عوامی مسائل کاحل سیاسی جماعتوںکا منشور کیوں نہیں بنتا؟

عوامی مسائل کاحل سیاسی جماعتوںکا منشور کیوں نہیں بنتا؟

احسان احمد ندوی
جمہوریت بھی کیا ہی خوب ہے جس میں جہاں ایک طرف ایک کمزور شخص کو بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ترین کرسیپر فائز وبراجمان ہونے کا موقع ہاتھ لگ جاتا ہے وہیں اسی جمہوریت کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی ایکبڑے،عظیم المرتبت ،قدآوراور طاقتور شخص کو بھی پستی وگمنامی کو اپنے لئے قبول کرنا پڑتاہے۔ مثلاً آج یہ جمہوریت کی ہی دین ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان کے وزیراعظم جناب نریندر مودی جی جو کہ کسی زمانہ میں اپنے بچپن کے ایام میںگجرات کے کسی جگہ پر چائے بیچا کرتے تھے لیکن پھر ان کی قسمت نے کروٹ لی اور وہ بعد میں زینہ در زینہ ترقی وارتقاء کے منازل طے کرتے ہوئے ملک ہندوستان کے سب سے اعلیٰ ترین کرسی یعنی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوگئے اس میں کچھ ا ن کی قسمت کا بھی عمل دخل کہیںگے اور کچھ ان کی محنت ولگن کا بھی دخل ہے اب میں اس کے مزید گہرائی اور تہہ میںنہیں جاؤں گا ا گر میری ان باتوں سے کسی کو اختلاف ہو تو میں اس کیلئے معذرت۔
در اصل جس ملک کے ہم باشندے ہیں اور جہاں ہم اپنی زندگی کے شب وروز گزار رہے یہ ملک ہندوستان بہت ساری خوبیوں، تہذیبوں،اقدار اورروایتوںکی امین رہی ہے اور یہاں بھانت بھانت کے افراد اپنے ادیان ومذاہب کے مطابق اپنی خواہش کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اس ملک کے قوانین نے انہیں اس کی اجازت دے رکھی ہے ۔ ایسا پوری دنیا کے بہت ہی کم مملکوں یاشاید کہیں دوسری جگہ نہیں ملتی۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ہمارے ملک میں جو جمہوریت ہے اس میں ا علیٰ کرسی پر پہنچنے کیلئے ایک عمل سے سیاسی لیڈران کو گزرنا پڑتاہے اور اس عمل کا نام ہے الیکشن یا انتخاب جو کہ اس بڑے ملک میں تقریباً سالوں بھر کسی نہ کسی سطح پر ہوتے رہتے ہیں مثلاً کبھیپارلیمانی تو کبھی ریاستی تو کبھی بلدیاتی تو کبھی پنچایتی ودیگر۔
اخبار ورسائل اوذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے تمام افراد یہ ا چھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت ہمارے ملک ہندوستان کی دو ریاستوں،ہماچل پردیش اور خود وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست یعنی گجرات میںالیکشن ہونے کو ہیں جہاں کی عوام ا پنی ریاست کے لئے نئی حکومت کا انتخاب کرے گی اور وہ جس پارٹی کو چاہے گی زمام اقتدار سونپے گی۔ اگر ہم نظر ڈالتے ہیں ہماچل پردیش پر جہاں آج پولنگ ہو رہی ہے وہاں تو کبھی کانگریس تو کبھی بی جے پی کی حکومت چلتی رہی ہے اگر کبھی پریم کمار دھومل وزیر اعلیٰ کی کرسی پر قابض ہوئے تو کبھی ویر بھدر سنگھ۔ اسی وہاں کی سیاست چلتی رہتی ہے۔ لیکن ایک بات جو غور کرنے سے پتہ چلتی ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست کا معیار اب کافی پست ہوگیاہے بھلا ایک ملک کا وزیراعظم جو کہ ملک کی سب سے بِڑی کرسی پر فائز ہو وہ ایک ادنی ریاست کی کرسی لئے بر سراقتدار جماعت اور وہاں کے وزیراعلیٰ پر ایسے بے جا الزام لگائے اور یہ چلا چلا کر کہے کہ فلاں جگہ کوئی کام نہیں ہوا تو یہ اچھا نہیں لگتاہے۔ ابھی کچھ دن قبل وزیراعظم نے ہماچل پردیش میں کہا کہ ہماچل پردیش میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر کھل کر میدان میں نہیں آرہاہے یہاں بی جے پی کی آندھی چل رہی ہے اور گویاکہ یہاں مقابلہ یکطرفہ ہوگیا ہے ۔انہوںنے ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میدان چھوڑ کر بھاگ گئی ہے اور ہماچل مکمل طورسے بی جے پی کی حمایت میں کھڑا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں کانگریس نے لمبی مدت تک حکومت کی مگر یہاں تعلیم، پینے کے صاف پانی اوردیگر بنیادی سہولیات سے یہاں کے شہری محروم ہیں۔ مقامی مسئلو ںکو اٹھاتے ہوئے انہوںنے کہا کہ یہاں سیاحت کے بے پنا ہ امکانات ہیں اور اس کیلئے یہاں ریلوے، سڑِک اور ہوائی رابطہ میں ترقی بے حد ضروری ہے ۔لیکن کانگریسی حکومت نے اس سمت میں کو ئی کام نہیں کیا ہے۔ اگر ہمارچل میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو اونا ۔ ہمیر پور ریلوے لائن کا خواب بھی پورا ہوگا اور یہاں سڑک اور ہوائی سہولیات کو بھی مضبوط کیا جائے گا جس سے یہاں سیاحت کو فروغِ ملے گا۔ غریبوں اور نوجوانوںکو روزگار ملے گا اور ریاست کو بھی اقتصادی و مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ میری حکومت پورے ملک کی تیز رفتار ترقی کرنا چاہتی ہے اوراس کا فائدہ غریب نیز عام لوگوں کو پہنچانے کیلئے پرعزم ہے انہوںنے مزید کہا کہ میری حکومت نے ملک کو بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ سے بچانے کیلئے کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔
جہاں ایک طرف وزیراعظم نے یہ خوشکن باتیں ہماچل پردیش میں کہیں۔وہیں دوسری طرف ٹھیک اگر ہم اپوزیشن کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پر نظر ڈالیں اور ان کی باتوں کو سنیںتو پتہ چلاہے کہ ملک وزیراعظم کی قیادت میں کس سمت میں گامزن ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے جو کہ لوگوں کہ بقول اس وقت سیاست میں کافی بالغ النظر ہوچکے ہیں اور جب سے انہوںنے ا مریکہ کی کسی یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا اور مودی حکومت کی پالیسیوں پرسوالات کھڑیکئے اس وقت سے برسراقتدار بی جے پی کی نظر میں وہ کافی اہمیت حاصل کرچکے ہیں حالانکہ پہلے یہی بی جیپی والے انہیں پپو جیسے القاب سے نوازا کرتے تھے۔ اور بی جے پی ان کے مقابلہ اور ان کی باتوںکی کاٹ کے لئے ہر وقت کمر بستہ ہوچکی ہے اور اس نے گجرات میں وزراء کی ایک ٹیم کو اس بات پر مامور کررکھاہے کہ کیسے کانگریس اور اس کے نائب صدر راہل گاندھی کا مقابلہ کرناہے ۔اب وہاں اس نے اپنی خراب حالت نیز ہزیمت وپسپائی کو دیکھتے ہوئے بھاجپا صدر امت شاہ اور دیگر لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم قائم ہے جو گجرات میں گھر گھر جا کر گجرات اور مرکزی حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں لوگوںکو بتائے اورشمار کرائے گی اوران سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دینیکی درخواست کرے گی۔
در اصل ابھی کچھ دن قبل دلی میں کانگریس نائب صدر اہل گاندھی نے کہاکہ مودی مہنگائی روکیں ورنہ تخت خالی کریں اس طریقہ سے راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت یلغار کیا۔ مسٹر گاندھی نے ایندھن اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ پر لگام لگانے میں ناکام رہنے پر وزیراعظم نریندر مودی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیاہے۔ انہوںنے کہاکہ رسوئی گیس مہنگی ہورہی ہے ، راشن کے داموں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے اور وزیراعظم کھوکھلی تقریروں میں لگے ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ان دنوں مسٹر گاندھی نے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اور وہ حکومت کی نیتوں اورنیز پالیسیوں پر ہرروز سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو سیاست دانوں کے الزامات وجوابی ا لزامات ہیں لیکن حقیقتاً اس ملک میںا بھی جو مہنگائی ، بے روزگاری معیشت کی کساد بازاری کا جو ماحول ہے وہ کافی ناگفتہ بہ ہے۔ اس لئے ابھی ہونے والے کسی بھی ریاستی ا لیکشن میں وہاں کی عوام کو نہایت ہی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قیمتی ووٹوںکا استعمال کرنا چاہے اور سیاسی جماعتوں کے مکر وفرویب میں نہ آکر انہیں ایک ایسی حکومت کا قیام کروانا چاہئے جو عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد تصور کرے اوراس کے تمام مسائل کاصحیح حل تلاش کرے اوران کے لئے روزگار ، تعلیم، سہولیات نقل وحمل کے نئے نئے دروازے کھولے صرف چندبہترین تقریروں سے ا ب کام نہیں چلے گا بلکہ سیاسی جماعتوں کو عوامی فلاح وبہبود کیلئے اب کچھ کرنا ہوگا اور لوگوںکو ان کے لا متناہی مسائل و چیلینجز سے نجات دلانا ہوگاتب جا کر وہوسکتاہے کہ ایسی پارٹیاں کچھ دیر تک حکومت کر سکیں ورنہ پھر اگلی مدت کیلئے عوام اپنا فیصلہ لینے میں با اختیار وآزاد ہوگی اوروہ ایسی وعدہ خلاف سیاسی جماعتوںکو مزے بھی چکھا دے گی۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *