عہد حاضر کے سیاسی ’’آئیکان‘‘ ہیں مولاناابوالکلام آزاد

عہد حاضر کے سیاسی ’’آئیکان‘‘ ہیں مولاناابوالکلام آزاد

مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر خاص تحریر

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
آزاد بھارت میں بیشتر مجاہدین آزادی کو فراموش کردیا گیامگر مولانا ابولکلام آزاد کو نہیں بھلایا گیا۔ مولانا کے نام پر کانگریس عہد حکومت میں سڑکوں اور اسکیموں کے نام رکھے گئے۔ اسکولوں،کالجوں اور اداروں کے نام منسوب کئے گئے۔مرکز میں جب غیر کانگریسی سرکاریں آئیں انھوں نے بھی مولانا کو نظر انداز کرنے کی جرأت نہیں کی اور موجودہ بھگوا سرکار میں بھی مولانا آزاد کا نام زندہ رکھا گیا ہے حالانکہ مسلمان شخصیات اور مسلم عہد کی تاریخ اس کے نشانے پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ مولانا آزاد کو کیوں فراموش نہیں کیا گیااور کانگریس سے لے کر بی جے پی تک کیوں انھیں یاد رکھنے پر مجبور ہیں؟حالانکہ ان دنوں ایک چلن یہ بھی نکل پڑا ہے کہ دوسری پارٹیوں کے اعلیٰ رہنمائوں کو’’آئیکان‘‘ بنایا جارہا ہے اور اس معاملے میں سنگھ پریوار سب سے آگے ہے کیونکہ اس کے پاس مجاہدین آزادی اور عظیم شخصیات کی کمی ہے لہٰذا وہ ایسے لیڈران اور عظیم اشخاص کو اپنے پالے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے جن کا دور دور تک کبھی بھگوا خاندان سے رشتہ نہیں رہا اور انھیں میں ایک مولانا آزاد بھی شامل ہیں۔ایک مقابلہ سا چل پڑا ہے کہ کانگریس کے گاندھی بڑے ہیں یا بھاجپا کے؟ کس کے پٹیل بڑے ہیں اور کس کے چھوٹے؟ مولانا آزاد کا علمی اور سیاسی وارث کون ہے؟ نہرو کی وراثت صرف کانگریس تک محدود ہے یا دوسروں کو بھی اس پر حق جتانے کا اختیار ہے؟ ڈاکٹر امبیڈکر، صرف بہوجن سماج پارٹی کے ہیں یا ان پر کسی دوسری سیاسی پارٹی کا بھی حق بنتا ہے؟حالانکہ اس قسم کے سوالات کے پیچھے گھٹیا سیاست کے سوا کچھ نہیں۔ جن بونے سیاست دانوں کے پاس اپنا کچھ نہیں ہے اور نظریاتی اعتبار سے دیوالیہ ہیں انھیں لگتا ہے کہ وہ کچھ بت تراش کر اور ان کی پوجا کرکے خود کو بڑا ثابت کر سکتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ان بونے سیاست دانوں کے پاس اپنا کوئی قد نہیں ہے اور یہ مورتیوں کے سہارے بلندی کو چھونا چاہتے ہیں۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی ایک بڑے لیڈر گزرے ہیں جن کے نظریات نے ایک دنیا کو روشنی دکھائی اور اہنسا کا پیغام دے کر انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ تشدد سے زیادہ طاقت ور عدم تشدد کا ہتھیار ہے۔ گاندھی نے بے سروسامانی کے عالم میں جدوجہد کا راستہ دکھایا اوردنیا کو سمجھایا کہ اسلحے سے زیادہ خطرناک ہتھیار، آندولن ہے۔ آج اسی گاندھی کی وراثت کے لئے نیتائوں میں جنگ چل رہی ہے۔ وہ نیتا ،جن کا گاندھی کے افکار وخیالات سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ جو ان کے قاتل کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں آج وہ بھی ان کی حمایت کے دعویدار ہیں۔ خود گاندھی کی جماعت، کانگریس نے بار بار اقتدار کے لئے ان کے نظریات کا قتل کیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہی حال پٹیل ، آزاد اور نہرو کے ساتھ کیا جارہا ہے۔سنگھ پریوار بار بار گاندھی کے سیکولر نظریات کی مخالفت کرتا رہااور جس کے افکار ،گاندھی کی شہادت کا سبب بنے وہی آج گاندھی وادی، نظر آنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سنگھ پریوار گاندھی وادی ہے تو پھر گوڈسے وادی کون ہے؟ بی جے پی اگر مولانا ابولکلام آزاد کے نظریات کی علمبردار ہے تو پھر ان کی آئیڈیا لوجی کا قاتل کون ہے؟سردارپٹیل اگر سنگھ پریوار کے ہیں تو آرایس ایس پر پابندی لگانے والا کون تھا؟
وزیر اعظم نریندر مودی جن کا ماضی ہنسا اور تشدد دسے عبارت ہے اب ’’سوچھ بھارت ابھیان‘‘ میں گاندھی کی تصویر کا استعمال کر رہے ہیں ۔ یونہی سردار ولبھ بھائی پٹیل کو بھی وہ کانگریس سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ کانگریس خود جن لیڈروں کو بھلاچکی ہے ،اب وہ مودی کے خوف سے انھیں یاد کرنے لگی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کہیں کانگریس کے کچھ اور مہاپرشوں کو بھی مودی چھین نہ لیں۔ یہا ں لڑائی آئیڈیا لوجی کی نہیں ہے، ان کے نظریات کو اپنانے کی نہیں ہے بلکہ بتوں کی ہے۔ یہ علامتی بت بھارت کا کچھ بھلا نہیں کرسکتے مگر سیاسی پارٹیاں یہ دکھا سکتی ہیں کہ ان کے پاس بتوں کی کمی نہیں ہے،بس پرستاروں کی ضرورت ہے۔معروف کالم نگار ساگریکا گھوش نیتائوں کی اس چھینا جھپٹی پرطنز کرتی ہیں کہ اس ملک کے نیتا تاریخ پر لڑ رہے ہیں اور تاریخ سازی کر رہے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ مورخین، تاریخ نویسی کے لئے کافی نہیں ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ سنگھ پریوار نے اپنے اولین آئیکان مذہبی اساطیری داستانوں سے لئے تھے یا پھر مذہبی شخصیات سے مگر اب ضرورت ہے جیتے جاگتے سیاسی لیڈروں کی لہٰذااس نے کانگریس کے ان لیڈروں کو سامنے کرنا شروع کردیا ہے جو فراموش کئے جاچکے ہیں۔
سنگھ پریوار کے اپنے کچھ آئیکان رہے ہیں جن میں گروگولوالکر، ساورکر، ہیڈگیوار ، دین دیال اپادھیائے اور شیاما پرساد مکھرجی جیسے لوگ شامل ہیں مگر کچھ سال پہلے یہ دیکھ کر بہتوں کو حیرت ہوئی تھی کہ اس نے اپنا نیا آئیکان سوامی وویکانند کو بنالیا ۔ اس کے بعد سے اس کے تمام پوسٹروں، بینروں اور اسٹیجوں پر سوامی جی کی تصویریں نظر آنے لگیں۔ سوامی وویکانند کا تعلق مغربی بنگال سے تھا ۔ وہ خود ہندو تھے اور دنیا بھر میں ہندو مت کا پرچار کیا کرتے تھے۔ انھوں نے اصلی ہندازم کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور اس کی منفی تصویر کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ وہ ہندو ضرور تھے مگر ویسے ہندو نہیں تھے جیسے آرایس ایس والے ہوتے ہیں۔ وہ انسانیت میں یقین رکھتے تھے۔ امن و یکجہتی میں یقین رکھتے تھے۔ وہ ساری انسانیت کو ایک قوم سمجھتے تھے برخلاف سنگھ پریوار کے جو ہندوستانیوں میں ہی ایک دیوار کھڑا کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں کو تقسیم کرتا ہے۔ سوامی وویکانند اور آر ایس ایس کا ہندتو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے اور آج اگر وہ باحیات ہوتے تو کبھی اجازت نہیں دیتے کہ ان کی تصویروں کو سنگھ پریوار استعمال کرے۔ اسی طرح دوسری تاریخی شخصیات کو بھی سنگھ پریوار اپنے پالے میں لینے کے لئے کوشاں ہے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد اور سابق صدر جمہوریہ وسائنٹسٹ اے پی جے عبدالکلام بھی شامل ہیں۔
ملک کے اولین وزیر داخلہ اور کانگریس کے لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمات ملک کے اتحاد اور اس کی سرحدوں کو وسیع کرنے کے معاملے میں ناقابل فراموش ہیں۔ ان دنوں ان کی امیج کو بھی سنگھ پریوار ہائی جیک کرنے میں لگا ہوا ہے۔ پی ایم نریندر مودی نے گجرات میں ان کی عظیم مورتی لگانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے لئے پورے ملک سے لوہا اکٹھا کرنے کا انھوں نے اعلان کیا تھا اور اس کے لئے باقاعدہ طور پر ٹی وی چینلوں پر اشتہارات بھی جاری ہوئے تھے مگر الیکشن کے بعد وہ اس معاملے میں خاموش ہیں اور چین میں پٹیل کی مورتی بن رہی ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوئی تو گجرات میں دنیا کی سب سے اونچی مورتی نصب ہوگی۔ بہرحال جو لیڈران آئیکان کی چھین جھپٹ میں لگے ہیں ان کے پاس نظریات کی کمی ہے اور کام کرنے سے گریز کرتے ہیںاگر انھوں نے کام کیا ہوتا تو کام کے نام پر ووٹ پاتے نہ کہ بتوں کو دکھا کر۔
مولانا ابولکلام آزاد مجاہدآزادی تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی ماہ وسال جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گزارے تھے۔وہ کانگریس کے صدر رہے اور ہندوستان کے اولین وزیرتعلیم بھی بنے۔وہ ان شخصیات میں شامل ہیں جنھیں بی جے پی اپنے آئیکان بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ حالانکہ مولانا آزاد کی تصویر کو اس طرح سے استعمال نہیں کیا جارہا ہے جس طرح دوسری شخصیات کی تصاویر کا استعمال ہورہا ہے مگر انھیں سرکاری اسکیموں میں زندہ رکھا جا رہا ہے اور اقلیتوں سے جڑی یوجنائوں میں ان کا نام اب بھی باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً مولانا آزاد مائناریٹی فائونڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے جو مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت چلتا ہے۔ اس کے تحت اقلیتوں کو تعلیمی اسکالرشپ وغیرہ دیا جاتا ہے۔ اس ادارے کے نام کو اب تک نہیں بدلا گیا ہے جب کہ موجودہ سرکار نہرو،اندرا اور راجیو کے نام پر چلنے والے کئی اداروں اور اسکیموں کے نام بدل چکی ہے۔ بھاجپا کو اس لئے بھی ایک’’ مسلمان بت‘‘ چاہئے کیونکہ اس کی سیاست مسلم دشمنی کے سہارے چلتی رہی ہے اورپارٹی کے اندر مسلمانوں کو کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا گیا لہٰذا کوئی قابل ذکر مسلمان پارٹی میں ابھرا ہی نہیں۔ یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *