طلاق ثلاثہ پر مجوزہ قانون ظالمانہ اور جابرانہ

طلاق ثلاثہ پر مجوزہ قانون ظالمانہ اور جابرانہ

دارالعلوم دیوبند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سخت رد عمل
دیوبند؍حیدرآباد۲؍ نومبر (رضوان سلمانی اور ایجنسیاں)مرکزی حکومت ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کے خلاف سزا کے سلسلہ میں جو بل لانے جارہی ہے اس کو دارالعلوم دیوبند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شریعت میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ قانون جبریہ طو رپر نافذ ہوتا ہے تو اس کو ظالمانہ اور جابرانہ قانون قرار دیا جائے گا۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مرکزی حکومت کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے خلاف بنائے جانے والے قانون کو غیرضروری اور دستور ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اگر اسلامی علوم کی مہارت رکھنے والے افراد سے صلاح مشورہ کئے بغیر کوئی ایسا قانونی مسودہ تیار کرتی ہے جس میں طلاق دینے والے کے خلاف سزا کا التزام کیا جاتا ہے تو اس قانون میں مبالغہ ، ابہام اور اغلاط کے بے شمار امکانات موجود رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق خالص ایک مذہبی مسئلہ ہے اس میں حکومت کو بزعم طاقت مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق دینے والے کے خلاف اگر کوئی قانون بنتا ہے اس قانونی مسودے میں اگر طلاق کے عدم نفاذ کی کوئی شق شامل کی جاتی ہے تو وہ قطعی ناقابل قبول ہوگی، ایک شخص اگر ایک نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ شریعت اسلامی کی روشنی میں بہرحال تین طلاق واقع ہوجائے گی اس لئے اگر مجوزہ قانون کے مطابق یہ مان لیا جائے کہ طلاق سرے سے نافذ ہی نہیں ہوگی تو یہ سراسر غلط ہوگا ، اس لئے قانون سازی کے وقت اس بات کو فراموش نہ کیا جائے کہ تین طلاق ناپسندیدہ ہونے کے باوجود بہرحال نافذ ہوجائے گی ۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ طلاق کا ہوجانا اور اس کا ناپسندیدہ ہونا دو الگ الگ جزو ہیں اس لئے قانون سازی سے قبل حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مجوزہ بل کا مسودہ اسلامی علوم پر دسترس رکھنے والے افراد کے پاس مشورہ کے لئے ضرور بھیجے، خاص طور پر ارباب مدارس اور علمائے کرام سے اس سلسلہ میں رائے طلب کرنا بھی ضروری ہے، بالخصوص مسلم پرسنل لاء بورڈ کو قانون سازی سے قبل اعتماد میں لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنی کثرت اور قوت کے زعم پر اس قانون کو منظور ونافذ کرتی ہے تو یہ مسلمانوں پر تھوپا گیا ایک جبری قانون ہوگا جس کو کالے قانون سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔  آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے سکریٹری وترجمان مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہاہے کہ حکومت نے ’’مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میریج‘‘کی تفصیلات توواضح نہیں کی ہے؛لیکن حکومت کی طرف سے یہ بات آئی ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ کوغیرقانونی قراردے گی،اوراس کی وجہ سے شوہرکوتین سال جیل کی سزاہوگی،یہ مجوزہ قانون شریعت میں مداخلت بھی ہے اورعورتوں کے لئے نقصاندہ بھی،تین طلاق دینااسلام میں ناپسندیدہ ہے اوردمسلم پرسنل لابورڈ ایسے واقعات کوکم کرنے کے لئے مسلسل اصلاح معاشرہ اورتفہیم شریعت کی تحریک چلارہاہے؛لیکن بہرحال یہ مذہبی مسئلہ ہے،تین طلاق کے واقعات کوکس طرح روکاجائے اوراس پرشوہرکوتنبیہ کاکیاطریقہ ہو؟اس سلسلہ میں حکومت کومسلمانوں کے معتبرمذہبی قائدین بالخصوص آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈسے مشورہ کرناچاہئے؛تاکہ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس کاحل ڈھونڈاجاسکے،طلاق دینے والے شوہرکوتین سال کے لئے جیل بھیج دیناخودعورتوں کے مفادمیں نہیں ہوگا،اگرمطلقہ کے بچے ہوں توان کے نفقہ کی ذمہ داری اسی مردپرہے،اگروہ جیل چلاگیا توان بچوں کی کفالت کس طرح ہوگی؟اس کادوسرانقصان یہ ہوگاکہ جولوگ طلاق دیناچاہتے ہیں ،وہ طلاق تونہیں دیں گے؛لیکن یوں ہی بیوی کولٹکاکررکھیں گے،نہ اس کوازدواجی حقوق مل سکیں گے ،اورنہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے کے لئے آزادرہ سکیں گے،اس کے علاوہ اگرحکومت سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے مطابق تین طلاق کونامعتبرقراردیتی ہے توپھرمردکوسزادینابے معنی ہوگا؛کیوں کہ جب طلاق پڑی ہی نہیں توپھرسزاکس بات کی؟اوریہ بات بھی پیش نظررکھنی چاہئے کہ اگرسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے مطابق طلاق کوبالکل نامعتبرقراردیاگیاتوعورت سخت دشواری میں پڑ جائے گی؛کیوں کہ قانون کی نظرمیں وہ طلاق دینے والے مردکی بیوی سمجھی جائے گی،اورمسلم سماج اس کوبیوی تسلیم نہیں کرے گا،اس سے بڑی پیچیدگی پیداہوگی؛اس لئے اگرحکومت واقعی تین طلاق دی جانے والی خواتین کے مسائل کوحل کرناچاہتی ہے تواسے مسلم پرسنل لابورڈ ،مذہبی تنظیموں اورمسلم سماج کی معتبرمذہبی شخصیتوں سے مشورہ کرناچاہئے،اورعجلت میں کوئی ایساقدم نہیں اٹھاناچاہئے جس سے دستورکے تقاضے مجروح ہوں،اورمسلمانوں کے مذہبی حقوق میں مداخلت کی صورت پیداہو۔