بابری مسجد کی شہادت کے ۲۵؍شرمناک سال!

بابری مسجد کی شہادت کے ۲۵؍شرمناک سال!

کیا اڈوانی اینڈ کمپنی کو کبھی سزے ملے گی؟
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
آج سے ٹھیک تین روز بعد ’شرمناک دن‘ کے ۲۵؍سال مکمل ہوجائیں گے۔
ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی ڈھائی دہائیاں تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ ۲۵؍سال کی مدت کم نہیں ہوتی مگر اتنے دنوں کے بعد بھی بابری مسجد کی شہادت کی ’واردات‘ یا ’واقعہ‘ بھلایا نہیں جاسکا ہے؛ وہ دن آج بھی، صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں اس ملک کے جمہوریت اور انصاف پسند برادران وطن کی ایک بڑی اکثریت کے لیے بھی ہرا کا ہرا ہے بلکہ انہیں مضطرب او ربے چین کیے ہوئے ہے۔ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کے روز اس ’یرقانی ٹولے‘ یا بالفاظ دیگر ’سنگھی عناصر‘ کے، جس نے ملک کی تہذیب اور بھائی چارے او رملک کی تاریخ کے ساتھ ’شرمناک کھلواڑ‘ کھیلا تھا کئی کردار تو لقمہ اجل ہوچکے ہیں جیسے کہ اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا رائو، اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ شنکر رائو چوان او ربابری مسجد کو شہید کرنے کے لیے اپنی ’سینا‘ بھیجنے وا لے بال ٹھاکرے۔ مگر کئی کردار آج بھی حیات ہیں، ان میں تین کردار بڑے ہی اہم ہیں: لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی۔ ایک اہم کردار او ربھی ہے مگر وہ ’زندہ‘ ہوتے ہوئے بھی ’زندوں‘ جیسا نہیں ہے: سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی۔ یہ سب وہ کردار ہیں جنہیں لبراہن کمیشن نے بابری مسجد کے ’ملزمان‘ کی فہرست میں سب سے اوپررکھا ہے۔
ایودھیامیں ۶؍دسمبر کو جو ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سارے ’مجرم‘ جگ ظاہر ہیں مگر یہ آج تک بچتے چلے آئے ہیں۔ بلکہ یہ اقتدار کی اعلیٰ کرسیوں پر متمکن رہے ہیں۔ آج بھی مرکز میں یرقانی ٹولے ہی کی حکمرانی ہے۔ یہ ٹولہ آج بھی، جبکہ ۵؍دسمبر سے سپریم کورٹ میں ’املاک‘ کے تعلق سے یومیہ سماعت ہونی ہے اور بابری مسجد کی ملکیت کے تعلق سےسماعت ہونی ہے۔اور لکھنو میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے کی سماعت جاری ہے، سرگرم ہے کہ کسی طرح ایودھیا میں، بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوجائے۔ ان دنوں جبکہ گجرات اسمبلی کے الیکشن سر پر ہیں سنگھ پریوار او ربی جے پی کے رہنما رام مندر کی تعمیر کا شور مچائے ہوئے ہیں۔ سبرامنیم سوامی گلا پھاڑ رہے ہیں۔ شری شری روی شنکر بھی ایک کردار کے طو رپر سامنے آئے ہیں؛ یہ پہلے بھی اس قضیے میں کودے تھے اور مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے چھوڑ دیں۔۔۔ مگر مسلمان اور مسلم تنظیمیں بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمعیۃ علمائے ہند اور سنی وقف بورڈ عدالتی فیصلہ قبول کرنے کے علاوہ کسی اور ’کھلواڑ‘ کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ مجرمانہ سازش کے مقدمے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس سوال کا ابھی کوئی جواب تو نہیں دیاجاسکتا، مگر اتنا تو یقینا کہا ہی جاسکتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت سازش ہی تھی۔ اس سازش اور مقدمے پر بات کرنے سے قبل آپ کو ایک تصویر دکھاناچاہیں گے؛ تصویر۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء کی ہے۔
ایک ایسی تصویر جو شرمناک بھی ہے‘مکروہ بھی اورجس سے ملک کی ایک بہت بڑی بلکہ سب سے بڑی اقلیت کے خلاف نفرت کااظہار بھی عیاں ہے اوریہ گھمنڈ بھی نظرآرہا ہے کہ ’ہم جو چاہیں گے کریں گے تم لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکوگے۔‘یہ تصویر ملک کی’بے شرمی‘اور’بے غیرتی‘کی علامت ہے۔تصویر شہید بابری مسجد کے دو’مجرموں ‘کی ہے اوریہ اس وقت اُتاری گئی تھی جب کارسیوک بابری مسجدکے گنبدوں پر چڑھے ہوئے تھے اورانہوں نے پہلا گنبدگرا دیاتھا۔تصویر میں آج کی مرکزی وزیر اوما بھارتی کل کے مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی کی پیٹھ پر تقریباً لدی ہوئی نظرآرہی ہیں‘دونوں کے ہی ہونٹوں پر’مسکراہٹ‘ہے۔ایک ایسی مسکراہٹ جس میں فتح کانشہ،طاقت کاگھمنڈاورزعم اورمسلمانوں سے نفرت کا کھلا اظہار سب کچھ نظرآرہا ہے۔آج یہ مسکراہٹ والی تصویر یرقانی ٹولے کی ’بے شرمی‘اور’بے غیرتی‘کی پہچان بن گئی ہے۔تصویر میں ملک کے سابق وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی نظر نہیں آرہے ہیںمگرجس وقت یہ تصویر کھینچی گئی تھی وہ قریب ہی موجودتھے۔۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کی’سیاہ تاریخ‘کو جب ڈیڑھ سے دولاکھ کی تعداد میں جمع کارسیوکوں سے خطاب کرنے کے لیے اڈوانی پہنچے تھے توان کا پُرجوش خیر مقدم ہواتھا….اور ہوتابھی کیوں نہ!یہ اڈوانی ہی تھے جو ان تمام کارسیوکوں کےایودھیامیں جمع ہونے کا محرک تھے۔یہ ان کی ’رتھ یاترا‘ہی تھی جس نے سارے ملک کو ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک اس طرح سے ’دھارمک جنون‘میں مبتلا کردیاتھا کہ لوگ منھ اٹھائے ایودھیا کی طرف بڑھتے چلے گئے تھے۔
اوریہی وہ یادداشت ہے جس نے کچھ تفتیشی افسران کوبھی بے چین رکھا ہے اورعدلیہ کو بھی اورملک کے ضمیر کو بھی اوراسی لیے سپریم کورٹ یعنی ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ دیا کہ ۱۷؍سال قبل ۴؍مئی ۲۰۰۱ء کے روز یوپی کی سیشن کورٹ نے اڈوانی،جوشی،اوما بھارتی اورونئے کٹیار سمیت جن افراد پر سے بابری مسجدکی شہادت میں، جس مجرمانہ سازش کے الزام کا مقدمہ ختم کیاتھا وہ مقدمہ ان پر دوبارہ شروع کیا جائے۔سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ۲۰۱۰ء کے اس حکم کو کہ ’شہید بابری مسجد کے ملزمین پر سے مجرمانہ سازش کامقدمہ ختم کرنے کافیصلہ درست ہے‘ردکردیاہے۔سپریم کورٹ نے ان ’تکنیکی خامیوں‘کو جن کی بنیادپر مقدمہ ختم کردیاگیاتھا ‘بابری مسجدکی شہادت کو’قومی شرم‘قرار دیتے ہوئے مستردکردیا۔یعنی اڈوانی اینڈ کمپنی کی’مجرمانہ سازش‘کی وہ فائل جو بڑی ہی ہوشیاری اورعیاری سے بند کی گئی تھی پھر سےکھول دی ہے۔
سیاسی پنڈتوں کاکہنا ہے کہ مجرمانہ سازش کامقدمہ پھر کھلنے سے وزیر اعظم نریندرمودی اوربی جے پی ہی کو فائدہ پہنچے گا!ممکن ہے ‘مگراس کایہ مطلب تو نہیں کہ’ملزمین ‘کوآزاد چھوڑدیا جائے!بات چاہے بابری مسجدکے تالوں کو توڑنے سے شروع کی جائے یااسکی شہادت سے ’سنگھ پریوار‘یعنی آر ایس ایس اوراس کی ذیلی تنظیموں وشواہندوپریشد،بجرنگ دل وغیرہ اوراس کی سیاسی ونگ بی جے پی اور اس کے نظریے کو قبول کرنے والی سیاسی پارٹیوں جیسے کہ شیوسینا وغیرہ کا اس ’تنازعے‘میں ہاتھ شروع ہی سے واضح ہے۔ایودھیا میں بابری مسجد کے احاطے میں ’رام للا‘کے ’پرکٹ‘کرائے جانے کی ’سازش‘اب سامنے آچکی ہےاوریہ بھی سامنے آچکا ہے کہ سنگھ پریوار نے بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیر کاسارا کھڑاگ ملک پر اقتدار کے حصول کے لیے پھیلایاتھا۔۱۹۸۹ءاور اس کے بعدمیں دورتھ یاترائیں شروع ہوئی تھیں،ایک رتھ یاترا مرلی منوہر جوشی کی تھی،اوردوسری اڈوانی کی۔جوشی کی رتھ یاترا اڈوانی کی رتھ یاترا کے مقابلے پھیکی تھی کیونکہ اڈوانی نے اس رتھ یاترا کو اپنی بھی اوربی جے پی کی بھی سیاسی زندگی کو عروج پر پہنچانے کاذریعہ بنایاتھا۔رتھ یاترا گجرات کے سومناتھ مندر سے شروع کی گئی تھی‘اس کامقصد یہ پیغام دیناتھا کہ ’’جس طرح محمودغزنوی کے ہاتھوں تباہ وبرباد کیے گئے سومناتھ مندرکی تجدید کاری ہوئی ہے اسی طرح بابر کے ہاتھوں بتاہ وبرباد کیے گئے رام جنم استھان کی وہاں جبراً بنوائی گئی بابری مسجدکو ڈھا کرتجدید کاری کی جائے گی۔‘‘رتھ یاترا منصوبہ بند تھی،ملک کے ہندوؤں کو متحد کر کے ایودھیا بھیجنا اس کا مقصدتھا۔اس کے لیے جگہ جگہ اڈوانی نے انتہائی اشتعال انگیزتقریریں کیں،تقریر یں ایسی زہریلی تھیں کہ رتھ یاترا جہاں سے گذری وہاں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئیں،سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ان جھڑپوں میں ۵۵۰؍لوگ مارے گئے۔اسی لیے یہ ’خونی رتھ یاترا‘کہلائی ۔بہار میں لالوپرساد یادو نے تواس ’خونی رتھ یاترا‘کو روک دیامگر مرکز کی کانگریسی حکومت ہمیشہ کی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔
مذکورہ پس منظر میں ایودھیا کی وہ تحریک منظم ہوئی جس کانتیجہ۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کے روزایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت نکلا۔مسجدشہید کی جائے گی اس کی پوری منصوبہ بندی تھی۔یوپی کی کلیان سنگھ اورمرکز کی نرسمہا راؤکی سرکاریں اس وقت بھی خاموش بیٹھی تھیں جب’اسپیشل ٹرینوں‘سے کارسیوکوں کےجتھے ایودھیا پہنچنا شروع ہوئے تھے۔فیض آباد،سٹی اورایودھیا کے اسٹیشنوں پر کارسیوکوں کا’سواگت‘وی ایچ پی اورآر ایس ایس کے رضا کارکر رہے تھے۔ایودھیا میں سڑکیں دوکانو ںے سج گئی تھیں۔’رام کتھا کنج‘میں سنگھی اوربھاجپائی لیڈروں نے قیام کا انتظام کرلیاتھا اورروزانہ کارسیوکوں کو ’بھاشن ‘دیا جاتااورانہیں بابری مسجد کو’گرانے‘کی ’تربیت‘دی جاتی تھی۔رام کتھا کنج کے ٹیلے پر تربیت کے لیے لوگ جمع ہوتے تھے۔بابری مسجد کی شہادت سے ایک روز قبل ۵؍دسمبر۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کی شہادت کے لے آخری مگر’عملی تربیت‘دی گئی۔بابری مسجد سے ملحق قبرستان پر دھاوا بولاگیا،قبروں اورروضوں کو مسمار کر کے ۱۸ویں صدی کے صوفی بزرگ قاضی قدوہؒ کی درگاہ کو منہدم کردیاگیا۔مگرآنکھیں نہ انتظامیہ کی کھلیں،نہ کلیان سنگھ حکومت کی اورنہ نرسمہاراؤسرکارکی۔یہ صاف ظاہر ہے کہ سب کی ملی بھکت تھی۔۶؍دسمبر کے روز اڈوانی ایودھیا میں موجودتھے۔جوشی بھی تھے اوراوما بھارتی بھی تھیں۔تفتیش کاروں کے مطابق اس وقت کے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ونئے کٹار کے فیض آباد کے مکان پر ایک’خفیہ میٹنگ‘پہلے ہی ہو چکی تھی جس میں ’لائحہ عمل‘طے کرلیاگیاتھا۔اورتفتیش کاریہ بھی بتا چکے ہیں کہ شہادت سے قبل شب میں لکھنؤ میں اٹل بہاری واجپائی یعنی ملک کے سابق وزیر اعظم سے بھی بھاجپائی اورسنگھی لیڈروں کی ملاقات ہو چکی تھی اورواجپئی نے بھی ہری جھنڈی دکھادی تھی۔گویا یہ کہ سب کچھ پوری منصوبہ بندی سے ہورہاتھا۔
۶؍دسمبرکو کوئی گیارہ بج کر۵۰ منٹ پر کارسیوکوں نےمظلوم بابری مسجد کی دیواروں اورگنبدوں پر چڑھنا اوراسے شہید کرنا شروع کیا۔اس سے قبل رام کتھا کنج کے قریب بنے اسٹیج سے اڈوانی بے حد اشتعال انگیز تقریر کرچکے تھے۔اومابھارتی نعرے لگارہی تھیں ’ایک دھکا اور دو بابری ڈھانچہ توڑدو‘ ۔ ایک بجے بابری مسجد کا پہلا گنبد شہید ہوا اور دوپہر کے ۳بجکر ۴۵منٹ تک ساری مسجدشہید کردی گی۔یہ اتوار کادن تھا۔اس روز ملک کے آئین کے معمارباباصاحب امبیڈکر کی برسی بھی تھی۔جو تاریخ’یوم آئین‘ہوناتھی وہ’یومِ شرم‘بن گئی۔یہ کہا جاتاہے کہ اڈوانی نے کارسیوکوں کو بابری مسجد کے گنبدوں اورچھت سے اتارنے کی کوشش کی تھی۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ انہوں نے سادھوی اومابھارتی کوبھیجاتھا کہ وہ کارسیوکوں کو سمجھائیں۔اگرایسا ہے بھی توبھی یہ سوال اپنی جگہ برقرارہے کہ کیایہ اڈوانی ہی نہیں تھےجنہوں نے کارسیوکوں کوایودھیا میں جمع کیاتھا؟کیا انہوں نے کارسیوکوں کو اکسانے والی تقریر نہیں کی تھی؟اورکیا یہ اوما بھارتی نہیں تھیں جو’بابری ڈھانچہ توڑدو‘کے نعرے لگارہی تھیں؟جو ہنستے ہوئے جوشی کی پیٹھ پر لدی ہوئی تھیں؟سب کچھ صاف ظاہر ہے جیسا کہ اوما بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعے مجرمانہ سازش کامقدمہ پھر سے شروع کرنے کے فیصلے کے بعدکہہ چکی ہیں کہ’ہم نے توسب کچھ کھلم کھلا کیا۔‘اس روز یعنی ۶؍دسمبر کو اڈوانی کو بابری مسجد کی فکر نہیں تھی انہیں کارسیوکوں کے تحفظ کی فکر تھی۔وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ شہادت کے عمل میں کارسیوک زخمی ہوں یا اوپر سے گرکر مر جائیں۔اڈوانی کے سابق مشیرسدھیندرکلکرنی،جوآج خودکو’گاندھیائی فکر‘کاقرار دیتے ہیں’مجرمانہ سازش‘کے مقدمے کی دوبارہ شروعات سے ’صدمے‘میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اڈوانی کو بابری مسجد کی شہادت کا بے حد غم تھا۔ممکن ہے یہ سچ ہو،مگر جس غم کی بات سدھیندرکلکرنی کر رہے ہیں وہ بابری مسجد کی شہادت کانہیں ہو سکتا کیونکہ اڈوانی تو رام مندرکی تحریک کا’بنیادی چہرہ‘تھے،ہاں یہ غم ممکن ہے رہا ہو کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعدان کے اوربی جے پی کے ہاتھ سے ایک ایسا’تیر‘نکل گیاہے جس کاوہ اب تک سیاسی مقاصدکے لیے استعمال کرتے آئے تھے۔مگر اڈوانی ایک طرح سے کامیاب تھے کہ وہ ملک کے وزیر داخلہ بنے،واجپئی وزیر اعظم اوربابری مسجد شہید کرنے والی سیاسی پارٹی بی جےپی کاملک میں اقتدار قائم ہوگیا۔
پرکہاجاتاہے کہ’وقت پلٹ کرآتاہے‘وہ گناہ جو بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ایک ایسے وقت پر سامنے آکھڑے ہوتے ہیں جب گنہ گارکو اس کی امید بھی نہیں ہوتی۔مگر یہی اللہ کی سنت ہے۔بابری مسجد کی شہادت میں جن جن کاکردار تھا وہ سب کسی نہ کسی شکل میں ’گرداب‘میں ہیں۔نرسمہاراؤکی لاش کتوں نے نوچی۔واجپئی ایسے مریض بنے کہ نہ زندہ میں ہیں نہ مردہ میں۔اڈوانی اورجوشی سیاسی طور پر ذلیل کئے گئے اوراب ’مجرمانہ سازش‘کامقدمہ جھیلیں گے۔ان کے ساتھ اوما بھارتی ،ونئے کٹیاروغیرہ بھی ہیں۔اڈوانی کی رتھ یاترا نے سینکڑوں افراد کی جانیں لی تھیں،بابری مسجد کی شہادت کے بعدکارسیوکوں نے ایودھیا میں ۱۴؍مسلمانوں کوقتل کیااورجلایاتھا ،ڈھائی سو سے زائد مکانوں کوپھونک دیاتھا،قبروں ،روضوں اورمسجدو ں کو مسمار کیاتھا۔ممبئی سمیت سارے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جن میں ڈھائی تین ہزارافراد مارے گئے تھے اورکروڑوں روپیوں کی املاک اورکاروبارتباہ وبرباد ہواتھا۔لوگوں کے خون سے اڈوانی اینڈکمپنی کے ہاتھ سرخ ہیں،انہیں جوابدہ توہونا ہی ہے….مقدمہ چلے گا اوربہت کچھ سامنے آئے گا۔عدلیہ نے اگرانصاف کیاتواڈوانی اینڈکمپنی کو سزاہوگی کیونکہ ۶؍دسمبر کاسارا واقعہ ایک’سچ‘کی طرح عیاں ہے۔اوراگرانصاف نہ ہواتوبھی مسلمانوں کاکیابگڑنے والاہے،نقصان میں ملک ہی رہے گا،ملک کاسیکولرازم ،جمہوریت اورملک کی عدلیہ پرہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک بے حدگہرا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
(بصیرت فیچرس)