کروڑوں روپیے پھرکیوں خرچ کرکے بربادکیے گئے

کروڑوں روپیے پھرکیوں خرچ کرکے بربادکیے گئے

توانائی وزراء کی کانفرنس ملتوی ہونے پر نتیش پر بھڑکے لالویادو
پٹنہ،10؍نومبر (بی این ایس )
مرکزی حکومت نے پورے ملک کے توانائی کے وزراء کی کانفرنس ملتوی کر دی، اس کے وجوہات پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔یقینی طور پر مرکزی حکومت کے فیصلے سے نتیش حکومت خوش نہیں ہے، لیکن حکومت چلانے کے لئے ان کے پاس مجبوری ہے، مگر اپوزیشن کے پاس کوئی مجبوری نہیں ہے۔لالو یادوکے جذبات سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔بہار کے نالندہ ضلع کے راجگیر میں جمعہ سے ہونے والی ملک کے توانائی کے وزراء کی میٹنگ اچانک منسوخ کئے جانے سے لالو نے نتیش سے پوچھا کہ کیوں اتنا بڑا پروگرام ملتوی کیا گیا جواب دو۔آر جے ڈی سپرمو لالو پرساد نے کہا کہ نتیش اس مسئلے پر کریڈٹ نہ لے لے لہٰذا وزیر اعظم نے پروگرام کو ملتوی کر دیا۔لالو نے مزید کہا کہ توانائی کے وزیر آر کے سنگھ پی ایم کے ساتھ مصروف ہیں تو وہ ایک دن پہلے بھی ہوکربھی آسکتے تھے۔ملک بھر کے توانائی وزراء کی دو روزہ میٹنگ آخری وقت میں منسوخ کئے جانے سے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد ناراض ہیں۔انہوں نے نتیش حکومت پر زور دار حملہ بولا۔لالو نے کہا کہ نتیش حکومت میں صرف گھوٹالہ ہو رہا ہے اور سرکاری پیسوں کا بندر بانٹ کیا جا رہا ہے۔لالویادونے یہ بھی کہا کہ آج تو وزیر اعظم کی کوئی میٹنگ بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے لئے کروڑوں خرچ کئے گئے ہیں۔کئی ریاستوں کے توانائی کے وزیر بھی پہنچ گئے تھے۔پھر بھی اس پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا، اس کے لئے کون ذمہ دار ہوں گے۔لالو نے کہا کہ اچانک سے دہلی میں کابینہ کا اجلاس بلا لیا جاتا ہے اور اتنے بڑے انعقاد کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔اس پروگرام میں سونو نگم جیسے بڑے آرٹسٹ بک کیا گیا تھا، وہ تو پیسے لیں گے ہی۔وہ چھوڑ یںگے تو نہیں ۔فالتو پیسوں کو برباد کر کے بہار میں لوٹ مچا رکھی ہے۔غور طلب ہے کہ بہار کے نالندہ ضلع کے راجگیر میں جمعہ سے ہونے والی اس میٹنگ کی صدارت وزیر توانائی آر کے سنگھ کرنے والے تھے۔انہیں مرکزی کابینہ کے اجلاس میں حصہ لینا ہے۔بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے مرکزی کابینہ اور کابینہ کے اجلاس بلایا ہے۔دوروزہ کانفرنس میں بجلی اور قابل تجدید توانائی سے وابستہ مختلف منصوبوں اور پروگراموں کے نفاذ کا جائزہ اور متعلقہ معاملات پربات چیت کی جانی تھی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *