جشن آمدرسولﷺ پر ڈی جے بجانا !

جشن آمدرسولﷺ پر ڈی جے بجانا !

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
ایک عزیز کہنے لگے ’رات سو نہیں سکا‘۔
دریافت کرنے پر کہ ’کیوں؟‘ جوب ملا ’رات بھر ڈی جے بجتا رہا‘!
یہ ڈی جے کسی کے یہاں خوشی یا شادی بیاہ یا بچوں کی سالگرہ کے موقع پر نہیں ’جشن آمد رسولﷺ‘ کے موقع پر بج رہا تھا! یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آنے والےسرکار مدینہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں کسی بھی شخص کو تکلیف یا ایذاء پہنچانے کا ایک بھی واقعہ نہیں ملتا ہے مگر خود کو پیغمبر رحمتﷺ کے پیروکار کہنے والے، رسول رحمتﷺ کی آمد کے روز ڈی جے بجا کر لوگوں کو تکلیف اور ایذاء پہنچانے کا سبب بنتے ہیں! بھلا یہ کیسا عشق رسول ﷺ ہے! رحمۃ للعالمین ﷺ سے یہ کیسی محبت ہے!
ڈی جے کی آواز سن کر یقیناً وہ عناصر جو اسلام اور مسلم دشمن ہیں خوش ہوتے ہوں گے۔ خوش شیطان بھی ہوتا ہوگا کہ ڈی جے کے خلاف علمائے دین کی تنبیہ کو نظر انداز کرکے اس کی بات سنی گئی۔ کئی سالوں سے علمائے کرام ’جشن آمد رسولﷺ ‘ کے موقع پر ڈی جے بجانے کی ممانعت کرتے چلے آرہے ہیں؛ وہ بتاتے ہیں کہ ڈی جے کی تیز ترین آواز سے بوڑھوں اور مریضوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے، برادران وطن کو شکایت ہوتی ہے اور یہ کہ ڈی جے ان خرافات میںسے ایک ہے اسلام میں جن کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔مگر علمائے کرام کی یہ باتیں مسلمان ہیں کہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہے ہیں۔ یہ کیسی افسوسناک اور شرمناک بات ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے پردہ فرمانے سے قبل پانچ وقت کی نمازوں پر قائم رہنے کی جو تلقین کی تھی اس کو بھی درکنار کردیاجاتا ہے، عین اذان اور نمازوں کے وقت ڈی جے بھی بجتا رہتا ہے، جلوس بھی۔۔۔۔نماز یں چھوڑ کر۔۔۔۔چلتا رہتا ہے۔ اور نعرہ رسالتﷺ کے نعرے بھی لگتے رہتے ہیں۔
رسول رحمتﷺ کی تمام غریبوں پر خاص رحمت تھی، دل کھول کر صدقہ کیا کرتے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ دل کھول کر مال واسباب اللہ کی راہ میں نکالا کرتے تھے۔ کیا ’جشن آمد رسولﷺ ‘ کے موقع پر حضرت محمدﷺ کی اس سنت پر عمل کرنا جشن منانے کا سب سے بہترین طریقہ نہیں ہوسکتا؟ ہم ذرا اپنے ارد گرد نظریں اُٹھا کر دیکھیں تو بے شمار ایسے افراد نظر آجائیں گے جو دوقت کی روٹی کے بھی محتاج ہیں کیا عید میلادالنبیﷺ کے روز ان کی حاجتوں کو پورا کرنا نبی رحمتﷺ کو خوش اور اللہ کو راضی کرنے کا سب سےبہترین ذریعہ نہیں بن سکتا؟ کیا ہم اس روز اللہ کے رسولﷺ کے اخلاق کو اپناکر سارے ملک میں برادران وطن تک اسلام کے اس چہرے کو ، جو لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچتا ہے، پیش نہیں کرسکتے؟ بہت سے کام ہم کرسکتے ہیں مگر ہمیں ڈی جے بجانے سے فرصت ملے تب نہ!
اللہ ان علمائے دین کو جو ڈی جے اور دیگر خرافات کے خلاف بولتے ہیں جن میں حضرت سید معین الدین اشرف المعروف معین میاں سرفہرست ہیں مزید استقامت دے کہ وہ خرافات کے خلاف بولتے رہیں۔ ایک نہ ایک دن تو لوگوں کو ہوش آئے گا اور وہ واقعی عشق رسولﷺ میں ڈوب کر خرافات سے باز آجائیں گے۔
(بصیرت فیچرس)