مودی اور بی جے پی کے ڈگمگاتے قدموں کو

مودی اور بی جے پی کے ڈگمگاتے قدموں کو

رام مندر طلاق ثلاثہ کا سہارا
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
ایک نہیں دوپھلجھڑیاں چھوڑی گئی ہیں ۰۰۰
اور عین اس موقع پر جب گجرات کے اسمبلی الیکشن ہونے ہیں ۔۔۔ ایک پھلجھڑی تو طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کی ہے اور دوسری پھلجھڑی ہے ایودھیا میں صرف اور صرف رام مندر کے قیام کی ۔ ویسے پارلیمنٹ میں طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کا اعلان آج کے دنوں میں ، جبکہ بی جے پی کے پیروں تلے زمین کھسکتی جارہی ہے اور مودی کا سارا ’ کرشمہ ‘۔۔۔ جو ویسے بھی بناوٹی ہے ۔۔ مفقود ہوتا جارہا ہے، کوئی بہت اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔۔ بی جے پی کس قدر پریشان ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا اور ایک ہی نشست کی تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا تب عدالت عظمیٰ نے حکومت سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ چاہے تو ایک ہی نشست کی تین طلاقوں کے تعلق سے قانون سازی کرسکتی ہے ۔۔۔ مودی سرکار نے اس وقت طلاقِ ثلاثہ پر کسی بھی طرح کا نیا قانون بنانے سے انکار کردیا تھا۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے واضح لفظوں میں یہ کہا تھا کہ چونکہ ججوں کی اکثریت نے ایک ہی نشست کی تین طلاقوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا ہے لہٰذ ا یہ فیصلہ اپنے آپ میں کافی ہے اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو خانگی تشدد سے متعلق قوانین کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ لیکن اب مودی سرکار نے اچانک ہی طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کا اعلان کرکے اپنے پہلے کے فیصلے کو ازخود رد کردیا ۔ خیر یہ سرکار ’پلٹو‘ کہلاتی ہے اور نہ جانے کتنے فیصلے اس نے کئے اور واپس لئے ہیں ۔ لیکن بات صرف یہی نہیں ہے ،قانون سازی کا یہ اعلان بی جے پی کی گجرات اسمبلی الیکشن میں پل پل بدلتے حالات پر گہری گھبراہٹ کا واضح ثبوت ہے ۔
مودی سرکار کے پیروں تلے سے زمین ہل گئی ہے ۔ نریندر مودی نے فرقہ پرستی کی بنیادوں پر اپنا محل تعمیر کیا تھا لیکن دعوے یہ کئے تھے کہ ان کی سرکار ملک کو ترقی کی ان منزلوں تک لے جائے گی جہاں تک ملک کو کوئی بھی سرکار نہیں لے جاسکی ہے ، یہ دعویٰ تو خیر پورا نہیں ہوا الٹا انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے ملک کو تنزلی کی سمت گامزن کردیا ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وہ طبقہ جو ۲۰۱۴ء میں مودی کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا تھا ان سے سخت ناراض ہے ۔ دلت، پچھڑے اور کسان اب مودی سرکار کے دعوے اور وعدے کو دیوانے کی بڑسمجھنے لگے ہیں ۔ رہی دیگر اقلیتیں مثلاً مسلمان اور عیسائی وغیرہ تو وہ ویسے بھی بی جے پی کی ستائی ہوئی ہیں ۔۔۔ لہٰذا اب مودی سرکار دوبارہ فرقہ پرستی کا کارڈ کھیل رہی ہے ۔
طلاقِ ثلاثہ پرقانون سازی کا اعلان مودی سرکار کا ایک’ سیاسی پانسہ‘ ہے ۔یہ پانسہ گجرات الیکشن کو مدّنظر رکھ کر پھینکا گیا ہے ۔ مگر چونکہ قانون سازی نہ ایک دن میں ہوتی ہے اور نہ ہی ایک سیشن میں اس لئے فوری طور پر گجرات اسمبلی الیکشن کا فائدہ اٹھانے کے لئے بابری مسجد کی جگہ’ ’ صرف اور صرف رام مندر کی تعمیر ہی ہوگی‘‘ کا پانسہ بھی پھینک دیا گیا ۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے نہ ہی عدالت میںبابری مسجد؍ رام جنم بھومی معاملے کی سماعت کا لحاظ رکھا اور نہ ہی انہوں نے یہ سوچ کر اپنی زبان بند رکھی کہ۵؍دسمبر سے اس مقدمے کی یومیہ سماعت شروع ہونے والی ہے ۔ عدالتی کارروائی کو ٹھینگے پر رکھتے ہوئے انہوں نے ’صرف اور صرف رام مندر کی تعمیر‘ کی بات کہہ ڈالی ۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا انہوں نے یہ بات عدالت پر اثرانداز ہونے کے لئے کہی ؟ ظاہر ہے کہ جب زعفرانی ٹولیوں کو اپنی پناہ میں لینے والے آر ایس ایس کے سربراہ کی طرف سے اس طرح کا بیان آئے گا تو عدالت کو بہت کچھ سوچنا پڑے گا ۔
بابری مسجد کا تفصیلی ذکر آئندہ کی سطروں میں کریں گے پہلے طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی سے متعلق بات پوری کرلیتے ہیں ۔۔۔ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ قانون سازی اس لئے کہ طلاقِ ثلاثہ کی وہ لعنت مکمل طور پر ختم ہوجائے جو مسلم خواتین پر ’ ظلم‘ ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ کے ذریعے ایک ہی نشست کی تین طلاقوں پر پابندی کے باوجود بھی مسلمانوں میں طلاقِ ثلاثہ کی رسم کی برقرار ی کی خبریں آرہی ہیں اس لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کی جائے تاکہ وہ مسلمان عورتیں جو ستائی جاتی ہیں قانون اور پولس کا سہارا لے سکیں ۔
جہاں تک مسلم خواتین کے غم میں مودی سرکار کے دبلے ہونے کا معاملہ ہے تو اس کی حقیقت سارے ملک میں اظہر من السمش ہے ، حال ہی کی بات ہے بلیا میں بی جے پی کی سرکار میں ایک ایسی برقعہ پوش مسلم خاتون کے سر سے جو بی جے پی کی رکن تھی برقع نوچ کر پھینکا گیا ہے ! یہ ہے مودی سرکار کی مسلم خواتین کے غم میں دبلے ہونے کا سچ ۔ یہ معاملہ، بقول آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ’’سیاسی ہے ۔ بی جے پی سرکار 2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں طلاقِ ثلاثہ کو موضوع بنانا چاہتی ہے اسی لئے ابھی سے قانون سازی کی بات کی جارہی ہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا کچھ اثر گجرات کے اسمبلی الیکشن پر بھی پڑے ، اور اسی سبب سے ایودھیا میں صرف اور صرف رام مندر کی تعمیر کی بات بھی ہورہی ہے ۔ ‘‘
اور سچ یہی ہے ،گجرات اسمبلی الیکشن کی ساری مہم کو بی جے پی نے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے ۔ ماب لنچنگ ،تاج محل ، رام یا حج کے نعرے بھی لگائے جارہے ہیں اور ایسے ویڈیو بھی دکھائے جارہے ہیں جو مسلمانوں سے خوف اور نفرت کے جذبات کو پروان چڑھائیں ۔ طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کی پھلجھڑی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔۔۔ اس سلسلے میں ایسی تیزی دکھائی جارہی ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں وزراء کے ایک گروپ نے قانون سازی کے نکات پر غوروخوض کربھی لیا ہے ۔ گذشتہ جمعرات کو ہوئی میٹنگ میں ایک کمیٹی کا قیام بھی کردیا گیا ہے جو غوروخوض کے بعد ’طلاقِ ثلاثہ‘ کو فوجداری کے دائرے میں لاسکتی ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اس تعلق سے ایک سوال کے جواب میں اس اندیشے کا اظہار کیا ’’مجھے لگتا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ کو ایسا جرم بنادیا جائے گا جو ضابطہ فوجداری کے تحت آتا ہو ۔ ‘‘ مسلم پرسنل لاء بورڈ اس سلسلے میں مسلم ممبران پارلیمان ، سیکولر ممبران پارلیمان اور سیکولر سیاسی شخصیات سے ملنے کا منصوبہ بنارہا ہے تاکہ اگر پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں یہ بل لایا بھی جائے تو اس پر ایوان میں گرما گرم بحث ہوسکے اور حکومت کو اس پر ازسرنوغور کرنا پڑے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ایسی قانون سازی کو ’شریعت میں مداخلت‘ قرار دیتے ہیں ۔ اور تقریباً تمام ہی علمائے کرام اس پر متفق ہیں سوائے ان کے جو مودی اور بی جے پی کی گود میں جابیٹھے ہیں ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے ’ ممبئی اردو نیوز ‘ کو بتایا ’’یہ ہمارا مذہبی معاملہ ہے ، یہ ہماری شریعت ہے اس میں ترمیم کا کسی کو حق نہیں ہے ، اور خاص طور پر جب یہ ملک سیکولر ہے ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے حکومت اس فیصلے کے خلاف ہی جارہی ہے ۔ ‘‘۔۔۔ مہاراشٹر کے مفتی اعظم مفتی عزیز الرحمان فتحپوری کا صاف لفظوں میں کہنا ہے ’’قانون سازی شریعت میں کیسے کی جاسکتی ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اسے قبول نہیں کرنا چاہپئے۔ یہ ملک شریعت پر عمل کی آزادی دیتا ہے اس پر پابندی نہیں لگاتا ۔ ‘‘ مفتی عزیزالرحمن یہ تو مانتے ہیں کہ ’’ ایک ہی نشست کی تین طلاقیں ناپسندیدہ ہیں اور قابلِ سزا بھی ،حضرت عمرؓ سے سزا ثابت ہے ، اگر قانون سازی ایک نشست کی تین طلاقوں پر سزا کے تعلق سے ہو رہی ہے تو اس کی گنجائش ہے لیکن اس کے لئے بھی علمائے کرام کے مشورے ضروری ہیں ۔ ‘‘
معاملہ نازک ہے اور یقیناً آنے والے دنوںمیں یہ معاملہ سارے ملک میں موضوع بحث رہے گا ۔ بحث کا موضوع ایودھیا میںجبراً رام مندر کے قیام کی بات بھی رہے گی کیونکہ بقول مولانا سید رابع حسنی ندوی ’’بابری مسجد کو ہم دے نہیں سکتے وہ تو اللہ تعالیٰ کا گھر ہے ، ہماری ملکیت تو ہے نہیں ، اس لئے کسی سے نہ بات کرنے کا سوال ہے نہ اسے چھوڑنے کا۔‘‘(بصیرت فیچرس)