شیرِ ہندوستان ٹیپوسلطان، جسے بھاجپا نے سیاست کا مہرہ بنادیا

شیرِ ہندوستان ٹیپوسلطان، جسے بھاجپا نے سیاست کا مہرہ بنادیا

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
ٹیپو سلطان کے خلاف بھاجپا بھی انگریزوں کے راستے پر چل رہی ہے؟ کیا ٹیپو محض اس لئے سنگھ پریوار کے نشانے پر ہے کہ وہ ایک مسلمان حکمراں تھا؟ آخر کیا سبب ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی اور سنگھی تنظمیں ٹیپو کے خلاف متحد ہوگئی ہیں؟ آخر وہ کیوں ریاستی سرکار کو ٹیپو جینتی منانے سے روکتی رہی ہیں؟ آخر کیا سبب ہے کہ جس حلقے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل کا ’’یوم شہادت‘‘ منانے کا چلن ہے ،وہی طبقہ ایک ایسے حکمراں کا یوم ولادت منانے سے روک رہا ہے جس نے انگریزوں کے خلاف زبردست جنگ لڑی اور بہادری کے ساتھ اپنی جان گنوائی۔ کیا آرایس ایس میں ایسا کوئی لیڈر گزرا ہے جس نے انگریزوں سے لڑائی لڑی ہو؟ اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح کرناٹک میں اس سال بھی ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کو لے کر تنازعہ ہو رہا ہے۔ غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ گزشتہ برسوں میں ٹیپو کی جینتی منانے کو لے کر بھڑکے تشدد میں کچھ لوگوں کی موت بھی ہوچکی ہے۔بہرحال سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی 10 نومبر کوریاستی حکومت 18 ویں صدی میں سلطنت خداداد میسور کے بادشاہ رہے ٹیپو سلطان کی جینتی منا رہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ تاریخی شواہد کے مطابق ٹیپو کا یوم پیدائش 20 نومبر کو ہے۔بہرحال سنگھ پریوار پچھلی بار کی طرح اس بار بھی اس کی مخالفت کررہا ہے۔ اس کے لئے وہ وہی دلیلیں لارہا ہے جو انگریز لایا کرتے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان نے بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کرایا تھا۔ کرناٹک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی بی جے پی ،ٹیپو سلطان کو ایک کٹر اور شدت پسند بادشاہ کے طور پر پیش کرتی آئی ہے۔ آر ایس ایس کے کارکن وی ناگراج نے کہا کہ 1886 میں ٹیپو سلطان کے پوتے غلام محمد نے حیدر علی خان بہادر اور ٹیپو سلطان کی زندگی پر ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب 1886 میں شائع ہوئی تھی اور اسے دوبارہ 1976 میں چھاپا گیا۔ اس میں ان کے پوتے نے بتایا ہے کہ ٹیپو سلطان نے اسلام کے لئے کیا کیا ہے۔ اس نے 70 ہزار عیسائیوں اور 1 لاکھ ہندوؤں کا زبردستی مذہب تبدیل کروایا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے عیسائی ادارے اور خاص طور پر کرناٹک کے ساحلی علاقوں کے لوگ اس تقریب کو لے کر اپنی ناخوشی ظاہر کر چکے ہیں۔
ٹیپو بحیثیت ایک انسان
دل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمیٔ محفل کی یاد
جل چکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ٹیپوسلطان ایک انصاف پسند حکمراں،زبردست جنگجو اور بہترین منتظم و مدبر تھا مگر کسی انسان میںیہ خوبیاں تب ہی آسکتی ہیں جب وہ ایک اچھا انسان بھی ہو۔ٹیپوسلطان ان تمام خوبیوں کا حامل تھا جو ایک اچھے انسان اور ایک اچھے مسلمان میں ہوسکتی ہیں۔ اسے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خاص خیال رہتا تھا۔ وہ اپنے باپ کا ایک فرمانبردار بیٹا تھا اور جب تک باپ حیدر علی زندہ رہا وہ پوری طرح اس کا اطاعت شعار رہا۔ وہ اپنی بیویوں سے محبت کرنے والا شوہر تھااور اسی کے ساتھ وہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرنے والا ایک شفیق باپ بھی تھا۔وہ اپنے عزیزوں اور قرابت داروں سے حسن سلوک کیا کرتا تھا نیز وہ دوست واحباب کے ساتھ بھی ہمدردی کا برتائو کیا کرتا تھا۔ سپاہیانہ خصوصیات اور جانثارانہ حوصلوں نے اس کے انسانی جذبوں کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ اسے مزید جلا بخشا تھا۔
ابتدائی زندگی
ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء(بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163ھ ) کو دیوانہالی میں پیدا ہوا۔ موجودہ دور میں یہ مقام بنگلور کے قریب آتا ہے۔مورخین نے لکھا ہے کہ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے ایک بزرگ ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا جن کی دعائوں کے بعد ٹیپو کی ولادت ہوئی تھی حالانکہ اسے دادا فتح محمد کے نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔ والد حیدر علی نے اپنے بیٹے کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی تھی ،نیز فوجی اور سیاسی سرگرمیوں میں اسے نوعمری میں ہی شامل کرلیا تھا۔وہ فوجی اور سیاسی امور میں اس قدر سمجھ پیدا کرچکا تھا کہ محض 17 سال کی عمر میں ٹیپو کو اہم امور پر آزادانہ فیصلہ لینے کااختیار دے دیا گیا تھا۔ حیدر علی نے جنوبی ہند میں انگریزوں سے لوہا لیا تھا اور 50 سال تک انھیں ملک پر قبضہ سے روکے رکھا تھا اور کئی بار انھیں شکست فاش بھی دی۔ سلطان کی تربیت اسی ماحول میں ہوئی۔
کیسا تھا سلطان ٹیپو؟
نواب حیدرعلی ناخواندہ تھے مگر انھوں نے اپنے بیٹے ٹیپو کی تعلیم وتربیت پر خاص دھیان دیا اور اسے دینی وعصری تعلیم کے ساتھ ساتھ فنون عسکری وسپاہ گری میں بھی یکتا بنانے کی کوشش کی ۔ وہ تلوار کے ساتھ ساتھ زبان کا بھی دھنی تھا اور جو وعدہ کرتا اسے وفا کرتا تھا۔ ٹیپو کے اندر غیرت وحمیت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس کے آباء واجداد قریشی النسب تھے۔سلطان ٹیپو کا قددراز تھا،اس کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں جن میں حکمت ودانائی کی چمک نظر آتی تھی۔ چھاتی چوڑی اور شانے ابھرے ہوئے تھے۔ میسور کے اس شیر کا رنگ گندمی تھا اور چہرے کے خدوخال نازک تھے مگر اس کے باوجود وہ بارعب لگتا تھا۔ ٹیپو کے چہرے پر داڑھی کے بال نہیں اگے تھے، البتہ مونچھوں پر کچھ بال تھے۔ وہ رخسار پر استرا پھیرا کرتا تھا، تاکہ بال نکل آئیں۔ وہ نمازوں کی پابندی کرتا تھا،کتابوںکے مطالعہ کا شوق رکھتا تھا۔ فن موسیقی سے واقفیت رکھتا تھا باوجود اس کے رقص وسرود کی محفلوں سے دور رہتا تھا۔ اسے باغات لگانے کا شوق تھا۔ پھولوں اور خوشبووں کا شوقین تھا۔ ان دنوں بنگلور کو باغات کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اسے درختوں اور باغوں سے مزین کرنے کا کام ٹیپو کے عہد میں ہی شروع ہوگیا تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ہندوستان کا خوبصورت ترین شہر ہے۔ اس شہر کا حسن بلڈنگوں سے نہیں بلکہ درختوں، باغوں اور پارکوں سے ہے۔
ایک اصلاح پسند حکمراں
ٹیپوسلطان، انسانیت دوست حکمراں تھا اور سب کے حقوق کا خیال رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ انگریز جنگی قیدیوں کے ساتھ بھی اس کا برتائو بہت اچھا ہوتا تھا۔ ان قیدیوں کو کھانے اور کپڑے کے علاوہ روپئے پیسے بھی دیجئے جاتے تھے جب کہ دوسری طرف ہندوستانی قیدیوں کے ساتھ انگریزوں نے غیر انسانی سلوک روا رکھا تھا۔ ٹیپوسلطا ن تعصب سے پاک تھا۔ اس کی سلطنت میں سبھی مذاہب آزاد تھے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ بھید بھائو روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک سیکولر حکمراں تھا۔ وہ جس طرح مسجدوں، درگاہوں کے لئے سرکاری فنڈ سے امداد کرتا تھا، اسی طرح مندروں اور غیرمسلموںکے مذہبی مقامات کے لئے بھی دل کھول کر مدد کیا کرتا تھا۔محققین نے کئی ایسے مندروں کی دریافت کی ہے جنھیں ٹیپو نے مدد کے طور پر زمین، پیسے اور جانور دیئے تھے۔ کرناٹک میں آج بھی ایک ایسا مندر ہے جس میں ہر شا م ٹیپو کے نام کی پوجا ہوتی ہے۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ اصلاح پسند حکمراں بھی تھا اور مذہب کے نام پر جاری بے سروپا رسوم کو پسند نہیں کرتا تھا۔ بعض ہندو طبقوں میں عورتوں کے پاس بیک وقت چار شوہر ہوتے تھے، اس پرسلطان نے پابندی لگا دی تھی اور حکم جاری کیا تھا کہ ایک عورت ایک وقت میں ایک ہی شوہر رکھ سکتی ہے۔یونہی مالابارمیں بعض پسماندہ طبقے کی عورتیں سینہ کھلا رکھا کرتی تھیں، اس پر بھی اس نے پابندی عائد کر دی تھی۔ یہاں کچھ مندر ایسے بھی تھے جہاں انسانوں کی بلی دی جاتی تھی، جو ایک غیر انسانی عمل تھا، اسے بھی سلطان نے ممنوع قرار دے دیا تھا۔ ہندوستان میں مذہب کے نام پر ننگا رہنے کی روایت پرانے زمانے سے چلی آرہی ہے، آج بھی بعض سادھو اور مذہبی پیشوا ننگے رہتے ہیں،اسے سلطان نے اپنی ریاست کے اندر ممنوع قرار دے رکھا تھا اور سبھی مردوعورت کے لئے بدن چھپانا لازمی تھا، حالانکہ ان پابندیوں کے سبب اسے ہندووں کی ناراضگی جھیلنی پڑی تھی۔اسی طرح اس نے اپنی سلطنت میںغلامی کو غیر قانونی قرار دے رکھا تھا۔ سلطنت میسور میں شراب اور منشیات پر مکمل پابندی تھی۔ یہاں تک کوئی شخص بھنگ بھی نہیں لے سکتا تھا۔اصل میں منشیات کو سلطان غیراخلاقی چیز سمجھتا تھااور اسے لگتا تھا کہ اس کے استعمال سے ریاست میں جرائم بڑھ سکتے ہیں لہٰذا اس نے اس پر پوری طرح پابندی عائد کررکھی تھی۔
بیٹوں کو گروی رکھنا پڑا
کسی باپ کے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اورکیا ہوسکتی ہے کہ اسے اپنے بیٹوں کو گروی رکھنا پڑے۔ سلطان کو اپنی زندگی میں یہ درد بھی سہنا پڑا۔ واقعہ یوں ہے کہ سلطان نے 1789 میں موقع دیکھ کر ٹرانکور پر حملہ کر دیا، اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے اتحادی مرہٹوں اور نظام حیدرآباد کے ساتھ مل کر سلطنت میسور کے خلاف طبل جنگ بجا دیا۔ تقریباً ڈھائی سال تک چلی اس جنگ میں سلطان کو پسپا ہونا پڑا۔ لارڈ کارنوالس کی فوجوں نے ٹیپو کے پایہ تخت سرنگا پٹم کا محاصرہ کر لیا اور آخرکار کچھ سخت شرائط پر اسے صلح کرنی پڑی۔ صلح کی شرائط کے مطابق ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو تین کروڑ روپے بطور تاوان ادا کیا اور آدھی سلطنت بھی ان کے حوالے کرنی پڑی اور معاہدے پر عمل درآمد کی گارنٹی کے طور پر اسے اپنے دو بیٹے بھی لارڈ کارنوالس کے حوالے کرنے پڑے، جنھیں ٹیپو سلطان ،دو سال بعد واپس حاصل کر پایا۔ بڑا شہزادہ عبدالخالق تقریباً دس برس کا تھا، اور چھوٹے شہزادے معز الدین کی عمر آٹھ سال تھی۔ا نھیں ضمانت کے طور پر انگریزوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ سلطان اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے تئیں اس قدر فکر مند رہتا تھا کہ انھیں اچھے اساتذہ کی نگرانی میں رکھتا تھا، آہستہ اور نرمی کے ساتھ گفتگو کی تاکید کرتا تھا،بعض بچوں کو اس نے فرانس تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی بھیجا تھا۔
سلطان کے اہل خاندان
سلطان ٹیپو نے کل تین شادیاں کی تھیں،جن میں سے دوشادیاں ایک ساتھ ہی ہوئی تھیں۔ سلطان کی ماں اپنی کسی رشتہ دار سے اس کی شادی کرانا چاہتی تھیں، جب کہ باپ کی خواہش تھی کہ ان کی رشتہ دار سے ہو۔اس میں درمیان کا راستہ یوں نکالا گیا کہ سلطان نے رقیہ بانو اور سلطان بیگم دونوں سے1774ء میںشادی کرلی۔ ایک تیسری شادی خدیجہ زماں بیگم سے ہوئی مگر سال بھر بعد ہی بچے کی پیدائش کے وقت اس بیوی کا انتقال ہوگیا۔انگریز مصنفین ایک چوتھی بیوی برانتی بیگم کے ہونے کی بات بھی کہتے ہیں مگر آزاد ذرائع اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ انگریزوں نے سلطان کو بدنام کرنے کے لئے یہ افسانہ بھی گڑھا تھاکہ اس کے حرم میں 333 عورتیں تھیں مگراس قسم کی باتیں اسے بدنام کرنے کے لئے پھیلائی گئی تھیں۔ حالانکہ تعدد ازواج، سلطان کے دور میں عام تھی اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سلطان اپنی سبھی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا اور حسن اخلاق سے پیش آتا تھا۔ اس کی نظر میں عام عورتیں بھی قابل احترام تھیں۔سلطان کا بھائی معذور تھا مگر اس کی بیوی کو انتہائی عزت واحترام کا مقام حاصل تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کے تئیں کس قدر ہمدردانہ رویہ رکھتا تھا۔انگریز مورخین کے مطابق سلطان کے 12 بیٹے تھے جب کہ8 بیٹیاں تھیں تاہم اس کی شہادت کے وقت اس کے پسماندگان میں ایک والدہ، ایک بیوی سلطان بیگم، بھائی کریم شاہ، اکلوتی لڑکی رقیہ بیگم اور سلطان بیگم سے پیدا ہونے والے بارہ صاحبزادے زندہ تھے۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *