گجرات انتخاب : بی جے پی کا وقار داؤ پر

گجرات انتخاب : بی جے پی کا وقار داؤ پر

نازش ہما قاسمی (ممبئی اردو نیوز)
بالآخر گجرات اسمبلی انتخابات کا تنازعات جھیلنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اعلان کرہی دیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گجرات اسمبلی انتخابات دو مراحل میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے کا انتخاب 9 دسمبر 2017 کو اور دوسرے مرحلے کا انتخاب 14 دسمبر 2017 کو ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی 18 دسمبر کو کی جائے گی۔ واضح رہے کہ گجرات میں 4.3کروڑ رائے دہندگان ہیں جو کہ 182 نشستوں پرامیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ کل 50 ہزار 128 پولنگ بوتھوں پر انتخابات کرائے جائیں گے۔ انتخابات میں استعمال ہونے والی تمام ای وی ایم میں وی وی پیٹ کا استعمال کیا جائے گا، ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ کسی بھی ایک مشین کے وی وی پیٹ اور ای وی ایم کا موازنہ کیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ گجرات اسمبلی الیکشن کا اعلان اتنی تاخیر سے کیوں کیاگیا؟ ہماچل پردیش کے ساتھ ہی کیوں نہیں کیاگیا۔ اپوزیشن نے تو اس پر خوب ہنگامہ آرائی کی۔ کانگریس کے پی چدمبرم نے بھی تیکھے تبصرے کیے اور الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کیے۔ جہاں تک سوچنے والی بات ہے تو اپوزیشن کا اعتراض بجا تھا کیوں کہ وزیر اعظم مودی وہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے اور ہر دن نت نئے اعلانات کرکے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اگر اعلان پہلے ہوچکا ہوتا تو شاید وزیر اعظم کو ووٹروں کو لبھانے کا موقع میسر نہیں آتا ۔ ویسے فی الحال ملک کے عوام کی نظریں گجرات اسمبلی الیکشن پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ہر کوئی گجرات کی تازہ ترین صورت حال جاننے کا متمنی ہے۔ بی جے پی کی نیندیں حرام ہیں۔ اپوزیشن پوری تیاری کے ساتھ کمر بستہ ہے۔ امیدواروں کو خریدنے ، توڑنے ، جوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، وہیں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو لگ رہا ہے کہ اس بار وہ اقتدار میں واپسی کرسکتی ہیں۔گزشتہ کچھ سالوں میں ریاست میں سیاسی منظرنامہ بدلاہوالگتاہے اور الیکشن کو لے کر یہ مسائل نتائج کو تبدیل کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔پٹیل سوسائٹی نے بے جی پے کے نیندحرام کررکھی ہے۔بی جے پی کے ذریعہ پاٹیدار رہنمائوں کو دس لاکھ پیشگی دے کر خریدنے کی کوشش نے سیاست میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ بی جے پی کی شبیہ ایک تو پہلے سے ہی داغدار ہے پاٹی دار رہنمائوں کو خریدنے کی کوشش نے مزید کلنک میں اضافہ کیا ہے۔ بی جے پی گجرات اسمبلی الیکشن کو اپنی انا کا مسئلہ بناچکی ہے۔ وہ ہر حربہ آزماتے ہوئے اسے جیتنے کی مکمل کوشش کرے گی۔ خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ایسے موقع پر گجرات کے عوام کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ اپنے بہتر مستقبل کے لیے غور کرنا ہوگا۔ کیا واقعی بی جے پی نے اتنے عرصے تک قابض رہنے کے باوجود گجرات کو ترقی ماڈل بنایا ہے جس کا ڈھنڈورہ پورے ملک میں پیٹا جارہا ہے۔ یا صرف یہ بیان بازی اور عوام سے دھوکے بازی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ شہر ہی ترقی یافتہ ہیں آبائی گائوں اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خوف سے یا کسی اور امر مجبوری سے بی جے پی کی طرف راغب ہوتے ہیں تو یہ ان کے لیے تاریک مستقبل ڈھونڈنے کے مترادف ہوگا۔ ویسے پٹیل رہنمائوں کا کانگریس کی حمایت کرنا اس امر کی طرف مشیر ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی کراری ہار یقینی ہے۔ لیکن قومی میڈیا، سوشل میڈیا، اور بھکتوں کا گروہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ عوامی طور پر جو تصویر جو وہاں سے دکھائ پڑ رہی ہے اس کے پس منظر میں اگر کہا جائے تو بی جے پی کے پاس کوئی ایسا مدعا نہیں ہے جسے وہ سامنے رکھ کر الیکشن جیت سکے۔ یوگی کو بھی استعمال کرکے دیکھ لیا،یوگی کی ریلی میں عوام کا ’ٹھاٹھیں‘ مارتا سمندر نہیں دکھائی دیا خالی روڈ کو ہاتھ ہلاتے رہ گئے۔ مودی جی نے بھی اپنی ریلی کی ، صرف ان کے سیکوریٹی گارڈ کی ہی تصویریں دکھائی دے رہی تھیں ، عوام کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ اس کے برخلاف پاٹی دار رہنمائوں اور کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی ریلیوں میں عوام کا جم غفیر نظر آرہا تھا لیکن اس کے باوجود میڈیا ، سوشل میڈیا ، اور بھکت مطمئن ہیں تو دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے ۔ ایگزٹ پول کے نتائج تو بی جے پی کی برتری کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ ویسے ہمیں کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہمدردی نہیں ہے۔ کہ اس کی جیت سے خوشی ہوگی او ربی جے پی کی جیت سے غم۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ گجراتی عوام اپنے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ کون آپ کے لیے بہتر ہوگا اور کون نہیں؟ اگر ایک دن کے پانچ سو روپئے میں ووٹ بیچ کر آپ کسی سیاسی جماعت کو کامیاب کراتے ہیں تو یہ خسارہ کے سودا ہوگا۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ وکاس وکاس چلانے والوں کی بات پر دھیان نہ دے کر وکاس کون کرتا ہے یہ دیکھیں۔ شسما سوراج کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ہمارا ملک ہندوستان نے آزادی کے ستر سال میں ملک کوتعلیمی یونیورسٹیاں اور دیگر کامیاب فلاحی ادارے دئیے ہیں وہیں پاکستان نے دہشت گردی کو جنم دیا۔ آپ اتنا تو جانتے ہیں آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ملک میں مجموعی طور پر کس کی حکومت رہی ہے۔ بی جے پی کی؟ ۔ تو ضروری ہے کہ جنہوں نے ترقی کے دعوے کے ساتھ ترقی کی ہے ان کا ساتھ دے کر اسے کامیابی سے ہمکنار کرائیں۔ بی جے پی نفرت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ویسے کانگریس بھی اس سے بری نہیں ہے لیکن بی جے پی کے مقابلے میں کم نقصاندہ ہے جہاں دو خطرناک چیزوں میں مقابلہ ہوتو کم خطرناک کو منتخب کیاجاسکتا ہے۔ ویسے مرکز میں بی جے پی کو تین سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، جو جو وعدے کیے گئے ہیں کیا وہ پورے ہوئے ؟ نہیں !تو پھر ۔۔۔؟ کس آ س پر وہ آپ سے ووٹ طلب کرنے آئے ہیں؟ کالا دھن واپس تو نہیں آیا اپنا بھی دھن کٹنے لگا، وکاس نعروں میں ہی ہوا ، نوٹ بندی نے ۲۰۰ جانیں لے لی، جی ایس ٹی نے کمر توڑ دی ۔۔اب کیا ہاتھ میں کٹورا تھامنے کا انتظار کریں گے۔
(بصیرت فیچرس۹




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *