام طلوع ہونے سے پہلے دیگرانبیاء کے لائے ہوئے تمام مذاہب میں بنیادی عقائد(توحید ورسالت وعقیدہ آخرت) اگرچہ مشترک تھے ،لیکن ہر مذہب کے احکام وجزئیات جداگانہ اورباہم متفاوت تھے؛ لیکن یہ چیز باہمی ادب واحترام اور آپسی محبت ورواداری میں مانع نہیں ہوئی ۔
انبیاء کرام کاآپﷺکی اقتداء میں نمازاداکرنا
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے مسجد اقصی تشریف لے جاتے ہیں ، اوروہاں آپ علیہ السلام کو انبیاء کرام کی امامت کاشرف حاصل ہوتاہے ، تمام انبیاء کرام بلاکسی توقف وتامل کے آپ ﷺکے پیچھے نماز اداکرتے ہیں ،فروعی مسائل میں شدید اختلاف کے باوجو د انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرنے میں ذرہ برابر تردد نہیں ہوا۔اس سے واضح ہوتاہے کہ امت مسلمہ کے مابین چند فروعی مسائل اورنظریاتی اختلافات کی بنیادپر آپسی کشمکش، باہمی بغض وعناداورہر فریق کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدبنانا انبیا ء کرام کی تعلیمات کے خلاف ہے،اورروح اسلام کے بالکل مغائر ہے ۔
صحابہ ٔ کرام اوراختلاف رائے
آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی کیمیااثر صحبت نے صحابہ کرام کو کندن بنادیاتھا،آفتاب نبوت کی کرنوں سے منورہوکر ان میں سے ہر ایک فرد اپنے اپنے عہدکا گل سرسبداورمینارہ نور تھا، اورنوع انسانی کے لئے باعث شرف وافتخار تھا،زبان نبوت نے انہیں رضی اللہ عنہم ورضواعنہ کا مزدہ جانفزاسنایا تھا،امت مسلمہ کا یہ اجماعی عقید ہ ہے کہ صحابہ کرام میں سے ہر ایک امت مسلمہ کا مقتدی اورپیشوا ہے ، ان کی پیروی دنیوی واخروی سعادتوں کی ضامن ہے ،صحابہ کرام کے مابین بھی سینکڑوں مسائل میں اختلاف تھا؛لیکن اس سے ان کے آپسی تعلقات اورباہمی ادب واحترام میں کوئی فرق نہیں آیا ،تمام صحابہ کرام آپس میں مل جل کر شیر وشکر کی طرح رہتے تھے ،ایک دوسرے کے خیرخواہ بھلائی اورنیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون کرنے والے تھے ،ذیل میں صحابہ کرام کے چند واقعات ذکرکیے جاتے ہیں :
ابن عباس اورزیدبن ثابت کاباہمی طرزعمل
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت زید بن ثابت ؓ کے مابین سینکڑوں مسائل میں اختلاف تھا؛لیکن اس کے باوجو د یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کے ساتھ ادب واحترام سے پیش آتے تھے،چنانچہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓنے نماز جنازہ پڑھائی ، اورخچر پرسوار ہوگئے ،حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے احتراماان کے رکاب کو تھام لیا ،اورحضرت زید ؓ کے منع کرنے پر فرمایا کہ علماء کا احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،حضرت زید بن ثابت ؓ نے بھی ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا ، اورفرمایا کہ اہل بیت کے ساتھ عظمت ومحبت سے پیش آنے کا حکم ہے ۔(کنزالعمال ،حدیث نمبر: ۳۷۰۶۱)
جب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایا : ہکذاذہاب العلم ، لقد دفن الیوم علم کثیر ۔دنیاسے علم اسی طرح رخصت ہوتاہے ، حضرت زید بن ثابت ؓ کی وفات کی وجہ سے ہم علم کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہوگئے ۔(السنن الکبری للبیہقی،حدیث نمبر:۱۲۱۹۷)
عمرفاروقؓاورابن مسعودکاطرزعمل ہمارے لئے نمونہ
حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓکے مابین سو سے زائد مسائل میں اختلاف ہونے کے باوجو د جب ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓحضرت عمر ؓکی مجلس میں تشریف لے جاتے ہیں تو حضرت عمر ؓخوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہیں ،اورابن مسعود ؓ کی فراخدلی کے ساتھ تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :کنیف ملئ علما یہ تو علم سے لبریزہیں ۔(اعلام الموقعین :۱/۱۴)
علی ؓومعاویہ ؓکااسوہ ہمارے لئے مشعل راہ
حضرت علی ؓاورحضرت معاویہ ؓکے مابین قصاص عثمانؓ کے بارے میں شدید اختلاف ہوا، اورنوبت یہا ں تک پہونچی کہ دونوںفریقوں کے مابین خون آشام لڑائیاں بھی ہوئیں،اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیصر روم نے حضرت معاویہ ؓ کو ایک خط لکھا،جس میں اس نے لکھا کہ تمہارے ساتھی حضرت علی ؓ نے تمہیں بہت ستایا ہے ،میں تمہارے لئے یہاں سے فوج روانہ کررہاہوں ،تاکہ تم ان کو لے کر حضرت علی ؓپر چڑھائی کرو ، حضرت معاویہ ؓ نے اس کے جواب میں جو خط تحریر فرمایاہے اس کے ایک ایک جملہ میں ہمارے لئے نصیحت وموعظت کاسامان ہے ،اس کے سطر سطر سے صدق ویقین اوراخلاص وللہیت چھلکتاہے ، ذیل میں خط کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتاہے :
اے نصرانی کتے !میرے اورعلی رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلاف ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہتاہے، یادرکھ کہ اگر تونے حضرت علی ؓکی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھا تو سب سے پہلے علی ؓکے لشکرکاسپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑنے والامعاویہ ہوگا۔(البدایہ والنہایۃ :۷/۲۵۹)
تابعین کرام اوراختلاف رائے
ہمارے لئے جس طرح صحابہ کرام ؓ نمونہ ہیں ،اور ان کی پیروی باعث نجات ہے ،اسی طرح سلف صالحین کی زندگی بھی ہمارے لئے نمونہ ہے ،اوران کی سیرت بھی ہمارے لئے قابل تقلید ہے،ذیل میںان کی سیرت کے چندتابندہ نقوش ثبت کیے جاتے ہیں،جس سے معلوم ہوگاکہ سلف صالحین باہمی ا ختلاف کے باوجود اپنے مخالفین کے لئے کتنے سیرچشم اور فراخدل تھے ، ان کے قلوب حسد اورنفرت وکدورت سے کتنے پاک تھے۔
امام شافعی کاامام ابوحنیفہ کی تعریف کرنا
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے درمیان فروعی مسائل میں دیگر ائمہ کے مقابلہ میں بکثرت اختلاف پایا جاتاہے ؛ لیکن اس اختلاف کے باوجود امام شافعی ؒنے امام صاحب ؒکی عظمت وبلندی کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے ، اور فن فقہ میں ان کی مہارت اوروسعت علمی کو تسلیم کیا ہے ،چنانچہ انہوں نے فرمایا :الناس فی الفقہ عیا ل علی أبی حنیفۃ۔ لوگ فقہ میں امام صاحب ؒکے محتاج ہیں ۔(ادب الخلاف :۳۰)
امام احمداوراستادکاادب
اما م شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے بارے میں آتاہے کہ جب امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو احتراما ان کا نام نہیں لیتے تھے ؛ بلکہ فرماتے :حدثنا الثقۃ من اصحابنا ہمارے ثقہ شاگرد نے یہ روایت ہم سے بیان کی ہے ۔(ادب الخلاف :۳۲)
امام احمداوراختلاف رائے
اما م احمد رحمۃاللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ پچھنہ لگانے سے یانکسیر پھوٹنے سے وضوٹوٹ جاتا ہے ، چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ اگر امام نے پچھنہ لگانے کے بعد بغیر وضو کیے نماز پڑھائے توآپ اس کے پیچھے نماز ادا کریں گے ؟امام احمد ؒ نے فرمایا :سبحان اللہ، کیا میں امام مالک ؒاورسعید بن المسیب ؒ کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا ؟(ان دونوں حضرات کا مسلک یہ ہے کہ پچھنہ لگانے سے وضونہیں ٹوٹتا)(ادب الاختلاف فی مسائل العلم والدین :۸۶)
ابویوسف ؒکاہارون رشیدکے پیچھے نمازاداکرنا
خلیفہ ہارون رشید نے پچھنہ لگوانے کے بعد امام مالک ؒکے مسلک کے مطابق وضو کئے بغیر اسی حالت میں نماز پڑھائی ، حضرت امام ابویوسف ؒ نے بھی خلیفہ کے پیچھے نما ز اداکی ، لوگوں نے کہا کہ آپ نے خلیفہ کے پیچھے نماز اداکی جب کہ انہوں نے پچھنہ لگوانے کے بعد وضو کیے بغیر نماز پڑھائی ہے،اورآپ کا مسلک یہ ہے کہ پچھنہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتاہے ، تو آپ نے فرمایا کہ :امام المسلمین کے پیچھے نماز ادانہ کرنا شیعہ وروافض کا شعار ہے۔ (ادب الاختلاف فی مسائل العلم والدین :۸۶)
احمدبن حنبل کاامام شافعی کے لئے دعاء کرنا
حضرت اما م احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی ؒکے لئے بکثرت دعاء کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ان کے صاحبزادے نے پوچھاکہ امام شافعی ؒکون ہیں ؟ ہم آپ کو ان کے لئے کثرت سے دعاء کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ،امام احمد ؒنے جواب دیا:اے میرے لڑکے ! وہ دنیاکے لئے آفتاب کے مانند تھے ، اورلوگوں کے لئے صحت وعافیت کے درجہ میں تھے،کیا تم دنیاکے اندر آفتاب اورصحت وعافیت کی نظیر اورمثیل بھی دیکھتے ہو؟ (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ الفقہاء:۷۴)
باہمی اتفاق وقت کی اہم ضرورت
آج کے اس پرفتن اورمہیب دورمیں جب کہ بزم کافری کا اسٹیج جمایا جاچکاہے ، رقص بتان آـزری اپنے عروج پر ہے ، ہم لوگ دستار عظمت گنوابیٹھے ہیں ، ہم پہلے تاج بسر تھے اب خاک بسر ہوچکے ہیں،سرفرازی وکامرانی نے ہم سے منھ پھیرلیا ہے ، عزت وسطوت بھی ہم سے روٹھ چکاہے ، ہم پہلے امیرکارواں تھے اب گرد کارواں بھی نہیں رہے ، غیر مسلم قومیں اپنے عقائد ونظریات اوراپنی تہذیب وکلچرمسلمانوں پر زبردستی مسلط کررہی ہیں ،اوراسلامی خصوصیات وامتیازات اوراس کی تہذیب وثقافت کو صفحہ وجود سے حرف غلط کی طرح مٹانے کے لیے کمربستہ ہوچکی ہیں ، ایسے پرآشوب اورپرفتن دور میں مسلمانوں کی صفوں میں اتحادواتفاق پیداکرنا، آپسی محبت ورواداری اوردوستانہ تعلقات کو بڑھاناوقت کی اہم ضرورت ہے ، نفرت وعداوت کی بنیادوں کاقلع قمع کرنا ضروری ہے ،فراخدلی ،سیر چشمی اوربرداشت وتحمل مزاجی جیسے اوصاف عالیہ سے ہمیں متصف ہونا ہے ،ہمیں ملکی اختلاف سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے ، دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کی تحقیر وتنقیص اوران پر کیچڑ اچھالنے سے گریزکرنا چاہیے ، اگر ہم نے اس بات کو نہیں سمجھا تو یہ ہمارے لئے نقصان اورخسارہ کی بات ہوگی جس کے لئے شاید تاریخ ہمیں معاف نہ کرے ۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *