کہاں ہے میرا لعل؟

کہاں ہے میرا لعل؟

نازش ہما قاسمی
ہمارا ملک وہ ہے جہاں ایک نیتا کی اگر بھینس غائب ہوجائے تو وہ مل سکتی ہے، اگر کسی لیڈر کی کار چوری ہوجائے تو وہ بھی چند دنوں میں مل سکتی لیکن اگر کوئی عام آدمی گم ہو جائے کسی غریب ماں کا بیٹا کھوجائے تو ملنا محال ہے، اسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، مجاہدہ مشقت کرنی پڑتی، تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، آج جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے طالب علم نجیب کو غائب ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوگیا، اسے زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا ؟ کوئی پتہ نہیں! اس کی گمشدگی پر سیاست ہونے لگی، دہلی پولس سمیت سی بی آئی کو اسے ڈھونڈنے کی ذمہ داری دی گئی، سبھی ناکام نظر آرہے ہیں، دہلی ہائی کورٹ نے تو باضابطہ پھٹکار بھی لگائی ہے، سی بی آئی پر سوالیہ نشان تک لگ گیا ہے۔ کیا ہم ملک میں خود کو محفوظ تصور کرسکتے ہیں؟ وہ پولس جو واردات کے چند گھنٹوں بعد ہی کسی بلاسٹ کے ماسٹر مائینڈ کو ڈھونڈ لیتی ہے وہ خفیہ ایجنسیاں جو کسی دھماکے کے بعد اس کے تار سرحد پار تک جوڑ دیتی ہیں آخر اسے ایک سال سے غائب طالب علم کیوں نہیں ملا؟ یا وہ اسے تلاش ہی نہیں کرنا چاہتیں، کیا ہم یہ سوچ لیں کہ ہمارے ساتھ دوہرا رویہ اپنایا جارہا ہے، اگر یہی اکثریت کمیونٹی سے تعلق رکھتا اور اس کے پیچھے کسی اقلیت تنظیم کا ہاتھ بتایا جاتا تو کیا معاملہ یہی ہوتا؟ اگر پولس اب بھی اے بی وی پی کے غنڈوں پر لگام کسے، انہیں ٹارچر کرے احوال کوائف غور کرتے ہوئے تو قوی امید ہے کہ نجیب زندہ ہے یا مردہ دستیاب ہوجائے گا۔ لیکن پولس اور سی بی آئی شاید اعلی حکام کے دباو میں کام کررہی ہے، اسلئے انہیں کوئی خبر نہیں۔ ایک ماں بے چاری انصاف کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے لیکن اس کے ساتھ انصاف کے بجائے ان پر ظلم کیا جارہا ہے گزشتہ دنوں جو تصویریں سی بی آئی دفتر کے باہر سے وائرل ہوئی تھی اس تصویر نے تمام انصاف پسند ہندوستانیوں کو جھنجوڑ دیا تصویر کیا تھی نجیب کی ماں اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے سی بی آئی دفتر کے باہر احتجاج پر بیٹھی تھی لیکن ان کے ساتھ خادم ملک و ملت محافظ قوم انتظام و انصرام کا دعوٰی کرنے والے ٹھیکیدار دہلی پولس کے اہلکاروں نے انہیں ہاتھ پاوں پکڑ کر جس طرح سے گھسیٹا اور جھولا جھولاتے ہوئے ایک مجبور و پریشاں ماں کی مجبوری کا مذاق اڑایا ہے وہ ہندوستان کے چہرے پر کلنک ہے۔ کیا ایک دکھیاری ماں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیاجانا مناسب ہے؟ کیا اس کی مجبوری کا مذاق اڑانا، اس کے بہتے آنسو کو خشک کرنے کی بجائے اسے مزید بہانا جائز ہے؛ کیا یہی انسانیت کی تعلیم ہے۔؟ ہم تو یہی کہیں گے کہ دہلی پولس انسانیت کی تعلیم سے بالکل عاری ہے اسے کسی ماں کادرد نظر نہیں آسکتا یا ہوسکتا ہے وہ اسے ہندومسلم عینک سے دیکھ رہے ہوں اور جب بھی کوئی سرکاری افسر ہندو مسلم عینک لگاتا ہے یقین مانیے انسانیت کی تمام حدیں پار کرنا جائز ہوجاتا ہے۔ ہم بلا دلیل یہ الزام نہیں لگارہے بلکہ تارخ شاہد اور ہمارے دعوی کو تقویت بخش رہی ہے ۔ نگاہیں دیکھ رہی ہیں ملک میں کبھی جہاں محبت کے نغمے بکھیرے جاتے تھے آج نفرت و تعصب کی آندھیاں چل رہی ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نجیب کی ماں کہتی ہیں “گزشتہ ایک سال کے دوران ایسا بہت کچھ ہے جو میری زندگی میں پیچھے چھوٹ گیا ہے، رشتے دار غیر ہو گئے اور غیر اپنے بن گئے ہیں۔ میں نےزندگی کے وہ رنگ دیکھ لیے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ سال بہت تکلیف دہ رہا ہے جو خون کے رشتے تھے اب وہ دور ہوگئے اور جن سے انسانیت کا رشتہ تھا وہ قریب آگئے ہیں۔ اب میرے رشتے انہیں سے ہیں جو ایک سال سے میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو لوگ میرے ساتھ ہیں وہ اس بات کی علامت ہیں کہ ابھی انسانیت زندہ ہے۔ میں نے نجیب کے ساتھ جو خواب دیکھے تھے وہ اب بھی آنکھوں میں ہیں۔ میں سوچتی تھی اپنے بچوں کی تعلیم کے بعد انکی خوشیاں دیکھوں گی، انکے بچوں کے ساتھ وقت گذاروں گی اور مجھے امید ہے کہ میرے یہ تمام خواب پورے ہونگے۔ میرا نجیب جہاں ہے اللہ کی پناہ میں ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ وہ جب گھر سے نِکلا تھا میں نے اسے اللہ کی حفاظت میں دیا تھا اب وہ جہاں بھی ہوگا محفوظ ہوگا”۔ لیکن ان کی آنکھوں کی چمک اچانک آنسوؤں میں تبدیل ہوگئی۔ ہمت کی مورت یہ ماں ٹوٹتی نظر آنے لگی اور لڑکھڑاتی آواز میں کہنے لگی “میں بہت تھک گئی ہوں، بہت زیادہ تھک گئی ہوں اب مجھ سے چلا نہیں جاتا، بہت مجبور ہوں۔ میں ہوں تو اتنے لوگ یہاں ہیں اگر میں نہیں آؤنگی تو میرے بیٹے کے لیے کوئی نہیں آئے گا”۔
سلام ہے اس ماں کو جس نے اپنے لخت جگر کو ڈھونڈنے کیلیے وہ تمام کوششیں کیں جو ان کے اختیار میں تھا، آج بھی وہ مایوس نہیں ہوئی ہیں پر عزم ہیں، خدا سے امید لگائے بیٹھی ہیں کہ ضرور میرا لخت جگر مجھے ایک نہ ایک دن مل جائے گا۔ خدا کرے اس ماں کو اس کا لخت جگر مل جائے تاکہ ان کے دل کو ٹھنڈک پہنچے۔ نجیب کی ماں نے اس ایک سال کے عرصے میں کئی مظاہرے کیے، پولس کی لاٹھیاں کھائیں لیکن بیٹے کو ڈھونڈنے کا جنون ماند نہیں پڑا۔ ماں واقعی ماں ہوتی ہے اسے درد کا احساس ہوتا ہے خدارا کسی کی ماں کو اس طرح نہ رلاو کہتے ہیں ماں کی پکار عرش تک کو ہلادیتی ہے اب سوچیں کیا وہ لوگ جو ان کے بیٹے کی گمشدگی میں شریک ہیں چین سے رہ پائیں گے ہوسکتا ہے دنیاوی انصاف کے علمبردار انہیں نہ پکڑیں، ان سے صرف نظر کریں لیکن جو سمیع و علیم ہے وہ دیکھ رہا دیکھ رہا جس دن اس ماں کے صبر کا بندھن ٹوٹے گا ظالمین کیفرکردار تک پہنچ جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *