دیوبند: شہرعلم وادب دیوبندواطراف کی اہم خبریں

دیوبند: شہرعلم وادب دیوبندواطراف کی اہم خبریں

یوم اردوکے موقع پراردوصحافیوں کوفخرصحافت ایوارڈ سے نوازاگیا
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی؍بی این ایس)
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے یوم اردو کے موقع پر دیوبند کے پانچ اردو صحافیوں کو ’’فخر صحافت ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا، ایوارڈ ملنے پر یہاں کے صحافیوں اور ادیبوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرگنائزیشن کی جانب سے اردو صحافیوں کو جو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور جو حوصلہ افزائی کی گئی ہے وہ ایک اچھا قدم ہے ،تفصیل کے مطابق یوم اردو کے موقع پر ضلع مظفر نگر کے رحمت نگر میں واقع آئی پی ایس کڈس میں منعقدہ پروگرام میں دیوبند کے اردو صحافی اشرف عثمانی،رضوان سلمانی،عارف عثمانی،چودھری سمیر کو ’’فخر صحافت‘‘کے اعزاز سے نوازا گیا ۔اردو صحافیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے یوم اردو کے موقع پر دیوبندکے اردو صحافیوں کو ’’فخر صحافت ایوارڈ ‘‘سے نواز کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے اور اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا یہ قدم لائق تحسین اور قابل مبارکباد ہے ۔اس سے ان کے اندر سچ بولنے اور سچ لکھنے کا حوصلہ پیدا ہوگا اور ان کے عزائم میں پختگی آئے گی ۔تنظیم علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے بھی اعزاز ملنے پر اردو صحافیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آپ کو چاہئے کہ اپنے مشن میں مستقل مزاجی کے ساتھ لگے رہیں اردو صحافت انقلابی صحافت ہے اس کے ذریعہ ہم جرائم اور معاشرہ میں پھیلی گندگیوں کی صفائی کرتے ہیں امید ہے کہ آپ اپنے سچائی کے سفر کو عزم وہمت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور اردو صحافت کا یہ سفر جو ایک صدی زائد سے جاری ہے وہ اسی آب وتاب اور صدق وصداقت کے ساتھ جاری رہے گا ۔ماضی روشن تھا حال اطمینان بخش ہے مستقبل بھی تابناک ہو یہی میری دلی تمنا ہے ۔ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مصنف مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ دیوبند کے اردو صحافیوں کو یہ اعزاز ملنا ان کے ایماندارانہ صحافت کی دلیل ہے انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کی جدوجہد محنت لگن اور صاف ستھری صحافت ہی ان کی پہچان ہے انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف لکھا ہے او رمظلوم کا ہر جگہ پر ساتھ دیا ہے یہی ان کی شناخت ہے ۔معروف قلمکار وادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے ایوارڈ ملنے پر اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضروری ہے کہ جو لوگ اخلاص کے ساتھ اردو ادب وصحافت کی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی قدر دانی ہو ،موجودہ وقت میں کاروان اردو کے جتنے بھی ممبر ہیں وہ لائق تحسین ہیں کہ وہ مخالف ہوائوں میں اردو کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں ،اردو صحافت آج جس عروج پر ہے وہ ایسے ہی اخلاص پیشہ لوگوں کی بنا پر ہے ۔میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان کی زندگی میں ایسی منزلیں اور ایسے مواقع اور بھی آئیں ۔ادیب وشاعر ڈاکٹر شمیم دیوبندی نے کہا کہ قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جو آج کے دور میں اردو کی پاسبانی کررہے ہیں یہ اشخاص جن کو یہ ایوارڈ ملا ہے خاص طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ یہ ایک لمبے وقت سے اردو کی خدمت کو انجام دے رہے ہیں ہماری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔مظفر نگر میں منعقدہ گذشتہ کل کے پروگرام کے مہمان خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے کہا کہ اردو صحافی موجودہ حالات کے باوجود بھی اردو زبان کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔اردو صحافت کا دائرہ محدود ہونے کی وجہ سے بھی وہ اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اردو صحافی اپنی محنت کی طاقت پر اردو تحریر سے معاشرہ کے ہر طبقے کو متعارف کرانے کا کام کررہے ہیں ،یہ ان کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ موجودہ وقت میں بھی اردو صحافت کا وجود قائم ہے ،نومنتخب جج انجم سیفی نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لئے سبھی کو متحد ہوکر اہم کردار ادا کرنا چاہئے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو اردو کی تعلیم دینے کے ساتھ ہی ان کے دلوں میں اردو زبان کے تئیں محبت پیدا کرنے کا کام کریں۔اردو صحافیوں کو فخر صحافت ایوارڈ ملنے پر یہاں کے صحافیوں میں بھی خوشی کا ماحول ہے دیوبند پریس ایسوسی ایشن کے صدر منوج سنگھل ،جنرل سکریٹری دیپک شرما،اترپردیش پریس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اندر پال سنگھ سیٹھی،اطہر عثمانی،آباد علی شیخ،ایم افسر ،معین صدیقی،وسیم عثمانی،مشرف عثمانی،آفتاب ملک،فہیم عثمانی،کھلندر گاندھی،پنٹو شرما،فروز خان،نوشاد عثمانی،شہزاد عثمانی،شبھم جین،پرشانت تیاگی،ریاض احمد،تسلیم قریشی،متین خان وغیرہ نے بھی مبارکباد پیش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارف صدیقی نے چیئرمین عہدہ کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
بلدیاتی انتخابات کی پرچہ نامزدگی کے آخری دن جہاں چیئرمین عہدے کے لئے امیدواروں نے اپنے دوسرے سیٹ بھی جمع کرائے ، حالانکہ آج تمام تام جھام کے ساتھ پرچہ نامزدگی کرانے کے بعد بھی بی جے پی اور بہوجن سماج وادی امیدواروں سمیت 7امیدواروں نے چیئرمین عہدوں کے لئے پرچہ نامزدگی کرائی جب کہ وارڈ ممبران نے بھی مختلف وارڈوں سے 219نے اپنے پرچے داخل کئے ۔ تفصیل کے مطابق آج بلدیاتی انتخابات کے پرچہ نامزدگی کے آخری روز تک چیئرمین عہدے کے لئے 15امیدواروں نے پرچے داخل کئے وہیں دیوبند کے 25وارڈوں سے 219وارڈ ممبران نے اپنے پرچے جمع کرائے ۔ آج چیئرمین عہدے کے لئے بہوجن سماج پارٹی کے ضیاء الدین انصاری، بی جے پی کے ڈاکٹر مہندر سنگھ سینی، آزاد امیدوار سلیم قریشی، جمال الدین، نوشاد، مرسلین اورعثمان نے چیئرمین عہدے کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کئے۔ وارڈ نمبر ایک سے 5تک 39چھ سے 10تک 59گیارہ سے 15تک 51سولہ سے 20تک 39اور 21سے 25تک 32امیدواروں نے اپنے اپنے وارڈ سے پرچے جمع کرائے ۔ وارڈ ممبران میں خاص طور پر منوج سنگھل، پردیپ سنگھل، عارف صدیقی، جنید الٰہی، امجد الٰہی، بلبیر سینی، سید حارث، فیضان قریشی، معین صدیقی، رجنی شرما، سردار بالیندر سنگھ، راگھوندر کنسل وغیرہ کے نام شامل ہیں، اس دوران ایس ڈی ایم رام ولاس یادو نے بتایا کہ ہفتہ کو پرچوں کی جانچ ہوگی اور پیر کے روز نام واپسی لئے جاسکیں گے۔ اس موقع پر سابق رکن پالیکا عارف صدیقی نے کہا کہ اس مرتبہ کا بلدیاتی انتخابات بڑے اہم ہیں ، اگر وارڈ کے افراد نے انہیں ایک مرتبہ پھر خدمت کا موقع دیا تو وہ اپنے وارڈ میں ترقیاتی کام کرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف دارالعلوم کا علاقہ پچھڑا ہوا ہے اور ان کا مقصد علاقہ کے لوگوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں اس علاقہ کے لوگوں کا استحصال محکمہ بجلی کی جانب سے مسلسل کیا گیا ، اسی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں بجلی ، پانی، سڑک اور راشن کارڈ جیسے مسائل سے لوگ پریشان ہیں ان کی تمام ضروریات اور مسائل کو وہ پورا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ نامزدگی کے دوران فہیم نمبردار، حاجی ریحان الحق، جمشید انور، ندیم صدیقی، راہی عثمانی، اقبال انصاری، خالد حسن، قاضی نفیس احمد، چاند میاں، خورشید خان، راحت خلیل، انوار صدیقی کے علاوہ علاقہ کے سرکردہ افراد شامل رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شراب مافیاپولیس کی گرفت میں
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
بلدیاتی انتخا ب کے مد نظر ناجائز شراب کے خلاف شروع کی گئی مہم کے تحت دیوبند پولیس نے آدھا درجن گائوں میں چھاپہ ماری کی ، چھاپہ ماری کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں ناجائز شراب اور شراب میں استعمال ہونے والے سامان برآمد کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق دیوبند کے قریبی گائوں چندینا کولی ، عبداللہ پور، باستم، راستم، کرنجالی وغیرہ میں پولیس نے ناجائز شراب کے خلاف مہم کے تحت چھاپہ ماری کی ، چھاپہ ماری کی اس کارروائی سے غیرقانونی طریقے پر شراب تیار کرنے والے افراد میں افراتفری مچ گئی، پولیس نے مہم کے دوران مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں کچی شراب، لہن اور شراب بنانے کے سامان برآمد کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ گائوں چندینا کولی کے شراب تیار کرنے کی بھٹی بھی برآمد کی گئی ہے۔ پولیس نے شراب بنانے کے الزام میں راجیش ساکن چندینا کولی ، بٹو، پرڈ اور ببلو ساکن عبداللہ پور کو گرفتار کیا ہے ۔ واضح ہو کہ بلدیاتی انتخاب کی وجہ سے علاقہ میں ناجائز شراب کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ سی او سدھارتھ سنگھ نے بتایا کہ غیرقانونی شراب کے خلاف آگے بھی یہ مہم جاری رہے گی ، گرفتار لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کرکے جیل بھیجنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوگی حکومت خواتین آنگن باڑی ملازمین سے لاپرواہی برت رہی ہے
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
خواتین آنگن باڑی ملازمین تنظیم کی صدر پارل رائے نے کہا کہ ریاست کی یوگی حکومت کو خواتین آنگن باڑی ملازمین کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے ، ملازمین کی جانب سے اپنے مطالبات کو لے کر گزشتہ 18روز سے ضلع ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے لیکن حکومت وانتظامیہ اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے پیر سے دیوبند میں بھی دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی ٹی روڈ پر واقع بلاک دفتر پر منعقدہ تنظیم کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو خواتین ملازمین کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور ان کے مطالبات پر کوئی توجہ حکومت اور انتظامیہ نہیں دے رہی ہے ، انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود آنگن باڑی ملازمین اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ پارل رائے نے کہا کہ آنے والے پیر سے دیوی کنڈ احاطے میں دیوبند بلاک کی سبھی ملازمین اپنے مطالبات کو لے کر دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ اس موقع پر برکھا رانی، نیلم، گلستاں، راج کلی، سنیتا، ببیتا وغیرہ موجود رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سماجی تنظیم مانوکلیان منچ کے زیراہتمام غریبوں کے درمیان کھانے کی اشیاء تقسیم
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
سماجی تنظیم مانو کلیان منچ کے زیر اہتمام شہر کی بیوہ اور بے سہارا خواتین کو کھانے کی اشیاء تقسیم کیں، مجنوں والا روڈ پر واقع ایک اسکول احاطے میں منعقدہ پروگرام میں مہمان خصوصی ڈاکٹر کانتا تیاگی نے کہا کہ بھوکوں کو کھانا کھلادینے سے بڑا کوئی ثواب نہیں ہے ، منچ کے ذریعہ اس طرح کے کام کئے جانے پر اس کے عہدیداران مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ستیش گردھر نے کہا کہ کوئی بھی شخص یہاں پر رہنے والا نہیں ہے سبھی کو یہ دنیا چھوڑ کر جانی ہے اس لئے ہمیں سبھی بے سہارا لوگوں کی مدد کے لئے ہمیشہ آگے رہنا چاہئے۔ منچ کے بانی ارون اگروال نے کہا کہ غریب اور بے سہارا کی خدمت کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور ہمارا منچ اس کے لئے ہمیشہ کام کرتا رہتا ہے، منچ کے صدر شیوکمار ورما نے کہا کہ تقریباً 20سالو ں سے منچ کے ذریعہ برابر عوام کے مفاد کے لئے کام کئے جارہے ہیں ، اس موقع پر شہر کی بے حد غریب اور بیوہ خواتین کو آٹا، چاول، دال، نمک، راجما، مرچ مسالہ وغیرہ کی تقسیم کی گئی۔ اس دوران راجیو شرما، راجیش سینی، پرمود متل، نریندر بنسل، پروین گویل، راجو سینی، راج کمار شرما، چندر پرکاش، راج کمار جاٹو، شیام چوہان وغیرہ موجود رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقبرہ کے پردھان کوزخمی کیا
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
تحصیل دفتر پر جارہے دیوبند کے قریبی گائوں مقبرہ کے پردھان کو چار افراد نے دیوبند کوتوالی کے سامنے ہی حملہ کرکے زخمی کردیا،الزام ہے کہ مذکورہ افراد نے رنجش کے سبب اس پر حملہ کیا ، پولیس نے ملزمان کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مذکورہ تفصیل کے مطابق مقبرہ گائوں کے پردھان ببلو کمار موریہ نے دیوبند کوتوالی میں تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ ریلوے کی زمین جانے کے سلسلہ میں وہ آج تحصیل دفتر جارہا تھا، جب وہ کوتوالی کے نزدیک پہنچا تووہاں پہلے سے ہی موجود ہاشم پورہ گائوں کے رہنے والے ساجد ، اسرار اور عثمان نے اسے راستے میں روک لیا اور گائوں کے راشن کوٹے کو لے کر چل رہے تنازعہ میں شامل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ گالی گلوچ کرنی شروع کردی، الزام ہے کہ جب اس نے اس کی مخالفت کی تو مذکورہ افراد نے اسے نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اس کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی جس میں وہ زخمی ہوگیا، اس دوران وہاں جمع ہوئے افراد کی بھیڑ نے مخالفت کی تو ملزمان جان سے مارنے کی دھمکی دے کر فرار ہوگئے۔ اس دوران پردھان فریق کے لوگوں نے دیوبند کوتوالی میں ہنگامہ آرائی بھی، بعد میں پولیس نے کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہیں خاموش کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹرریڈرکوبجلی چوری روکنے کی ذمہ داری
دیوبند 10؍نومبر (رضوان سلمانی)
علاقہ میں کام کرنے والے تقریباً ایک درجن سے زائد میٹر ریڈروں کو بجلی چوری روکنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہیں جس کے سبب وہ اب ریڈنگ لینے کے ساتھ صارفین کے کنیکشن اور علاقہ پر نظر رکھیں گے اور ان کی پوری تفصیل رجسٹر میں درج کرکے خود سے محکمہ بجلی کے افسران کو آگاہ کرائیں گے ۔ آج ریلوے روڈ پر واقع بجلی کے دفتر پر منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ایک سی این راج پال سنگھ ، روی ونشی نے کہا کہ سرکار اور محکمہ کی منشا ء کے مطابق بجلی چوری پر قدغن لگانے کے لئے برابر مہم چلائی جارہی ہے جس سے کافی حد تک بجلی چوری پر قدغن لگ گیا ہے ، پھر سے بجلی چوری نہ ہو اس کے لئے علاقہ کے سبھی میٹر ریڈروں کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کے تحت وہ اب میٹروں کی ریڈنگ لینے کے ساتھ ساتھ صارفین کے بجلی کنکشنوں پر نظر رکھیں گے کہ بل میکر اضافی کیبل منظور شدہ لوڈ سے زیادہ استعمال اور گھریلو کنکشن کا کمرشیل میں استعمال ہونے وغیرہ کی معلومات وہ رجسٹر میں درج کریں گے اور اس سے محکمہ کو آگاہ کرائیں گے ۔ میٹنگ میں افسران ملازمین کو ایمانداری سے کام کرنے کے لئے بھی کہا گیا ۔ انہوں نے بجلی چوری روکنے کے لئے احکامات بھی دیئے گئے۔ ایس ڈی او امت کمار تیاگی، ستیہ پرکاش، محمد ذیشان، پرشانت، سدھیر کمار، کلدیپ سنگھ وغیرہ موجود رہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *