وجئے روپانی نے’’ بدعنوان جنتا پارٹی عرف بی جے پی‘‘   کا نام روشن کردیا

وجئے روپانی نے’’ بدعنوان جنتا پارٹی عرف بی جے پی‘‘   کا نام روشن کردیا

ڈاکٹر سلیم خان

جمہوریت میں عام آدمی اچھے دنوں کی امید میں جیتا ہے لیکن اچھے دن انتخاب جیتنے والوں کے آتے ہیں  ۔ انتخاب ہارنے والوں کوعوام کی طرح  برے دنوں کا مزہ چکھنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ راہل یا لالو  جیسےحزب اختلاف کے رہنما عوام کے درمیان نظر آتے ہیں ۔ بدعنوانی میں سیاستداں  وہ دن رات ملوث رہتے ہیں لیکن کبھی کبھار پکڑے جاتے ہیں  اس طرح ان کے بھی  برے دن آجاتے ہیں۔ مودی  جی کے ابتدائی زمانے  میں کوئی بڑا گھپلا سامنے نہیں آیا اور وہ بار بار دعویٰ کرتے تھے کہ یہ کرپشن فری سرکار ہے لیکن گجرات کے انتخابات جیسے قریب آنے لگا یکے بعد دیگرے بدعنوانیوں کی جھڑی لگ گئی ۔ ابتداء جئے شاہ سے ہوئی ۔  اس کے بعد  شوریہ ڈوبھال کئی وزراء کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ۔یہ معاملہ سنبھلا نہ تھا کہ پیراڈائز پیپرس کے اندر  بی جے پی کے وزیر اور راجیہ سبھا کے کا نام آگیا اور اس کے بعد  وجئے روپانی پر سیبی نے جرمانہ لگادیا ۔ اتنے کم عرصے میں اتنے سارے گھپلے تو کانگریس بھی نہیں کرسکی تھی اس لیے ماننا پڑے گا کہ بی جے پینے کم ازکم نے بدعنوانی کے  معاملے میں کانگریس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

امیت شاہ بڑے عرصے تک اقتدار سے دور رہ کر عیش کرتے رہے لیکن راجیہ سبھا کے اندر قدم رکھنا ان کے لیے منحوس ثابت ہوا  ممکن ہے احمد پٹیل  کو ہرانے کی کوشش سے ان کے ستارے گردش میں آگئے  ہوں ۔ سب سے  ان کے بیٹے اجئے شاہ کی کمپنی کے کاروبار کا  ۱۶ہزار گنا بڑھنا اور پھر اچانک پراسرار انداز میں خسارہ کرکے بند ہوجانے والا حیرت انگیز انکشاف ہوا۔  اس معاملے میں مرکزی وزیر پیوش گوئل کی صفائی نے سوچھّ بھارت ابھیان کو بھی شرمندہ کردیا۔ اس میں جو کمی رہ گئی تھی اس کوایڈیشنل سولیسیٹر جنرل کو اپنا وکیل بناکرامیت شاہ نے پوری کردی۔ ایسا لگتا تھا ساری حکومت ایک بدعنوان کو بچانے کے لیے حرکت میں آگئی تھی ۔  جئے شاہ کے معاملے عدالت کے ذریعہ دی وائر کی جو زباں بندی کی گئی وہ نوٹ بندی سے بھی زیادہ خطرناک  سفاکی تھی۔

اجئے کے بعد اجیت ڈوبھال کے بیٹے شوریہ ڈوبھال کی دلیری سامنے آئی جو ملک کے سب سے طاقتور تھینک ٹینک  انڈیا فاونڈیشن کا کرتا دھرتا ہے ۔ اس نجی ادارے میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو ، وزیر دفاع نرملا سیتارمن، تجارتی اور صنعتی وزیر سریش پربھو، دو وزرائے مملکت جینت سنہا اور ایم جے اکبرکے نام شامل ہیں۔یہ لوگ اپنے پروگراموں کے لیےجن کمپنیوں سے اعانت لیتے ہیں  ان کا نام ظاہر نہیں کرتے لیکن تفتیش سے پتہ چلا کہ حکومت کے ساتھ تجارت کرنے والی بڑی کمپنیاں اس کو چندہ دیتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں ۔  ابھی ڈوبھال کا ڈھول بج ہی رہا تھا جنت سے پیراڈائز  پیپرس لیک ہوگئے ان میں بھی  بی جے پی کے وزیرجنیت سنہا کے علاوہ پارٹی کے ایک رکن پارلیمان روندر کشور سنہا کا نام نامی آگیا۔ اس انکشاف سے جینت سنہا نے ڈھٹائی کے ساتھ انکار کردیا اور بی جے پی نے انہیں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے کے لیے نوٹ بندی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کولکاتہ روانہ کردیا لیکن رویندر سنہا نے مون برت رکھ لیا۔ کسی بدعنوان کے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر مون برت کا سہارہ لینا گاندھی جی کی آتما کو پرسنّ چت کرگیا بی جے پی کو سب سے بڑا  جھٹکا گجرات میں لگا جہاں وزیر اعلیٰ بری طرح  پھنس گئے ۔

امیت شاہ کے منظورِ نظروجئےروپانی کی قیادت میں  فی الحال انتخابی زوروں پر ہے۔ایسے میں سیبی نےوزیراعلیٰ  کے ہندو یونائٹیڈ فیملی (ایچ یو ایف) اکاؤنٹ سمیت ۲۲ اداروں کو سارنگ کیمیکلس کمپنی کے ساتھ ’تجارت میں ہیر پھیر‘ کا قصوروار ٹھہرا کر بی جے پی کی شبیہ پر گدلا پانی پھیر دیا۔ اس بدعنوان جنتا پارٹی میں اگر تھوڑی بھی شرم ہوتی تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرتی یا اپنے وزیراعلیٰ روپانی کو نکال باہر کرتی لیکن اس کو اپنے اندھے بھکتوں پر مکمل  اعتماد ہے کہ وہ  کمل پر بدعنوانی کا کیچڑ دیکھ کر بھی پر مہر لگائیں گے باقی کام ای وی ایم مشین کردے گی۔  وجئے روپانی پر کسی سیاستداں یا اخبار نے الزام نہیں لگایا بلکہ سرکاری ایجنسی نے تحقیق کے بعد جرمانہ ٹھونکا ہے۔ سیبی کے جنرل منیجر رچنا آنند کا بیان ہے  کہ ’’نوٹس پانے والوں پر خلاف ورزی کا الزام ثابت ہو چکا ہے اور یہ سنگین خلاف ورزی ہے اس لیے ان پرسیبی قانون کی دفعہ ۱۵ ایچ اے کے تحت جرمانہ لگنا چاہیے۔‘‘ رچنا آنند کے اس جرأتمندانہ اقدام سے صاف ظاہر ہے کہ اب انتظامیہ میں  افسران کے دل سے  بی جے پی کا خوف نکل چکا ہے اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب ان اعلیٰ سرکاری افسران کو پتہ چل جائے کہ یہ سرکار اب جانے والی ہے۔

(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *