اللہ نے نو رِ مصطفیٰ ؐ کو آدم ؑ کی شکل میں رحمت بناکر ہندوستان کی سرزمین پر بھیجا:مولانا سید جامی اشرف

اللہ نے نو رِ مصطفیٰ ؐ کو آدم ؑ کی شکل میں رحمت بناکر ہندوستان کی سرزمین پر بھیجا:مولانا سید جامی اشرف

ہمیں پیغمبر اسلام ؐکی تعلیمات کی روشنی میں اتحاد اور بھائی چارگی کو فروغ دینا ہے:پرکاش امبیڈکر
خلافت ہائو س میںمنعقدہ عیدمیلاد النبیؐ کے جلسے میں امین پٹیل ،وارث پٹھان ،جاوید جنیجا، رئیس شیخ اور دیگر شخصیات کے ساتھ عاشقان رسولؐ کی کثیر تعداد میں شرکت ،جلوس کی قیادت مولانا سید جامی اشرف اور پرکا ش امبیڈکرنے کی مسلم علاقوں میں جلو س کا استقبال کیاگیا۔
ممبئی:۳دسمبر (فرحان حنیف وارثی) ’’ہم سب کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے ہمیں ہندوستان کی دھرتی پر پیدا فرمایااو ر آج پورے ہندوستان میں کشمیر سے کنیا کماری اور گجرات سے بنگال کی کھاڑی تک ہند مسلم ایک ہو کے نبی پاکؐ کی ولادت کا جشن منارہے ہیں۔ جلو س کی شکل میں منارہے ہیں۔ میرے پیارو تاریخ گواہ ہے کہ میرے آقا ؐ کا نو ر یعنی نو رِ مصطفیٰ آدم ؑ کی شکل میں سب سے پہلے ہندوستان کی دھرتی پر آیا تھا۔ یہ اعزاز ہے ہندوستان کو کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑکی شکل میں نو رمصطفیٰ ؐ کو رحمت بناکر کے ہندوستان کی دھرتی پر بھیجا۔ آج یہی وجہ ہےکہ ساری دنیا کہتی ہے کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمار۔‘‘ ان خیالات کا اظہار آج ممبئی کے خلافت ہائو س میں منعقدہ جشن یو م ولادت نبی کر یم ؐکے جلسے میں مولاناسید جا می اشرف (سجادہ نشین آستانہ سرکار شاہ میران کھم بٹ شریف گجرات) نے کیا۔ انہو ں نے انتہائی جو شیلے انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’’جب چالیس سال کے بعد مکہ سے نبی کر یم ؐ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت پرچم نہیں تھا لیکن آپ ؐ کی آمد کی خوشی اور استقبال میں سارے صحابہ کھجو ر کی ٹہنیاں،اپنے ہاتھوں میںلے کر کھڑے تھے اور جب آپ ؐ کا چہرہ مبارک دور سے نظر آیا تو ساری بچیو ں نے مل کر آپ ؐ کی مدحت کی۔‘‘مولانا سید جامی اشرف نے اس مو قع پر حضرت عامر انصاریؓ کی رہائش گاہ پر محفل میلاد کے اہتمام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ’’ایک مرتبہ آقاؐ حضرت عامر انصاریؓ کے گھر کی طرف سے گزر رہے تھے کہ آپؐ نے دیکھا کہ ان کے گھر کے اندر نبی پاک ؐ کی ولادت کی محفل سجی تھی اور جب آپ ؐ کا ذکر ہوتا تو صحابہ مسکرادیتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور آقاؐ پہ درود سلام پڑھتے ۔ اس کے بعد آقاؐ نے کھڑے ہوکر فرمایا کہ سنیو ں ،عاشقو، قربان جا ئو کہ آج تم میلاد النبی ؐ مناکے جنت کے حقدار بن گئے ہو۔ آقاؐ نے فرمایا اے میرے صحابہ اس وقت اللہ نے جنت کا دروازہ کھو ل دیا ہے اور سارے ملائکہ تم سب کے لیے استغفار کررہے ہیں دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ اے میرے صحابہ جس نے بھی میلاد منایا اللہ نے اس کو جہنم سے آزادی عطافرمادی۔ ‘‘ آل انڈیا خلافت کمیٹی کے زیر نگرانی منعقد ہ اس جشن عید میلا د النبیؐ کے مہمان خصوصی کے فرائض پرکاش یشونت امبیڈکر (چیرمین بھا رپیابہو جن مہا سنگھ)اور صدارت کے فرائض سرفراز آرزو (چیرمین آل انڈیا خلافت کمیٹی ) کے ادا کیے۔ پرکاش یشونت امبیڈکر نے اپنی تقریر کے دوران اپنے دادا ابابا صاحب امبیڈکر کی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور لفظ ہندو کا مطلب بیا ن کیا۔ انہو ں نے کہا کہ اقتدار سے ہم کسی پر راج کرسکتے ہیں لیکن اقتدار سے کو ئی تبدیلی نہیں آتی ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر سماج اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہاہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سیاست کو اہمیت دی جارہی ہے اور سماجی دوستی کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ پرکاش یشونت امبیڈکر نے کر کہا کہ پیغمبر اسلامؐ آخری نبی ؐتھے اور ان کے بعد کوئی نبی ؐ نہیں آنے والا لہذا ہمیں ان کی تعلیمات کی روشنی میں اتحاد اور بھا ئی چارگی کو فروغ دینا ہے۔روزنامہ ’’ہندوستان ‘‘ کے مدیر اور چیر مین سرفراز آرزو نےاپنی نپی تلی تقریر کے دوران ڈاکتر بابا صاحب امبیڈکر کی دور اندیشی کا ذکر کیا جس کی وجہ سے آج دلت سما ج ترقی کی منازل طے کررہاہے۔ انہوں نے مسلم اور بدھشٹ اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہاکہ مسلم دلت اتحاد کے ساتھ ساتھ مسلم بدھشٹ اتحاد کی بھی آج ضرورت ہے۔ کیو نکہ دنیا کی کچھ سیاسی طاقتیں آپسی رنجیش پیداکرنے کی کو ششوں میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے آل انڈیا خلافت کمیٹی ،خلافت ہائوس اور خلافت مو ومنٹ پر بھی مختصر مگر جامع انداز میں روشنی ڈالی۔ اس جلسے کی نظامت کی ذمہ داری مولانا محمد محمود علی خان اشرفی (البرکات ملک محمد اسلام انگلش اسکول کرلا) اور تاج قریشی نے بحسن وخوبی انجام دی جب کہ شرکاء میں ایم ایل اے امین پٹیل ،ایڈوکیٹ وارث پٹھان، جاوید جنیجا ،رئیس شیخ ،منو ج جام ستکر ،مدھو چوہان ، زوہیب بوٹ والا، ڈاکٹر عزیز ساونت ،ابراہیم طائی، اقبال میمن آفیسر ،پروفیسر سعید خان (چور بازار ) ،نصیر پٹھان، مولانا محمد خلیل الرحمن نو ری ، آصف سردار (رحمانی گروپ) ،مولانا محمد الطاف (ماما حاجی علی مسجد کے پیش امام ) اور دیگر شامل تھے۔اس جلسے کے اختتام پر جلوس کا آغاز کیاگیا اور جلوس بائیکلہ، مدن پورہ، ناگپاڑہ،ڈنکن روڈ،مولانا شوکت علی روڈ،جے جے اسپتال ،بھنڈی بازاراور محمدعلی روڈ سے گزر کے شب میں تاخیر سے ختم ہوا۔ جلوس میں خوبصورت جھلکیو ں کی تعداد بھی تھی۔ مسلم علاقوں میں اسٹیج بنائے گئے تھے جہاں جلوس کا استقبال کیا گیا۔ پولیس نے مکمل طور سے مستعدی برتی اور کہیں کو ئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔