زعفرانی یوگی کے،زعفرانی راج میں زعفرانی ہوتا یوپی

زعفرانی یوگی کے،زعفرانی راج میں زعفرانی ہوتا یوپی

شکیل رشید (ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
یوگی کا ضمیر اور خمیر سب زعفرانی ہے !
ظاہر ہے کہ جووزیراعلیٰ سرتاپا زعفرانی رنگ میں رنگا ہوگا وہ اپنی ریاست کوبھی زعفرانی رنگ ہی میں رنگے گا ، ان دنوں یوگی آدتیہ ناتھ یہی کررہے ہیں ۔ ساری ریاست زعفرانی رنگ سے رنگی جارہی ہے ۔۔۔ میں یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں کھڑا ہوا حیرت سے ان سرکاری عمارتوں کو ، ان اداروں اور مسافر بسوں کو دیکھ رہا ہوں جو گیروے، بھگوے یا باالفاظ دیگر زعفرانی رنگوں میں پُتی ہوئی یوگی کی ذہنیت کو بھی اُجاگر کرتی ہیں اور اس حقیقت کو بھی کہ بی جے پی کے لئے اب ’وکاس‘ واقعی ’پاگل‘ ہوگیا ہے اور ’ ہندوتوا‘ کا ایجنڈا اب پھر سے سرِفہرست ہے۔ اور اس سچائی کو بھی کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کی کمان اس لئے سونپی گئی ہے کہ وہ ایک ایسے ہندوتوا کے ایجنڈے کو شدت کے ساتھ آگے بڑھائیں جو صرف یوپی ہی کی نہیںسارے ملک کی بالخصوص اُن ریاستوں کی ،جہاں اسمبلیوں کے الیکشن ہونے والے ہیں ، جیسے کہ گجرات ، ہماچل پردیش اور کیرالہ ، فضاؤں کو فرقہ پرستی کے زہر سے آلودہ کردے ۔ یوگی نے وزیراعلیٰ بننے کے فوراً بعد ہی ایودھیاکا دورہ کرکے یہ واضح پیغام دے دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف ’ہندوتوا‘ کے ہی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے راج گدی پر بیٹھے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے ایودھیا ، بھگوان رام ، رام مندر اور جے شری رام کے نعرے کو منتخب کیا ہے ۔۔۔ اور اپنی پہلی دیوالی پر ایودھیا میں لاکھوں کی تعداد میںدیئے روشن کرکے انہوں نے اپنے مذکورہ پیغام کو گویا کہ پھر سے دوہرایا ہے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایودھیا میں دیئے روشن کرکے یوگی نے ایک طرح سے یہ اعلان کردیا ہے کہ اب بی جے پی کا ریاستی اسمبلیوں کے اور ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا کے الیکشن میں انتخابی موضوع رام مندر ہی ہوگا ’وکاس‘ نہیں ، تو زیادہ درست ہوگا ۔
ویسے یوگی کے دیوں کی روشنی نہ گجرات پہنچ سکی ہے اورنہ ہی ہماچل پردیش ۔ مگر اس پر بات آگے کی سطروں میں ، ابھی تو بات یوپی کی کرنی ہے ۔ چھ مہینے کے درمیان یہ یوپی کا میرا دوسرا سفر ہے ۔ ’وکاس‘ یوپی میں صرف ’ پاگل‘ نہیں ہوا ہے بلکہ ’پاگل‘ہونے کے بعد اس نے ’دم توڑ‘ دیا ہے ۔ جب یوگی وزیراعلیٰ بنے تھے تب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ریاست کی سڑکیں گڑھا مکت،ہوں گی ، یعنی گڑھے سڑکوں پر نظر نہیں آئیں گے ۔ یہ اعلان آج بھی عملدرآمد سے دور ہے ۔ ریاست کی ان سڑکوں کو چھوڑ کر جنہیں قومی شاہراہیں کہا جاتا ہے بیشتر سڑکیں ، بالخصوص وہ سڑکیں جو دیہاتوں ، قصبوں ، تحصیلوں اور چھوٹے چھوٹے شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں آج بھی گڑھوں کے سبب چیچک زدہ مریضوں کی مانند نظر آتی ہیں ۔ بجلی کا ۲۴؍گھنٹے کا وعدہ ، بس وعدۂ معشوق ہی ہے ۔ جو بجلی ان دنو ں دی جارہی ہے وہی اکھلیش سنگھ یادو کے دور میں بھی دی جارہی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اکھلیش سنگھ یادو نے بجلی کی فراہمی کے وقت میں جواضافہ کیا تھا یوگی کی سرکار اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے ۔ کسان آج بھی رورہے ہیں ۔ جن کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا گیا تھا وہ قرض معافی کے بے رحمانہ مذاق سے حیرت زدہ ہیں ۔ معافی کےنام پر کہیں کہیں تو بس پندرہ روپئے معاف کئے گئے ہیں !
زعفرانی یوگی کے،زعفرانی راج میں زعفرانی ہوتا یوپی
یوگی نے سارا زور ریاست کو زعفرانی ؍بھگوا رنگ میں رنگنے پر لگادیاہے ۔ بسیں بھگوا کی جارہی ہیں ۔ سرکاری عمارتوں پر گیروا پھیرا جارہا ہے ۔ یوگی کی یہ کوشش ہے کہ وہ جس طرح بھگوا دھاری بنے ہوئے ہیں ساری ریاست اسی طرح بھگوے رنگ میں رنگ جائے ۔ امیٹھی کے ایک بزرگ جمال خان کے مطابق ’’ یوگی جب سے آئے ہیں بس یہی کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح سے ریاست کے لوگوںکو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کردیں ، اس کے لئے انہوں نے لوجہاد ، گھر واپسی اور گئورکشا کا سہارا تو لیا ہی ہے گیروے ، بھگوے رنگ کا سہارا بھی وہ اسی لیے لئے ہوئے ہیں ، جب سب کچھ بھگوے رنگ میں رنگ جائے گا تو انہیں شاید یقین آجائے گا کہ یوپی پر ہندوتوا کا رنگ چڑھ گیا ہے ۔ ‘‘
مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے ۔۔۔۔ اب لوگ پھر سے اکھلیش سنگھ یادو کو یاد کرنے لگے ہیں۔ ان کی سڑکیں اور ان کا میٹرو پروجیکٹ ان کی کامیاب حکومت کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔ جمال خان کی ریاست کی سیاست پر گہری نظر ہے وہ بتاتے ہیں ’’ یوگی وکاس کے نام پر اکھلیش کی بھونڈی نقل کررہے ہیں ، اکھلیش نے تو پہلے ہی ایکسپریس ہائی وے پر جیٹ اُتاردیئے تھے یوگی نے اب جیٹ اتارکر ان کی نقل ہی کی ہے کوئی نئی بات نہیں کی ہے ۔ ‘‘ سچ تو یہ ہے کہ یوگی کے پاس کچھ نیاہے بھی نہیں ۔ اور اگر کچھ نیا ہے بھی تو بس یک رخی ہے ۔ انہوں نے نیا یہ کیا کہ ایودھیا میں دیوالی سے ایک روز قبل ،بھگوان رام کی آمد کے جشن کی تقریب کے لئے ایک لاکھ ۸۷؍ ہزار ۲۱۳ دیئے روشن کردیئے ۔ گنیز بک میں اس طرح انہوں نے نام درج کراکر گویا کہ ہندوستان کے نام کو ستاروں کی بلندیوں یک پہنچا دیا ۔ انہوں نے یہ کیا کہ ورنداون ، برسنا اور چترکوٹ کو ’ دھارمک استھلوں‘ کی حیثیت سے سیاحتی مراکز بنانے کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے ایودھیا کے لئے چار مرحلوں میں ترقیاتی منصوبوں کااعلان ضرور کیا مگر اسے بھی ’دھرم کی سیاست‘ سے الگ نہیں کرسکے، انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ’ ’ رام مندر کی تعمیر سے قبل یہ ایودھیا کی ترقی کا منصوبہ ہے ۔‘‘ میٹ کاروبار پر آج بھی پہلے ہی کی طرح سختی ہے ۔ بیف کے نام پر جبروتشدد کا بازار آج بھی گرم ہے ۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے یوپی کو جرائم سے پاک بنانے کا اعلان کیا تھا مگر جرائم ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں ۔ یوپی میں حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے بالخصوص عصمت دری کی وارداتوں میں ۔ بریلی میں حال ہی میں ایک نوعمر طالبہ گینگ ریپ کی شکار ہوئی ہے ، ایک سوسالہ ضعیفہ ریپ کے بعد موت کی نیند جاسوئی ہے ۔ دلتوں پر اتیاچار تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ بی جے پی کے سیاسی مخالفین نشانے پر ہیں ۔ حال ہی کے دنوں میں امیٹھی کے نہال گڑھ میں ایک سینئر کانگریسی ایڈوکیٹ حاجی صلاح الدین پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈران کھل کر سیاسی مخالفین کو دیکھ لینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ گویا یہ کہ یوپی ترقی سے دور ہوتا جارہا اور ایسی تنزلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
مگر یہ سب یوگی کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے
وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ’ وکاس بم‘ کے ’پھُس‘ ہونے کے بعد سنگھ پریوار کے سامنے شاید اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے کہ یوگی کے روپ میں ’ ہندوتوابم‘ پر پھر سے انحصار کیا جائے ۔ ۲۰۱۹ء کی جیت اس کے لئے ضروری ہے ۔ ضروری اس لئے کہ ابھی ملک کو تباہی اور بربادی کی سمت لے جانے کے لئے بہت سے کام جوکرنے ہیں ! بابری مسجد تو شہید کردی گئی لہٰذا اب رام مندر کی تعمیر کا شور مچایا جائیگا۔ یوگی کی ایودھیا سے محبت بھی اسی لئے تیز ہوئی ہے ۔ ’ترتیایوگ‘ (قدیمی دور) پر ایک لاکھ سے زائد دیئے اسی لئے جلائے گئے ہیں ، بھلے ہی بہت سے شہریوں کے گھر اندھیرے میں ڈوبے رہیں ’ہندوتوا‘ کے فروغ کے لئے تیل اور دیئے کم نہ پڑیں۔ ایودھیا میں اسی لئے بھگوان رام کی سوفٹ کی مورتی نصب کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ بھلے ہی لوگوں کو کھانا نہ ملے ، بدن پر کپڑے نہ ہوں کروڑوں روپئے مورتی پر لگیں گے ہی تاکہ ’ ہندوتوا‘ کی مورتی زمیں بوس نہ ہوسکے ۔ تیاری ہے کہ ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے بھگوا رام اور رام مندر کا خوب شور مچایا جائے ۔ ان دنوں بھی سارے یوپی میں جگہ جگہ رام کتھاؤں کے پنڈال سجے نظر آتے ہیں جہاں سے دن رات رام کتھائیں سنائی جارہی ہیں ۔ لوک سبھا کے الیکشن کی مہم ؍ ۱۳؍فروری ۲۰۱۸ کے روز ایک رتھ یاترا نکال کر کی جائے گی ۔ اس دفعہ اس کا نام ’ رام راجیہ رتھ یاترا‘ رکھا گیا ہے ۔ اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی والی رتھ یاترائیں آج بھی لوگ بھولے نہیں ہیں ، یہ دونوں ہی رتھ یاترائیں بالخصوص اڈوانی والی رتھ یاترا ’خونی‘ تھیں ۔ یوگی کی رتھ یاترا کیسی ہوگی اس کا اندازہ ابھی سے کیا جاسکتا ہے ۔ یہ رتھ یاترا چھ ریاستوں سے گزرتی ہوئی رامیشورم میں جاکر ختم ہوگی ۔ یہ کیرالہ سے بھی گذرے گی اور مہاراشٹر سے بھی۔۔۔۔ بی جے پی کا سارا زور اب بس ’ رام مندر‘ پر ہے ۔ یوگی اس پر خوش ہیں، انہیں اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے کہ بی جے پی نے وکاس ، غربت ، غریبی، روزگار ، بے روزگاری اور عوامی صحت وتعلیم کے موضوع کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ یوپی کانگریس کے ایک لیڈر محمد نعیم کے بقول ’’ بی جے پی کے پاس اب فرقہ پرستی ہی ایک موضوع رہ گیا ہے اس کے پاس اور کچھ نہیں بچا ہے ۔‘‘
کوشش تھی کہ ایودھیا کے دیوں کی روشنی گجرات اور ہماچل پردیش تک بھی پہنچ جائے ۔ مگر ایودھیا کے دیوں کی روشنی گجرات اور ہماچل تک نہیں پہنچ سکی ہے ۔ منصوبہ یہی تھا کہ ہماچل پردیش اور گجرات کی اسمبلیوں کے الیکشن سے پہلے رام ، رام مندر اور ہندوتوا کی اتنی تیز صدائیں لگائی جائیں اور ہندوتوا کے ایسے مظاہر سامنے لائے جائیں کہ سارا گجرات اور سارا ہماچل پردیش بھگوا رنگ میں رنگ جائے ۔ اور سارے ہی ہندو ووٹریکجٹ ہوکر بی جے پی کی جھولی میں اپنے ووٹ ڈال دیں ۔۔۔ مگر گجرات میں ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکور نے ’بھگوا سیاست‘ کی راہ میں کچھ اتنے روڑے کھڑے کردیئے ہیں کہ ایودھیا کی روشنی ان کو پار کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ہاردک پٹیل کا’مہاچور‘ کا نعرہ جے شری رام کے نعرے پر حاوی ہوگیا ہے ۔ اور میوانی اور الپیش ٹھاکور کی دلتوں اور پچھڑوں کی سیاست نے ’بھگوا سیاست‘ کو پیچھےڈھکیل دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گجرات ’پریورتن‘ کی سمت چل پڑا ہے ۔ اور ’ پریورتن‘ بھی کچھ ایسا جسے بی جے پی ، نریندر مودی اور امیت شاہ تینوں شاید ہی سہہ سکیں ۔ ہاں کانگریس اور راہل کے لئے یہ پریورتن مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔ رہا ہماچل پردیش تو وہاں بی جے پی اندرونی خلفشار اور کانگریس کے بدلتے تیور سے کچھ اسقدر حیران وپریشان ہے کہ اسے بھگوے اور سرخ رنگ کا واضح فرق تک نظر نہیں آرہا ہے ۔ خبر ہے کہ بی جے پی نے ہماچل پردیش کی ثقافتی شناخت ، پہاڑی ٹوپی، کارنگ بدلا ہے ، مگر زعفرانی میں نہیں لال رنگ میں ! مقامی افراد یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ’ ہم اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو ہر رنگ میں پہنیں گے صرف لال میں کیوں ! ‘ہا ں یہ ہوسکتا ہے کہ یوگی ہماچل پہنچیں اور لال کو زعفرانی میں بدل دیں۔ان دنوںسنگھ پریوار نے ساری کمان ان ہی کے ہاتھوں میں سونپ رکھی ہے اور ان کا ضمیر اور خمیر چونکہ سب زعفرانی ہے اس لئے وہ سارے ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی ، ایک ناکام کوشش تو کرہی سکتے ہیں!
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *