فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیامبر : مولانا آزاد

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیامبر : مولانا آزاد

فیروز بخت احمد
اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان کی آزادی اور ملک کی سا لمیت کے اس صدی کے سب سے بڑے موکّل مولانا آزاد ؔتھے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم لوگوں نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ ایک دلچسپ بات آپ کو بتادیں کہ جب مولانا آزاد ؒؔ کے مزار میں 1958سے لگے تالے کو کھولنے کے لئے ایک مقدمہ برائے فلاح عام یعنی عام پبلک کی بھلائی کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں چل رہا تھا تو دسمبر 2005میں جسٹس وجیندر جین صاحب نے پر زور الفاظ میں یہ کہا تھا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد ؒؔ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کے مزار کو مقفل کر کے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے مولانا آزادؒؔ کی قربانیاں مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو سے بھی بلند مرتبہ کی تھیں! اگر دہلی ہائی کورٹ کے ایک نامی گرامی جج کے منھ سے حضرت مولانا آزاؒؔ کے لئے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں تو آپ خود اندازہ لگ سکتے ہیں کہ کس قسم کے بلند و بالا انسان رہے ہوں گے وہ۔
مولانا آزادؒؔ کہ جن کا اصل نام محی الدین احمد تھا،ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔مولانا نے تخلص ’’آزاد‘‘اس خواہش کے زیر نظر رکھا تھا کہ ایک دن ہندوستان انگریزوں کے قید سے آزاد ہوگاتو وہ خود کو فخر کے ساتھ نہ صرف آزادکہہ سکیں گے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بتائیں گے کہ دیکھو بچپن سے ہی میں ملک کی آزادی کے لئے جدو جہد کر رہا تھا۔ ایک مولانا آزادؒؔ کی پیدائش 11نومبر 1888 میں مکہ معظمہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد مولانا خیر الدینؒ بن شیخ محمد ہادی ایک عالم دین اور صوفی پیر تھے۔ جب مولانا آزادؒؔ تقریباً 11سال کے تھے تو اپنے والد کے ساتھ ہندوستان چلے آئے اور کلکتہ میں بس گئے ۔ کلکتہ میں انہوں نے یوں تو کئی مکانات میں رہائش اختیار کی مگر آخر میں وہ اشرف مستری لین ، بالی گنج سرکلر روڈ میں ایک مکان کرایہ پر لے کر رہنے لگے جسے آج ’’مولانا آزاد میموریل‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہے کیونکہ اسے کلکتہ کے ایک ادارہ ’’مولانا ابوالکلام آزادانسٹی ٹیوشن آف ایشین اسٹڈیز‘‘ نے مرکزی حکومت و حکومتِ مغربی بنگال کی مدد سے ان کے نام میں محفوظ کرادیا۔ مولانا آزادؒؔ کی اس رہائش کو محفوظ کرانے میں جو لوگ پیش پیش رہے ،ان میں خاص نام ہیں : پروفیسر نورالحسن، جے۔ کے۔ رائے،اے۔کے۔ رائے، احمد سعید ملیح آبادی، پروفیسر مہاویر سنگھ، پروفیسر ایچ۔وی۔ مہادیون اور راقم الحروف۔ مولانا آزادؔؒ کی تین بڑی بہنیں یعنی خدیجہ بیگم، فاطمہ بیگم آرزوؔ، حنیفہ بیگم آبروؔ اور ایک بھائی مولانا غلام یٰسین ابوالنصر آہؔتھے۔ مولانا اپنے خاندان میں سب سے چھوٹے تھے۔ بہنوںمیں سب سے بڑی خدیجہ بیگم تھیں جن کا انتقال 1943میںہوا۔ دوسری فاطمہ بیگم تھیں جن کا انتقال 1966میں ہوا ۔ تیسری بہن حنیفہ بیگم کا انتقال بھی 1943میں ہوا۔بھائی غلام یٰسین کا انتقال 1906میں ہی ہو گیا تھا۔ مولانا کی طرح ان کے سبھی بہن بھائی عالم و فاضل ، مفکر اور مصنف تھے ۔ چونکہ خود مولانا آزادؒؔ بہت کم عمر میں عالمی شہرت یافتہ مصنف و عالم بن چکے تھے ، ان کے بہن بھائی وہ شہرت حاصل نہ کر سکے جو ان کے بھائی مولانا آزادؒؔ کو حاصل ہوئی ۔
مولانا آزاد کی ذات میں قدرت نے بیک وقت بہت سی خصوصیات جمع کر دی تھیں۔ وہ عالم دین بھی تھے۔ اور مفسر قرآن بھی۔ وہ خطیب بھی تھے اور مفکر بھی، وہ مدیر بھی تھے اور دانشور بھی۔ وہ ایک سیاستداں بھی تھے اور صحافی بھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی کونسی خصوصیت باقی تمام خصوصیات پر حاوی تھی۔
جدو جہد آزادیِ ہند کی تاریخ میں جو سب سے اہم بات یاد رکھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد ؒ ؔ ملک کے بٹوارا سے قبل اور اس کے بعد وہ واحد شخصیت تھے کہ جنہوں نے ملک کی تقسیم کے لئے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ یہاں تک کہ گاندھی جی اور نہرو آخر میں تقسیم کے لئے راضی ہوگئے مولانا آخر تک ایک مضبوط چٹان کی طرح اڑے رہے۔ اپنی تصانیف میں مولانا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامیابی یہ تھی کہ وہ تقسیم کو نہ روک سکے۔
ہندوستان کے رہنماؤں میں بہادر شاہ ظفرؒ کے بعد مولانا آزاد ؒؔ واحد ایک ایسے لیڈر تھے کہ جنہوں نے آزادیِ ہند کے لئے ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکیا ہو۔یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مولانا آزاد ؒؔ نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے قرآنی آیات وہدایات کی وکالت بھی کی تھی۔ وہ انتہائی زور دے کر کہا کرتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کی نشاندہی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے وا قعات زندگی میں نمایاں طور پر موجود ہے ۔یہ کارنامہ ان کی زندگی کا عظیم ترین کارنامہ کہاجاتا ہے ۔ ہم لوگوں کے ساتھ در اصل پریشانی یہ ہے کہ ہم مولانا کو سمجھے بغیر ہی ان کا احترام کرتے ہیں۔
مولانا آزادؒؔ نے صرف 15برس کی چھوٹی سی عمر میں درس نظامیہ جیسے اہم و معتبر اور محققانہ نصاب تعلیم کی پڑھائی مکمل کی تو تمام دنیا ان کی دانشورانہ صلاحیتوں پر حیران رہ گئی۔ 1906 اور 1915 کے درمیان مولانا آزادؒؔ بطور ایک مضمون نگار ، ادیب و مصنف اور محقق بن کر نمودار ہوئے ۔ مسلمانان ہند کو انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں شامل کرنے کی غرض سے انہوں نے 1912میں کلکتہ سے ’’الہلال‘‘ نام کا اخبار جاری کیا۔انگریزوں نے جب دیکھا کہ یہ اخبار ہندؤں اور مسلمانوں کے دل ملا کر کام کر رہا ہے تو انہوں نے اسے بند کر دیا۔ اس کے بعد مولانا نے ’’البلاغ‘‘ جاری کیا جسے 1916 میں انگریزوں نے پھر بند کر دیا ۔
آج کچھ لوگ ہندؤوں اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لئے اکثر ایک بحث چلا دیتے ہیں کہ آپ مسلمان پہلے ہیں یا ہندوستانی ۔ اس کا جواب مولانا نے بڑ ااچھا دیا تھا۔ مولانا کی مشہور تقریر جس سے ان کے دل مین اسلام اور ہندوستان دنوں سے محبت کا اظہار ہوتا تھا گاندھی جی کو بہت پسند تھی جس میں مولانا نے کہا تھا ’’میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں،اسلام کی تیرہ سوبرس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں ۔ میں تیار نہیں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں۔ اسلام کی تعلیم ، اسلام تاریخ اسلام کے علوم و فنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں۔ لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے۔ میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں، میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحد قومیت کا ایک عنصر ہوں۔‘‘
مولانا نے خود اپنے بارے میں پارلیمنٹ میں پرشوتم داس ٹنڈن کی ایک تقریر کے جواب میں کہا تھا کہ ’’میری پوری زندگی ایک کھلی کتاب ہے… میں بے غرض ہوں اور جو بے غرض ہوتا ہے۔ بے پناہ ہو جاتا ہے۔ آپ سمجھے ! بے پناہ کون ہوتا ہے… بے پناہ وہ ہوتا ہے۔ جسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی۔‘‘
تقسیم وطن اور اس کے بعد کے وحشیانہ فسادات سے اس عظیم رہنما و مفکر کی زندگی کو ویران بنا دیا گیا مگر باوجود اندرونی طور پر اُجڑ جانے کے بعد انہوں نے آزاد مگر جغرافیائی طور پر منقسم ہندوستان میں تعلیم، سائنس، اور ثقافت کی بحالی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
آزادی کے بعد بھی مولانا آزاد نے تعلیم و ثقافت کے لئے بڑا کام کیااور بہت سے ادارے کھولے جیسے ساہتیہ اکادمی، نرتیہ ناٹیہ کلا اکادمی، آئی۔ سی۔ سی۔ آر۔ وغیرہ۔جہاں تک مولانا تقسیم ہند سے قبل پاکستان کے قیام کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، تقسیم کے بعد پاکستان کے بارے میں انہوں نے منکسرالمزاجی کے ساتھ کام لیا اور اور صحافیوں سے یہی کہا کرتے تھے کہ اب چونکہ پاکستان کا قیام عمل میں آگیا ہے، ان کی خواہش یہی ہے کہ وہ پھلے پھولے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ اس سلسلہ کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ قائد پاکستان محمد علی جناح مرحوم نے آخر میں اپنی غلطی کا اقرار و احساس کر لیا تھا اور وہ اپنے آخری دنوں میں دلی آکر پنڈت نہرو سے گفتگو کے خواہش مند تھے مگر موت نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی اور ادیب ہندوستان کے از سر نو متحد ہونے کا خواب پارہ پارہ ہو کر رہ گیا۔
مولاناآزادؒؔ کی موت انہتائی مفلوک الحالی اور کسمپرسی کے حالات میں ہوئی ۔ انہوں نے محض چند شیروانیاں ، کتابیں اور ’’انڈیا وِنس فریڈم‘‘کی رائیلٹی ہی ورثہ میں چھوڑی۔ 22فروری 1958کو جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی چھوڑی ہوئی رقم محض چار ہزار تھی جب کہ وہ لوگ کہ جن کی مولانا اکثر امداد کیا کرتے تھے اور جو مولانا سے جھوٹی رشتہ داری کے دعوے کیا کرتے تھے، ا ن کی دولتوں کے ٹھکانے نہ رہے۔یو این این




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *